تاریخ کے صفحات ہمیشہ اُن قوموں کے نام روشن رکھتے ہیں جنہوں نے آزادی کے راستے میں قربانیاں دیں؛ افغان اسی فخر کی حامل قوم ہے؛ ایسی قوم جس نے کبھی غلامی کا طوق اپنے گلے میں نہیں ڈالا اور ہمیشہ اپنے عزت، ناموس اور وطن کی حفاظت کے لیے دل و جان سے خون دیا ہے۔
بگرام بیس، جو پہلے بیرونی غاصبوں اور فوجی حملوں کی علامت سمجھی جاتی تھی، افغان قوم کے خون، بہادری اور نہ تھمنے والی ارادے کے سامنے رسوا ہو کر شکست کی کہانی بن گئی۔ وہ بیس جس پر ظالموں کی نظریں ٹکی تھیں، افغان کے ایمان اور حوصلے کے سامنے بے بس ثابت ہوئی۔
افغانوں نے اپنی تاریخ میں ہر جارح کو دکھایا کہ یہ سرزمین اور اس کے پہاڑ صرف آزادی کے سورج کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، نہ کہ اغیار کی بیڑیوں کو؛ سکندرِ مقدونی سے لے کر برطانیہ، سوویت یونین اور پھر امریکہ تک، ہر ایک نے کوشش کی کہ افغانوں کے کندھوں کو اپنے اقتدار کے سامنے جھکا دیں، مگر سب شرمناک طریقے سے ناکام ہوئے۔
بگرام کی بیڑیوں کی کہانی بھی اسی تاریخ کا حصہ بن گئی؛ وہ جگہ جہاں مظلوم قیدیوں کی فغاں، بمباری کا شور اور خون کے قطرے گواہ تھے، آخرکار افغان بہادری کی بدولت دشمن کی رسوائی کا منظر بن گئی؛ افغانوں نے کبھی موت سے خوف محسوس نہیں کیا، بلکہ موت نے ان کے لیے زندگی کا سب سے بڑا مطلب پیدا کیا۔
انہوں نے قربانیاں دیں، گھر برباد ہوئے، بچے شہید ہوئے، مگر بیرونی تسلط کے سامنے سر نہیں جھکایا؛ ہر شہید کا خون دوسرے افغان کی رگوں میں مزاحمت کا شعلہ بن گیا اور ہر بکھرے ہوئے گھر کی خاک سے آزادی کی صدا بلند ہوتی رہی۔
ٹرمپ اور اس کے سیاسی حامیوں نے اپنے حساب کتاب میں بڑی غلطی کی؛ وہ سمجھتے تھے کہ ٹیکنالوجی کی قوت، ڈالرز کا بہاؤ اور بموں کی بارش افغانوں کے عزم کو شکست دے سکتی ہے۔ مگر جب بگرام کے دروازے بند ہوئے تو دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایمان ٹینکوں کی فولاد پر اور ارادے کی طاقت بموں کی بارش پر غالب رہتی ہے۔
افغان تاریخ کا جوہر ہمیشہ آزادی کا ترانہ رہا ہے۔ تلوار، کلاشنکوف، پتھر اور اپنے ہاتھوں کی قوت سے اس قوم نے ہر وقت دشمن کو ذلت کا مزہ چکھایا — یہی ایمان اور غیرت تھی جس نے بگرام کی تاریک دیواروں کے پیچھے شکست کی گونج پیدا کی۔
افغان اپنے شہداء کے خون کو کبھی فراموش نہیں کرتے؛ وہ خون کی لکیروں میں آزادی کے نشان تلاش کرتے ہیں اور تاریخ کی ہر قربانی کے ساتھ عزت کا پرچم بلند کرتے ہیں۔ اس قوم نے غلامی کے ہر بندھن کو اپنے ہاتھوں کی طاقت سے چکنا چور کیا ہے۔
بگرام محض ایک فوجی اڈہ نہیں تھا؛ یہ غرور کے ٹوٹنے کا محاذ تھا، ایک ایسی جگہ جس نے دنیا کو پھر ثابت کیا کہ افغان بیرونی قوت کے سائے میں پناہ نہیں لیتا، بلکہ اپنے خون میں اپنا مستقبل روشن کرتا ہے۔
اور اب ہم ٹرمپ سے کہتے ہیں: وہ رسوائی، وہ شکست، وہ شرم اور وہ تاریخی بدنامی جس کا تم نے افغان قوم کے ساتھ تعامل میں تجربہ کیا، وہ تمہارے لیے عبرت ہونی چاہیے۔ افغان عزم کے سامنے تمہاری طاقت ریت کے مندر کی مانند ہے — ایک جھونکے میں بکھر جائے گی۔ تم نے ایک بار شکست کھائی؛ وہی کافی ہے۔ دوبارہ وہی غلطی نہ کرنا، کیونکہ افغان قوم تمہیں تاریخ کے سامنے پھر رسوا کن انداز میں شکست دے گی۔

