Site icon المرصاد

آزمودہ کو دوبارہ آزمانا غلطی ہے!

’’وَ إِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا‘‘
اس پُرآشوب اور بے ثبات دنیا میں آج بھی ایسی باوقار قومیں موجود ہیں جو اپنے تجربات سے سبق حاصل کرتی ہیں اور ماضی کی لغزشوں کو دہرانے سے گریزاں رہتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ناکام اعمال کا اعادہ سوائے سرگردانی، بربادی اور زوال کے کوئی ثمر نہیں دیتا۔
تاریخ کے صفحات شاہد ہیں کہ افغان قوم نے ہمیشہ استعمار اور ظلم کے خلاف ایمان، جوش اور استقامت کے ساتھ علمِ حریت بلند رکھا ہے۔ یہ وہ قوم ہے جس نے کبھی ظلم و جبر کے آگے سر نہیں جھکایا اور نہ ہی کبھی جھکائے گی۔

اس سرزمین کے غیرت‌ مند فرزندوں کا ان لوگوں سے کوئی تقابل نہیں جو بنی ‌اسرائیل کی مانند غلامی کے عادی ہو گئے تھے، جنہیں جہاد اور آزادی کا نام بھی گراں گزرتا تھا۔ بسا اوقات کچھ دل ایسے بھی ہوتے ہیں جو غلامی کی زنجیروں کے عادی ہو جاتے ہیں، اور اُن میں جہاد، قربانی، شہادت اور حریت کا حوصلہ باقی نہیں رہتا۔

مگر افغانستان کی یہ شہداء کی وارث قوم اُن حریت پسندوں کی جانشین ہے، جن کے رگ و پے میں غیرت، عزت اور آزادی دوڑتی تھی۔ اُن کے فرزند آج بھی آزادی و وقار کی فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔ ان کے لیے جہاد اور جدوجہد کا راستہ کبھی تھکن کا باعث نہیں بنتا، کیونکہ وہ غلامی کے نہیں، آزادی کے خوگر ہیں، وہ سر بلند تھے، ہیں، اور ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔

گزشتہ ایک صدی کے دوران، افغانستان کے لوگ سخت ترین تاریخی تجربات سے گزرے ہیں؛ کبھی بیرونی جارحیت کی زنجیروں میں جکڑے گئے، کبھی داخلی خانہ جنگیوں کی آگ میں جھلسے، اور کبھی استبدادی و انحصار پسند حکومتوں کے امتحانوں سے دوچار ہوئے۔ جب بھی اس قوم نے اغیار کی وعدوں پر یقین کیا اور فکری و مذہبی خودمختاری سے روگردانی کی، انجام ہمیشہ تباہی، انتشار اور قومی وحدت کے پاش پاش ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا۔

آج جبکہ امارت اسلامیہ افغانستان کے متحد اور مستحکم نظام کے زیرِ سایہ ملک میں امن وامان کی فضا قائم ہوئی ہے، بعض عناصر ایک بار پھر ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ وہی پرانے، آزمودہ اور فریب ‌کار چہرے، جو اپنی دیرینہ شیطانی خصلتوں کے ذریعے افغان ملت کے اتحاد و امن کو مجروح کرنے کی کوشش میں ہیں۔ حالانکہ ہر صاحبِ شعور انسان جانتا ہے کہ: ’’آزمودہ کو دوبارہ آزمانا، غلطی ہے۔‘‘
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ افغان قوم نے تمام مشکلات، مادی تنگی اور اقتصادی کمزوریوں کے باوجود ایمان، غیرت اور استقلال کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔ سلیمان کے فلک ‌بوس پہاڑوں سے لے کر پنجشیر کی وادیوں اور جنوب کی سنسان ریگزاروں تک، اذان کی صدا، آزادی کی للکار، اور دین و وطن کی پاسبانی کا جذبہ، اس ملت کو ایک تن، ایک جان اور ایک ایمان میں پروئے ہوئے ہے۔

دل و جان میں دین ‌داری اور بے باکی افغانوں کے خون اور رگ و پے میں رچی بسی ہے، یہ وہ خزانے ہیں جن سے اگر درست انداز میں فائدہ اٹھایا جائے تو ملک کو انحصار، بدعنوانی اور انتشار سے نجات مل سکتی ہے۔
دوسری جانب، پاکستان بھی سیاست اور معیشت کے طوفانوں میں الجھا ہوا ہے۔ اگرچہ افغانستان کی امارت اسلامیہ کے تعلقات تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ متوازن اور دانشمندانہ ہیں، مگر اس ملک نے بارہا یہ تلخ حقیقت آزمائی ہے کہ دوہری پالیسی اور وقتی مفادات کے لیے مذہبی یا لسانی گروہوں کا استعمال کیا جو بالآخر اس کے اپنے استحکام میں خلل کا باعث بنا ہے۔

آج پاکستانی قوم کا سامنا بھی اسی کڑوی حقیقت سے ہے: ماضی کی خامیوں کو دہرانا دراصل غلطی کی طرف بڑھنا ہے۔ افغانوں نے عمل کے ذریعے واضح کر دیا ہے کہ جب وہ اسلامی اصولوں اور قومی غیرت کی بنیاد پر متحد ہوتے ہیں تو کوئی قوت اُن پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتی۔

Exit mobile version