Site icon المرصاد

اسلام؛ اعتدال اور میانہ روی کا دین! پہلی قسط

خیبر جلال
اسلام وہ مقدس دین، جو آخری آسمانی دین ہے، اعتدال، توازن اور میانہ روی کی بنیاد پر قائم ہے۔ اسلام کے عقائد، اخلاقی اور سماجی اصول اس انداز سے منظم کیے گئے ہیں کہ وہ انسان اور معاشرے کو افراط و تفریط سے محفوظ رکھتے ہیں۔ قرآنِ کریم کی تعلیمات، نبوی سنت، اسلامی اخلاقیات اور فقہی نظام؛ سب اسی فکر پر قائم ہیں کہ انسان کو ہر حال میں افراط و تفریط سے بچتے ہوئے راہِ اعتدال اختیار کرنی چاہیے۔

اعتدال یا میانہ روی سے کیا مراد ہے؟
اعتدال سے مراد تمام امور میں میانہ روی کی رعایت اور توازن کا قائم رکھنا ہے، جو ایک مؤمن کے لیے بہترین راستہ ہے، تاکہ وہ اپنے رب، اپنے نفس اور دوسرے انسانوں کے حقوق و فرائض کو بحسن و خوبی کے ساتھ ادا کر سکے۔ اسی بنا پر اسلام اپنے آغاز ہی سے اسی اصول پر قائم رہا ہے، اور مسلمانوں کو «امتِ وسط» کا لقب عطا کیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾
یہ آیتِ مبارکہ مسلمانوں کو ایسی امت کے طور پر متعارف کراتی ہے جو میانہ روی، توازن اور عدل کی بنیاد پر قائم ہو۔ لفظ ’’وسط‘‘ فضیلت، اعتدال اور افراط و تفریط سے دوری کے معنی میں آتا ہے۔

پیارے نبی ﷺ نے ہر معاملے میں اعتدال کی تلقین فرمائی ہے، جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
»القَصْدَ القَصْدَ، تَبلُغوا«
یعنی: اعتدال اختیار کرو، اعتدال اختیار کرو، تم منزل تک پہنچ جاؤ گے۔
مطلب یہ ہے کہ اپنے اعمال میں میانہ روی اپناؤ تاکہ اپنے مقصد کو بہترین انداز میں حاصل کر سکو۔

اعتدال، میانہ روی اور وسطیت ہر کام میں ایک بہترین صفت اور قابلِ تحسین طرزِ عمل ہے، جس کے ذریعے ہر مسلمان کو اپنی زندگی کے تمام پہلوؤں جیسے عبادات، خرچ و اخراجات، کھانا پینا اور زندگی کے دیگر معاملات کو سنوارنا چاہیے۔

رسولِ اکرم ﷺ کا اعتدال ہر مسلمان کی زندگی کے لیے ایک کامل نمونہ ہے؛ کیونکہ آپ ﷺ انسانی زندگی کے تمام معاملات میں نہایت متوازن اور میانہ رو شخصیت تھے۔ نماز میں بھی، خطبات میں بھی، جو نہ بہت طویل ہوتے تھے اور نہ بہت مختصر؛ روزے میں بھی کہ کچھ دن روزہ رکھتے اور کچھ دن نہیں رکھتے تھے، اور رات کے قیام و آرام میں بھی کہ رات کا ایک حصہ عبادت کرتے اور ایک حصہ آرام فرماتے تھے۔

Exit mobile version