اسلام کے ظہور سے قبل انسانیت ذلت، وحشت، جہالت اور بد اخلاقی کے گہرے گڑھے میں گر چکی تھی۔ دنیا جہالت کے ایسے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی کہ نہ صرف فکر و عقل پر مہر لگی ہوئی تھی بلکہ اخلاقی، انسانی اور سماجی اقدار بھی پامال ہو چکی تھیں۔
انسان کی حرمت روندی جا رہی تھی؛ زندگی کا معیار صرف زور، قبیلے، جنس اور مادی امتیازات پر قائم تھا۔ عورت بے حیثیت تھی، یتیم لاوارث، اور کمزور افراد شدید ظلم کا شکار تھے۔ نومولود بچیوں کا قتل عام معمول تھا۔ سود، فحاشی، شراب نوشی، لوٹ مار، بت پرستی، جادو اور وحشت ہر طرف عام تھا۔ انسان اپنے رب کی پہچان سے محروم اور خواہشات کا غلام بن چکا تھا۔
مگر جب اللہ تعالیٰ نے گمراہ انسانیت پر فضل فرمانا چاہا تو اپنی رحمت، عدل اور حکمت کے تقاضے کے مطابق اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ایسا دین بھیجا جس نے انسان کی عظمت کو بحال کیا، فکر کو بیدار کیا، اخلاق کو پاکیزہ بنایا اور معاشرے کو جہالت سے نکال کر ہدایت کی طرف رہنمائی کی۔
اسلام نے انسان کو اس کا فطری شرف یاد دلایا؛ یہ کہ انسان اللہ کا خلیفہ ہے، اور عزت صرف تقویٰ اور صالح عمل کے پیمانے سے پرکھی جاتی ہے، نہ کہ قبیلے، رنگ، نسل یا دولت کی بنیاد پر۔ اسلام نے ظلم کے مقابل عدل، انصاف، مشاورت، امانت، صبر، وفا، عفو، کرامت، رحمت، تواضع، توحید اور تقویٰ کا ایسا نظام قائم کیا جس نے تاریخ کا ایک عظیم تمدن جنم دیا۔ وہی انسان جو بتوں کے سامنے جھکتا تھا، وحدانیت کا علمبردار بن گیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں وہی بے وقعت لوگ دنیا کے رہنما بنے؛ جو زندگی کے مقصد سے ناآشنا تھے، وہ انسانی زندگی کے معمار بنے۔ اسلام نے نہ صرف انسان کو پستی سے نکالا بلکہ اُسے معرفتِ الٰہی، نفس کی تزکیہ اور معاشرتی اصلاح کا واضح نظام عطا کیا۔
اسلام کا یہ سب سے بڑا احسان ہے کہ اُس نے انسانیت کو دوبارہ عزت کا لباس پہنایا، اُسے زمین کے اندھیروں سے آسمان کی روشنی تک پہنچایا اور شرک، ظلم، جہالت اور وحشت سے نکال کر توحید، عدل، علم اور رحمت کی طرف رہنمائی کی۔
تاہم تعجب کی بات یہ ہے کہ ان تمام روشن حقائق کے باوجود بھی بعض انسان، قومیں اور فاسد نظام اسلام، اُس کے ماننے والوں اور ہدایتِ الٰہی کے خلاف دشمنی کرتے ہیں۔ وہ اسلام کو بدنام کرتے ہیں، اس کی اقدار کو مسخ کرتے ہیں، مسلمانوں کا خون بہاتے ہیں اور اسلامی دعوت کی راہ میں فکری و مادی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔
لیکن ہم ایسے لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر آپ واقعی سلیم الفطرت اور صاحبِ عقل ہیں تو تعصب، کینے کی عینک اتار کر ایک بار دینِ اسلام کا مطالعہ کریں، اس کی حقیقت سمجھیں اور اپنی فطرت کی روشنی کی پیروی کریں۔ اگر آپ نے اسلام کو نہ پہچانا تو یہ آپ کی عقل و فکر کی کمزوری ہوگی، لیکن اگر پہچان لیا اور دل سے قبول کرلیا تو اس کا لذت آمیز اثر کبھی فراموش نہ کرسکیں گے۔

