Site icon المرصاد

آزاد کشمیر یا فوجی سرگرمیوں کا میدان؟

کشمیر دنیا کے ان چند خطوں میں سے ایک ہے جو جیو پولیٹیکل لحاظ سے انتہائی اسٹریٹجک مقام رکھتا ہے۔ بھارت، پاکستان، چین، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع یہ خطہ مذہبی، نسلی، اقتصادی اور تاریخی اہمیت کے باعث ہمیشہ عالمی طاقتوں کے سیاسی کھیلوں کی بھینٹ چڑھتا رہا ہے۔ 1947 کے بعد کشمیری قوم نہ مکمل آزادی حاصل کر سکی اور نہ ہی اسے اپنا مقدر آپ طے کرنے کا حق دیا گیا۔

گزشتہ 75 سال سے زیادہ عرصے میں بھارت نے فوجی قبضے، پاکستان نے سیاسی استحصال اور دنیا نے اسٹریٹجک خاموشی کے ذریعے کشمیری عوام کے حقوق پامال کیے ہیں۔ کشمیری ایک باوقار، باعزت، شناخت رکھنے والی اور قومی خودمختاری کی مستحق قوم ہے اور ان کے قضیه کو انسانیت، انصاف اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

کشمیر کا تاریخی پس منظر
کشمیر ایک قدیم، تاریخی اور تہذیبی خطہ ہے جہاں بدھ مت، برہمن ازم اور اسلامی تہذیب صدیو ساتھ ساتھ رہی۔ قدرتی خوبصورتی، روحانیت اور علمی اقدار کی وجہ سے اسے “زمینی جنت” کہا جاتا تھا۔

مسلمان حکمرانوں کے دور میں کشمیر علم، ادب، تجارت اور ثقافت کا ایک عظیم مرکز تھا۔ مساجد، مدارس، کتب خانے اور خانقاہیں اس سرزمین کی ثقافتی شناخت کے ستون تھے۔ مسلمان حکمرانوں نے یہاں رواداری، مذہبی برداشت اور تہذیبی ہم آہنگی کی ایسی مثال قائم کی جو خطے میں امن و ترقی کا سبب بنی۔

لیکن 19ویں صدی کے وسط میں برطانوی سامراج نے اس جنت نظیر خطے کے مقدر سے سودے بازی کی۔ 1846 میں معاہدہ امرتسر کے تحت برطانوی سامراج نے کشمیر کو 75 لاکھ روپے کے عوض ڈوگرہ حکمران گلاب سنگھ کے حوالے کر دیا۔ یہ تاریخی سودہ نہ صرف کشمیریوں کی قومی مرضی کے خلاف تھا بلکہ یہ ان کے سیاسی اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی بھی تھی۔

جب 1947 میں برطانوی ہند تقسیم ہوا تو کشمیر ان علاقوں میں سے ایک تھا جہاں اکثریت مسلمانوں کی تھی، مگر تقسیم کے وقت کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت نہ دیا گیا نتیجتاً یہ خطہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازع اور جنگ کا دائمی مرکز بن گیا۔

کشمیر کی تقسیم
1947 کی تقسیم کے فوراً بعد کشمیر، جو مسلمان اکثریتی اہم خطہ تھا، کشمیریوں کی مرضی کے بغیر تین حصوں میں تقسیم ہو گیا:

1. بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر
(جموں، کشمیر اور لداخ) – بھارت نے عسکری طور پر قبضہ کیا اور آج تک اس پر اپنا فوجی تسلط قائم رکھا ہوا ہے۔

2. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر
(“آزاد کشمیر” اور “گلگت بلتستان”) – یہ علاقہ پاکستان کے زیرِ انتظام ہے مگر اس کی مستقل سیاسی حیثیت اب تک واضح نہیں کی گئی۔

3. چین کے زیرِ قبضہ حصہ
(اکسائی چن) – یہ اسٹریٹجک اہمیت کا علاقہ چین نے بعد میں قبضے میں لے لیا اور اب اس کے کنٹرول میں ہے۔

یہ تین طرفہ تقسیم، جو کشمیریوں کی شرکت، مشاورت یا رضامندی کے بغیر کی گئی، عالمی سیاسی تاریخ میں ایک سنگین ظلم کی حیثیت رکھتی ہے۔ کشمیری عوام کو اپنا مقدر طے کرنے کے لیے ریفرنڈم یا حقِ خود ارادیت نہیں دیا گیا، جو اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اسی تقسیم کی وجہ سے آج تک کشمیر تشدد، فوجی قبضے، انسانی حقوق کی پامالی اور خود ارادیت سے محرومی کا شکار ہے۔

کشمیر پر بڑی جنگیں
بھارت اور پاکستان نے کشمیر کے نام پر اب تک تین بڑی اور خونریز جنگیں لڑی ہیں۔ یہ جنگیں اگرچہ کشمیر کے نام پر شروع ہوئیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا مقصد مظلوم کشمیری عوام کی بھلائی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے فوجی اور سیاسی حکمرانوں کی ذاتی شوم اغراض تھیں۔

1. پہلی جنگ (1947-1948)
آزادی کے فوراً بعد شروع ہوئی۔ دونوں ممالک نے کشمیر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ اقوام متحدہ کی مداخلت کے بعد جنگ رکی مگر کشمیر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔

2. دوسری جنگ (1965)
پاکستان نے بھارتی کشمیر کے عوام کی حمایت کے بہانے اچانک حملہ کیا مگر بھاری جانی نقصان کے ساتھ ناکام رہا۔ تاشقند معاہدے پر جنگ ختم ہوئی۔

3. تیسری جنگ (1999 – کارگل جنگ)
پاکستانی فوجی جرنیلوں نے کارگل میں دراندازی کی کوشش کی۔ بھارت نے شدید فوجی جواب دیا اور بھاری نقصان کے بعد جنگ ختم ہوئی۔ اس نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا۔

ان تمام جنگوں میں لاکھوں انسان مارے گئے مگر اصل قربانی کشمیر کے بے گناہ عوام نے دی۔ وہ ایک سیاسی تنازع کے درمیان یرغمال بنے رہے، نہ انہیں امن ملا نہ اپنے مقدر پر اختیار۔ ان جنگوں نے مسئلہ حل کرنے کی بجائے دونوں ممالک کے درمیان مستقل دشمنی، فوجی دوڑ اور علاقائی عدم استحکام کو بڑھاوا دیا۔

کشمیری مظلوم عوام پر مظالم
کشمیر، جو کبھی خوبصورتی، ادب، مذہبی رواداری اور قدرتی نعمتوں کا گھر تھا، آج دنیا کا سب سے زیادہ عسکریت زدہ خطہ بن چکا ہے۔ بھارتی اور پاکستانی فوجوں نے اسے اس طرح گھیر رکھا ہے کہ ہر روز ظلم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور غیر انسانی سلوک جاری ہے۔

ہزاروں کشمیری بغیر مقدمے کے قتل ہوئے، کئی لاپتہ نہیں، اور باقی کال کوٹھڑیوں میں شدید تشدد برداشت کر رہے ہیں۔ خواتین اور نوجوان لڑکیوں پر فوج کے ہاتھوں جنسی زیادتیاں نہ صرف خاندان بلکہ پوری قوم کی عزت پر حملہ ہیں۔ یہ جرائم مستند ہیں اور عالمی اداروں نے بھی اسے رپورٹ کیا ہے۔

لوگوں کے گھر، دکانیں اور مال فوجی آپریشنز میں بے رحمی سے تباہ کیے جاتے ہیں۔ تعلیمی ادارے بند، طلبہ پر تشدد، صحت کی سہولیات ناپید، کاروبار محدود، روزگار ختم، لوگ اپنے گھروں اور رشتہ داروں سے بھی رابطہ نہیں رکھ سکتے۔

کشمیر آج عالمی انسانی المیوں کی فہرست میں شامل ہے مگر بڑی طاقتوں کے سیاسی مفادات نے اس سانحے کو چھپا رکھا ہے۔ کشمیری زندگی، آزادی، تعلیم، روزگار اور عزت سے محروم ہیں اور یہ ایک جاری انسانی المیہ ہے جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر: آزادی کے نام پر عسکری نظام
اگرچہ پاکستان عالمی فورمز پر خود کو کشمیریوں کا سب سے بڑا حامی دکھاتا ہے مگر اس کے زیرِ انتظام کشمیر (آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان) میں حقیقت بالکل مختلف ہے۔ یہاں نہ عوام کی حکمرانی ہے، نہ سیاسی آزادی، نہ خود ارادیت کا حق۔

1. سیاسی اور شہری آزادیاں ناپید ہیں۔ بیان، سیاست اور فیصلہ سازی کا حق نہیں دیا جاتا۔ سیاسی سرگرمیاں فوج، ایجنسیوں اور سخت قوانین کے تحت محدود ہیں۔
2. گلگت بلتستان کو اصل مسئلۂ کشمیر سے الگ کر کے اسے نہ مکمل حقوق دیے گئے، نہ سیاسی اختیار، نہ شناخت اور ملکیت کے حقوق۔
3. انتخابات تو ہوتے ہیں مگر سب امیدواروں اور جماعتوں کو پاکستان اور اس کی فوج سے “وفاداری” کا حلف لینا پڑتا ہے۔ انتخابات کے پیچھے اصل فیصلہ ساز ایجنسیاں ہیں۔
4. پاکستان کی فوج ہر بڑے فیصلے کی مالک ہے۔ مقامی قانونی ادارے بے اختیار ہیں اور عوام خود کو لاچار سمجھتے ہیں۔
5. “آزاد کشمیر” صرف ایک نام ہے۔ حقیقت میں یہ پاکستان کے مرکزی اداروں کے زیرِ انتظام عسکری نظام ہے۔ عوام بھارتی قبضے والے کشمیر کی طرح ہی ظلم، محرومی اور بے بسی کا شکار ہیں۔

پاکستان کشمیری عوام پر ظلم کیوں کرتا ہے؟

یہ ظلم اتفاقی نہیں بلکہ کئی اسٹریٹجک مقاصد کے لیے کیے جاتے ہیں:

– کشمیر کا جغرافیائی مقام (چین، بھارت، وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان) پاکستان کو علاقائی اثر و رسوخ اور CPEC کی حفاظت کے لیے درکار ہے۔
– کشمیر کا نام پاکستان کی اندرونی سیاست میں استعمال ہوتا ہے: فوج کے لیے اضافی بجٹ، عوام کی توجہ اصلی مسائل (معیشت، کرپشن) سے ہٹانے، بھارت مخالف پروپیگنڈے، عالمی ہمدردی اور امداد حاصل کرنے کے لیے۔
– فوج کشمیر کو “مستقل تنازع” بنا کر رکھتی ہے تاکہ قومی بجٹ کا بڑا حصہ خود لے سکے، سویلین حکومتوں پر دباؤ ڈالے اور اپنی مداخلت کو جواز فراہم کر سکے۔
– جو بھی حقوق مانگے، اسے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ رہنما، وکیل، صحافی، سول سوسائٹی کارکن بغیر مقدمے کے جیلوں میں ڈالے جاتے ہیں، میڈیا پر پابندی، انٹرنیٹ بند، اور حقیقی نمائندوں کی جگہ فوج کے پسندیدہ افراد مقرر کیے جاتے ہیں۔

یعنی پاکستان کشمیر کو ایک علاقے کی بجائے سیاسی اور فوجی ہتھیار کے طور پر دیکھتا ہے۔ کشمیریوں کو نہ آزادی دی، نہ عزت، نہ بنیادی حقوق۔ یہ شطرنج کی ایک اسٹریٹجک بساط ہے جس کے مہرے کشمیری عوام ہیں۔

کشمیریوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ، کابینہ اور اداروں میں جگہ کیوں نہیں ملتی؟

یہ ایک گہری اور منظم پالیسی ہے۔ پاکستان کشمیر کو رسمی طور پر اپنا حصہ نہیں مانتا مگر عملی طور پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ اس تضاد کی وجہ سے کشمیریوں کو کوئی رسمی سیاسی حق نہیں۔

آئین میں انہیں مکمل شہریت، شہری حقوق یا سیاسی شرکت کی ضمانت نہیں۔ “آزاد کشمیر” میں انتخابات فوج اور ایجنسیوں کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے لوگ تو پارلیمنٹ میں بھی مکمل نمائندگی سے محروم ہیں۔ کابینہ، پارلیمنٹ یا فوج میں کشمیری صرف شو پیس کے طور پر موجود ہوتے ہیں، فیصلہ سازی کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ سب صرف نمائش کے لیے ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ترقی، تعلیم اور سہولیات کیوں نہیں؟

دونوں علاقے (آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان) غربت، معاشی پسماندگی اور شدید محرومی کا شکار ہیں۔ پاکستان کا مقصد “حقیقی ترقی” نہیں بلکہ “سیاسی فائدہ” ہے۔ کشمیر کا نام صرف بھارت مخالف نعروں کے لیے استعمال ہوتا ہے، عوام کی فلاح کے لیے نہیں۔

بنیادی ڈھانچہ تباہ حال یا ناپید ہے۔ تعلیمی ادارے ناکافی، معیار انتہائی کمزور۔ ہسپتالوں میں سہولیات اور ڈاکٹر نہیں۔ نوجوان روزگار نہ ملنے پر پنجاب، سندھ یا خیبر پختونخواہ میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ ایک دانستہ پالیسی ہے تاکہ عوام غربت، جہالت اور محرومی میں رہیں اور سیاسی شعور نہ پیدا کر سکیں۔

کشمیری عوام (خاص طور پر پاکستان کے زیرِ انتظام) کو اب کیا کرنا چاہیے؟

کشمیر کی آزادی اور خود ارادیت کی واحد مؤثر راہ یہ ہے کہ قوم شعور، اتحاد اور مسلسل، سیاسی اور جہادی جدوجہد کی طرف بڑھے۔ جو قوم اپنی شناخت، ثقافت اور زبان بچا لے، کوئی قبضہ کرنے والا اس پر دیرپا تسلط نہیں جما سکتا۔

مظاہروں، قلم، میڈیا، تحقیقی مقالوں اور عالمی قانونی فورمز کے ذریعے آواز بلند کریں۔ داخلی انتشار قابضین کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، اس لیے ایک قوم، ایک آواز اور ایک مقصد پر متحد ہوں۔

ہر ظلم کو دستاویزی شکل میں ریکارڈ کریں، عالمی میڈیا، اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین وغیرہ تک پہنچائیں۔ عالمی دباؤ قابضین کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

تعلیم اور فکری بیداری کو آزادی کی فکر کے بنیادی ستون بنائیں۔ پاکستان اور بھارت کے ثقافتی اور فوجی تسلط سے نجات حاصل کریں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام اداروں اور “آزادی” کے نام پر قائم عسکری نظام کو بے نقاب کریں۔ عوام کو سمجھائیں کہ یہ “آزاد کشمیر” نہیں، فوج کی ایک نمائشی کالونی ہے۔

فلسطینیوں، بلوچوں، کردوں، ایغوروں جیسی مظلوم قوموں سے تجربات شیئر کریں اور عالمی صحافیوں، محققین کو کشمیر کی حقیقت دکھائیں۔

اختتامیہ

کشمیریوں کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان ان کے مقدر کا مالک نہیں۔ اپنے حق، عزت، شناخت، اختیار اور سرزمین کا دفاع صرف ایک متحد، باشعور اور جدوجہد کرنے والی قوم ہی کر سکتی ہے۔ اب وقت ہے کہ وہ غلامی سے نکل کر حقیقی آزادی کی طرف قدم بڑھائیں۔

کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک مظلوم قوم کی شناخت، عزت اور انسانی وقار کی جنگ ہے۔ 1947 سے یہ قوم جیو پولیٹیکل کھیلوں، فوجی سودوں اور اسٹریٹجک مقاصد کی بھینٹ چڑھتی آ رہی ہے۔ پاکستان اس سے اپنے فوجی اور سیاسی مفادات پورے کر رہا ہے اور عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی ہیں۔

کشمیر کے بنیادی انسانی حقوق مسلسل پامال ہو رہے ہیں۔ امن، ترقی اور انصاف کی بجائے ان پر جنگ، سنسرشپ، ناانصافی اور معاشی تباہی مسلط کی گئی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے انصاف پسند انسان، عالمی تنظیمیں، اسلامی دنیا اور انسانی حقوق کے کارکن کاغذی بحث چھوڑ کر کشمیر کے منصفانہ حل پر توجہ دیں۔ کشمیری عوام کو اپنا حقِ خود ارادیت، اپنا مقدر خود طے کرنے اور اپنا اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کا حق ملنا چاہیے۔ وہ مزید فوجی کھیلوں کا مہرہ نہیں بن سکتے۔

Exit mobile version