آج شعوری یا لاشعوری طور پر دشمنانِ اسلام ہر قسم کے اور کھلے عام خوفناک طریقے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اسلام کے پیروکاروں کو عجیب و غریب ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ ان پر طرح طرح کے طعنے، القابات اور مذاق اڑائے جاتے ہیں۔
بلاشبہ اگر مومنین کا اپنے قوی و مددگار رب پر ایمان نہ ہوتا تو وہ بہت پہلے ہی مٹ چکے ہوتے۔ مومنین کی خوش نصیبی ہے کہ وہ اللہ کی وحدانیت اور اس کی مددگار ذات پر ایمان رکھتے ہیں اور پیغمبرِ مصطفیٰ ﷺ کی شفاعت پر یقین رکھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ وہ آج تک ثابت قدم اور برقرار ہیں
۔
امارت اسلامیہ افغانستان کے ایک مجاہد سے گفتگو ہو رہی تھی۔ اس نے کہا کہ تاریخِ اسلام میں مادی اسباب کے لحاظ سے بہت کم ایسے مواقع آئے ہیں جب مسلمان مادی اعتبار سے بھی اتنے ہی طاقتور رہے ہوں جتنے وہ ایمان میں مضبوط اور پختہ تھے، بلکہ اکثر مسلمان مادی لحاظ سے کمزور ہی رہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی مادی کمزوری بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔
انسان کی فطرت ایسی ہے کہ جب وہ بیمار ہوتا ہے تو ان دنوں کی نسبت جب وہ تندرست اور طاقتور ہوتا ہے، اللہ کو زیادہ یاد کرتا اور اس کے قریب ہوتا ہے۔
لہٰذا وسائل کی یہ کمزوری بھی اللہ جل جلالہ کی ایک نعمت سمجھی جا سکتی ہے۔ یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرمانبرداروں اور اسلام کے وفاداروں کو مختلف ذرائع سے کامیابی عطا کرتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کے یہ محدود مادی وسائل اپنے اثر میں بھی کمزور ہیں؟ ہرگز نہیں۔ مسلمانوں کے یہ وسائل اگرچہ حجم اور تعداد میں کم یا کمزور ہوں، مگر اپنے اثر کے لحاظ سے مکہ مکرمہ کی ان چھوٹی کنکریوں کی مانند ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے چھوٹے چھوٹے ابابیلوں کی چونچوں میں رکھ کر عظیم ہاتھیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
اسی لیے جب اہلِ ایمان کی طرف سے اسلام کے دفاع میں یا دشمن کے پروپیگنڈے کے جواب میں کوئی بات کی جاتی ہے تو دشمن ہماری توقع سے زیادہ تکلیف محسوس کرتا ہے۔ جس طرح ابرہہ چھوٹے پتھروں کی مار سے چیخ رہا تھا اور رو رہا تھا، ابابیل کا واقعہ قوت کے اعتبار سے نہایت دل کش اور ایمانی استقامت کی علامت ہے۔
اس واقعے کو سمجھنے کے لیے ایک بظاہر سادہ مگر گہرا سوال کیا جا سکتا ہے: جنگ کے لیے ایک بڑے ہاتھی کے برابر آنے کے لیے کتنے ابابیل درکار ہوں گے؟
اس سوال کے دو پہلو ہیں: ایک سائنسی اور دوسرا نظریاتی۔
اگر صرف سائنسی لحاظ سے وزن کو دیکھا جائے تو ایک ابابیل کا اوسط وزن تقریباً 20 گرام ہوتا ہے، جبکہ ایک جنگی ہاتھی کا وزن تقریباً چار سے پانچ ہزار کلوگرام تک ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے دونوں کے درمیان فرق حیران کن ہے۔ اگر صرف وزن کی بنیاد پر موازنہ کیا جائے تو تقریباً سوا دو لاکھ (2,25,000) ابابیل مل کر پانچ ہزار کلوگرام وزنی ایک فیل کے برابر ہوں گے۔ یہ محض ایک عددی تقابل ہے، جس کا مقصد عسکری برتری ثابت کرنا نہیں بلکہ صرف جسمانی فرق واضح کرنا ہے۔
مگر اصل بات وزن کی نہیں بلکہ معنی اور نظریے کی ہے۔ یہ سوال ثانوی ہے کہ آیا ابابیل جسمانی طور پر ہاتھی کو شکست دے سکتے ہیں یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اس معرکے میں قوت کی حقیقی تعریف کیا ہے؟
جیسا کہ قرآنِ مجید سورۂ فیل میں اس واقعے کو ہمارے سامنے پیش کرتا ہے، قوت صرف جسمانی عظمت کا نام نہیں، بلکہ اصل قوت اختیار اور حکم میں ہوتی ہے۔
کعبہ کے گرد نہ کوئی لشکر تھا، نہ اسلحہ، نہ ظاہری طاقت اور نہ عسکری تربیت، صرف اللہ کا گھر تھا، جو اسلام کی ایک نشانی تھا۔ یہی اس کی اصل قوت تھی۔ اسی طرح ابابیلوں کے پاس نہ کوئی منظم فوج تھی، نہ تلواروں یا گولیوں اور میزائلوں کا زخیرہ، نہ جسمانی طاقت جنگ کے لائق تھی اور نہ انہوں نے کسی سے عسکری تربیت حاصل کی تھی۔ ابابیل صرف کعبہ کی حفاظت کے لیے بھیجے گئے تھے۔ ان کے پاس صرف اللہ کا حکم تھا، اور یہی حکم ان کی اصل طاقت تھا۔
سائنسی اصولوں کے مطابق تقریباً 20 گرام وزنی ابابیل اپنی چونچ میں بمشکل ایک یا دو گرام وزن اٹھا سکتا ہے، وہ بھی اتنا کہ اس کی پرواز متاثر نہ ہو، یعنی اگر دو تین گرام زیادہ وزن اٹھا لے تو پرواز متاثر ہو سکتی ہے۔ ایک یا دو گرام وزن بہت کم ہے۔ یہ کنکر نہ کوئی ہتھیار تھے اور نہ کوئی تباہ کن دھماکہ خیز مواد، بلکہ محض ایک چھوٹا سا کنکر اور معمولی ذرہ ہے۔ مگر جب یہی معمولی ذرہ اللہ کے حکم اور مشیت کے تابع حرکت کرتا ہے تو وہ اپنی مادی حدود سے بلند ہو کر قوت کی علامت بن جاتا ہے اسی لیے طاقت کا تصور بدل جاتا ہے۔
دنیا کی ظاہری منطق یہ کہتی ہے کہ جس کے پاس طاقت اور اسلحہ ہو وہ غالب ہے، اور جس کے پاس لشکر ہو وہ فاتح ہے۔ مگر ہاتھی والوں کا واقعہ ہمیں ایک اور منطق سکھاتا ہے۔ یہاں بڑے جسم بے معنی ہو جاتے ہیں، ہاتھی کا حجم بے قیمت ہو جاتا ہے، لشکر کی تعداد کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے، اور اصل سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اللہ کیا چاہتا ہے؟ وہ کسے بلند کرتا ہے اور کسے پست؟ اس کی مشیت میں کون فاتح ہے اور کون مغلوب؟
اسی لیے اس واقعے میں ابابیل محض ایک پرندہ نہیں رہتا بلکہ ایک پیغام بن جاتا ہے۔ ایک ایسا استعارہ جو بتاتا ہے کہ اگر کوئی حق کے ساتھ ہو تو کمزور بھی طاقتور بن سکتا ہے۔ اس لیے یہ سوال حیاتیاتی علوم یا فطرت تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایمان اور فکر اور نظریے سے جڑا ہوا ہے۔ عددی لحاظ سے چاہے سوا دو لاکھ ابابیل ہوں یا دو کروڑ، حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ چاہے تو ایک معمولی سی مخلوق کو بھی تاریخ کا فیصلہ کن کردار دے دیتا ہے۔
یہ کہانی دراصل ابابیل اور ہاتھی کی نہیں بلکہ ایمان اور مادیت کے تصور کی کہانی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ قوت کو صرف مادی پیمانوں سے نہیں ناپنا چاہیے۔ اصل قوت وہ ہے جو نظر نہیں آتی مگر موجود ہوتی ہے، دیکھتی ہے، فیصلہ کرتی ہے اور تاریخ کا رخ بدل دیتی ہے۔
لہٰذا اہلِ ایمان کو دشمن کے اسلحے اور پروپیگنڈے سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے۔ میدانِ جنگ میں اہلِ ایمان کی ایک چلائی گئی گولی یا میڈیا میں ادا کیا گیا ایک لفظ بھی دشمن کے ہزاروں سپاہیوں اور صفحات پر بھاری پڑ سکتا ہے، جس طرح 20 گرام کے ابابیل کا دو گرام کا کنکر پانچ ہزار کلوگرام وزنی ہاتھی اور اس پر سوار ابرہہ کے لیے کافی ثابت ہوا۔
اسی لیے جب کوئی سچا مجاہد اور دین کا خادم دشمن کی عسکری یا ابلاغی یلغار کا مقابلہ کرتا ہے تو دشمن کی طاقت اور پروپیگنڈا اسی طرح ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے، جیسے ابرہہ کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو کر فنا ہو گیا تھا۔

