Site icon المرصاد

اسلام؛ اعتدال اور میانہ روی کا دین! دوسری قسط

ہر مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ دینی، سماجی اور زندگی کے تمام معاملات میں اعتدال اور میانہ روی کا راستہ اختیار کرے؛ کیونکہ یہی وہ بنیادی اصول ہے جس کا مطالبہ دینِ اسلام ہر مسلمان سے کرتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادات، نشست و برخاست، باہمی تعامل اور زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال کی راہ اپنائی، اور اپنی امت کو میانہ روی کا حکم دیا اور افراط و تند روی سے منع فرمایا۔ بالخصوص دین میں غلو اور افراط سے سختی کے ساتھ روکا، کیونکہ دین میں حد سے بڑھ جانا بالآخر ہلاکت اور تباہی کا سبب بنتا ہے۔

اسلام کا مقدس دین افراط کا دین نہیں؛ بلکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کے غلو اور زیادتی کو واضح طور پر رد فرمایا ہے۔ قرآنِ عظیم الشان میں متعدد مقامات پر افراط اور حد سے تجاوز کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے خاص طور پر یہودیوں سمیت تمام امتوں کو دینی غلو سے باز رہنے کی تلقین فرمائی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «لا تغلوا في دينكم»
ترجمہ: اپنے دین میں غلو اور افراط نہ کرو۔

اسی بنا پر جب حکمرانوں یا علماء کی جانب سے افراط برتا جاتا ہے تو لوگوں کے دلوں سے دین کی محبت کمزور پڑ جاتی ہے۔ جیسا کہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ بعض انتہاپسند گروہ (جیسے داعش) اپنی تندروی اور تشدد کے باعث اسلام کی بدنامی کا سبب بنے اور بہت سے لوگوں کو دین سے دور کر دیا۔

اس کے برعکس، بعض حکمرانوں اور علماء کی تفریط اور سستی بھی لوگوں کو خرافات، بدعات اور باطل راستوں میں مبتلا کردیتی ہے، خصوصاً نوجوان نسل اور بچے، جو جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے باعث ذہنی انتشار کا شکار ہیں۔ ذرا سی غفلت یا افراط انہیں نجات اور سعادت کے بجائے تباہی اور انحراف کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

دین میں اعتدال کا مفہوم یہ ہے کہ انسان نہ افراط کرے اور نہ تفریط؛ کیونکہ افراط اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کا باعث بنتا ہے، اور تفریط الٰہی احکام کی عملی ادائیگی میں سستی اور کمی پیدا کرتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’إِیَّاکُمْ وَالْغُلُوَّ فِی الدِّینِ، فَإِنَّمَا أَهْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ الْغُلُوُّ فِی الدِّین‘‘
ترجمہ: دین میں غلو سے بچو؛ کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو ہی کے سبب ہلاک ہوئے۔
مختصر یہ کہ اسلام آسانی اور اعتدال کا دین ہے، اور اس نے اپنے پیروکاروں کو کبھی ایسے اعمال کا حکم نہیں دیا جن کی ادائیگی ان کے بس سے باہر ہو۔ جیسا کہ قرآنِ عظیم الشان میں ارشاد ہے:
«یُریدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ»[البقرہ: ۱۸۵]
ترجمہ: اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں۔

امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی، امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری، امام ابو عبد اللہ محمد بن حسن الشیبانی رضوان اللہ علیہم اجمعین، اور دیگر تمام ائمہ و علماء اس اصول پر متفق تھے کہ اسلام افراط و تفریط کے درمیان، زیادتی و کمی کے بیچ، تشبیہ و تعطیل کے درمیان، جبر و اختیار کے مابین، اور امید و خوف کے توازن پر قائم ایک معتدل دین ہے۔

بالآخر، آیاتِ قرآنی، احادیثِ نبویہ اور اقوالِ علماء کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامِ مقدس ایک میانہ اور معتدل دین ہے؛ نہ وہ افراط جس سے لوگ خوف زدہ اور مایوس ہو جائیں، اور نہ وہ تفریط جس میں لوگ عمل کے بجائے محض کھوکھلی امیدوں پر اکتفا کریں۔

Exit mobile version