Site icon المرصاد

آخری زمانے کے فتنے اور اسلامی نظام کی ذمہ داریاں!

آخری دور ہے، زمانہ آخری مراحل میں ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا قیامت کی علامت/آخری دور ہے۔ ہم اس تحریر میں اسی پر بات کرتے ہیں کہ آخری زمانے کی نشانیاں اور موجودہ وقت میں سامنے آنے والے فتنے کون سے ہیں اور ان کے مقابلے میں اسلامی نظام کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟

احادیث میں آخری زمانے کے آثار صرف خبر دینے کے لیے نہیں بلکہ ان کے حوالے سے تیاری کے مقصد سے بیان کیے گئے ہیں اور یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا مومنین پر عظیم احسان ہے۔

امارت اسلامیہ کو چاہیے، کہ جس کے ذمے ایک اسلامی حکومت ہے، کہ معاصر فتنوں کے مقابل چند اہم شعبوں میں عملی اقدامات اٹھائے۔ ذیل میں چند فتنے اور نظام کی ذمہ داریاں پیش کی جا رہی ہیں:

*۱: حق اور باطل کا گڈمڈ ہونا*

بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ آخر الزماں میں فتنوں کی بہتات ہو گی، اتنے فتنے ہوں گے کہ حق اور باطل گڈمڈ ہو جائیں گے اور لوگ دین سے منہ موڑ لیں گے۔

اسلامی نظام کی ذمہ داریاں:
۱:- اسلامی نظام کو عقیدے کی خالصیت برقرار رکھنے کے لیے علماء اور روحانی پیشواؤں کا کردار مزید فعال اور مضبوط کرنا چاہیے۔
۲:- تعلیم و تربیت کے نصاب میں صحیح عقیدے اور فتنوں کی شناخت کے موضوعات شامل کرنے چاہیے۔
۳:- باطل فرقوں اور گمراہ کن افکار کی شناخت اور روک تھام کے لیے منظم پروگرام منعقد کرنے چاہییں۔

*۲: فکری اور اعلامی فتنوں کا ہجوم*

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ آخر الزماں کے بیشتر فتنے سننے، دیکھنے اور بات کرنے کے ذریعے پھیلتے ہیں۔

اسلامی نظام کی ذمہ داریاں:
۱:- میڈیا اور انٹرنیٹ کے کنٹرول اور پالیسی کو سخت کرنا۔
۲:- فحاشی اور فکری فساد کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اٹھانا۔
۳:- اسلامی دعوت اور اسلامی میڈیا کو مضبوط کرنا تاکہ امت کے ذہنوں کی حفاظت ہو۔

*۳: ظلم اور خیانت کا عام ہونا*

احادیث میں آیا ہے کہ آخر الزماں کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ظلم عام ہو جائے گا اور امانت میں خیانت شروع ہو جائے گی۔

اسلامی نظام کی ذمہ داریاں:
۱:- عدلیہ اور قضایی اداروں کو بدعنوانی سے پاک رکھنا۔
۲:- ہر عہدے کے لیے امانت اور اہلیت کی شرط کو عملی طور پر نافذ کرنا۔
۳:- شفافیت اور کنٹرول کا نظام قائم کرنا اور ان کا مکمل نفاذ یقینی بنانا۔

*۴: کافروں کے ساتھ بڑی جنگیں اور یہود سے مقابلہ*

احادیث میں آخر الزماں کی بعض نشانیاں کافروں کے ساتھ بڑی جنگیں، یہود سے مقابلہ اور باطل قوتوں کا متحد ہونا بتائی گئی ہیں۔

اسلامی نظام کی ذمہ داریاں:
۱:- اسلامی فوج، سکیورٹی فورسز اور عوام کی دفاعی تربیت اور فوجی سازوسامان کو مضبوط کرنا۔
۲:- عوام میں ایثار و قربانی کی روح کو زندہ رکھنا اور شہادت کا جذبہ اجاگر کرنا۔
۳:- نفیر عام کے لیے زمین اور افکار تیار کرنا۔

*۵: معاشی محاصرہ اور بھوک کا ذکر*

احادیث میں آخری زمانے کے فتنوں میں کافروں کی طرف سے معاشی محاصرہ اور بھوک کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

اسلامی نظام کی ذمہ داریاں:
۱:- مقامی پیداوار کو مضبوط کرنا۔
۲:- بیرونی امداد کے بجائے اندرونی وسائل پر انحصار کرنا۔
۳:- اسلامی معاشی نظام قائم کرنا اور اس کے نفاذ کے لیے ایک منظم اور جدید میکانزم بنانا۔

*۶۔ نااہل مفتیوں کا بڑھنا*

احادیث میں آیا ہے کہ آخری زمانے میں لوگ علماء (محققین اور مدققین) سے منہ موڑیں گے اور جاہلوں سے فتوے لیں گے۔

اسلامی نظام کی ذمہ داریاں:
۱:- اہل اور مخلص علماء کی حمایت کرنا اور ان کی رائے سننے کا نظام قائم کرنا۔
۲:- دینی مشوروں کے مراکز قائم کرنا، ان کی مالی معاونت، انتظام اور فعال رکھنا۔
۳:- جاہل مفتیوں اور علماء پر کنٹرول اور اہل و برجستہ علماء کی شہرت کے لیے عملی اور قابل نفاذ منصوبہ بنانا۔

ہم ان چند فتنوں کے ذکر پر ہی اکتفا کرتے ہیں، کیونکہ یہ فی الحال عام ہیں، بہت زیادہ ہیں، اجتماعی ہیں اور حاکمیت کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ رب العباد پوری امت مسلمہ کو اپنی رحمت سے ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔

Exit mobile version