Site icon المرصاد

اسلامی جغرافیے کے تجزیے میں نام نہاد اسلامی گروہوں کا کردار!

مدینہ منورہ کی حکومت پہلی اسلامی حکومت کے طور پر قائم ہوئی، اور بہت ہی کم عرصے میں اس نے اپنی جڑیں مضبوط کر لیں۔ ہر دن سورج کے طلوع ہونے کے ساتھ اسلامی حکومت کی جغرافیائی حدود پھیلتی چلی گئیں اور گروہ در گروہ لوگ مسلمانوں کے قافلے میں شامل ہوتے گئے۔ مکہ اور مدینہ کے بعد ہر خلیفہ کے دورِ حکومت میں دنیا کے بڑے بڑے اور اہم شہر فتح کیے گئے، خلافتِ اسلامیہ وسیع ہوتی گئی، اور ان شہروں میں ایسے علاقے بھی شامل تھے جو بہت سے انبیاء علیہم السلام کے زمانے میں مرکزی حیثیت کے حامل تھے، ایک خاص عظمت کے حامل تھے اور جہاں پیغمبر بھیجے گئے تھے۔

ان میں سے ہر خطہ بڑی سختیوں اور بے شمار قربانیوں کے بعد فتح ہوا تھا، لیکن اس وقت عسکری قائدین کی بصیرت، ایمان اور ربِ جلیل و قدیر کی نصرت ہی فتح کے اصل اسباب تھے۔ اس بات کا کبھی تصور بھی نہ تھا کہ یہ علاقے ہمارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے اور دوبارہ کفار ان پر حکمران بن جائیں گے، اور یہ کہ خلافتِ اسلامیہ کے نام پر قائم ایک وحدت ۵۷ ٹکڑوں میں بٹ جائے گی۔ مگر بدقسمتی سے باہمی اختلافات، فساد اور مسلمان کے لبادے میں اسلام دشمن عناصر ہی ان شہروں کے سقوط اور تقسیم کے بڑے اسباب بنے۔

ایک متحد اسلامی خطہ ہماری توقعات کے برعکس ۵۷ حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ دشمن کا دل اب بھی ٹھنڈا نہیں ہوا اور وہ اسے ۸۸ ٹکڑوں میں بانٹنے کا خواہاں ہے، جبکہ اس سرزمین کے وارث آج بھی غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔ بیت المقدس ابو عبیدہ بن الجراحؓ، دمشق خالد بن ولیدؓ اور ابو عبیدہؓ، مصر حضرت عمرو بن العاصؓ، اندلس طارق بن زیادؒ، غرناطہ احمد بن الاحمرؒ، استنبول سلطان محمد فاتحؒ، سمرقند اور بخارا قتیبہ بن مسلمؒ، بلخ احنف بن قیسؓ، دہلی محمد غوری، لاہور سلطان محمود غزنوی، کاشغر ستوق بغرا خان، مشہد عبداللہ بن عامرؓ اور تبریز حذیفہ بن یمانؓ کی فتوحات کے نشان تھے، جو ہمیں وراثت میں ملے تھے۔ اس کے علاوہ درجنوں اور شہر بھی تھے جو ہمارے لیے فتح کیے گئے تھے، اور ہر خطے کے فرعون کو اُس دور کے موسیٰ نے ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیا تھا۔

لیکن دشمن نے ہمارے درمیان اقتدار کے حریص افراد کی پرورش کی، اسلام کے نام پر اپنے مقاصد کے لیے نام نہاد مسلمانوں کو جاسوس بنایا اور انہی سے گروہ تشکیل دیے۔ بعد کے ادوار میں اس نے تمام مسلم شہروں میں سیاسی جماعتیں قائم کیں، جو ان کی تقسیم اور قبضے کی پالیسی میں نہایت مؤثر ثابت ہوئیں۔

تقسیم کے عمل میں امت کے اندر وہ گروہ زیادہ خطرناک ثابت ہوئے جو عسکری سرگرمیوں، بغاوتوں اور جنگوں میں ملوث تھے، جیسے آج کی داعش۔ یہ ہر مسلم شہر کے امن کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان کے حملوں کا ہدف ہمیشہ مسلم شہر، مسلمان یا مسلم حکومتیں رہی ہیں۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک انہوں نے اسلام کو نعرہ بنایا ہوا ہے، لیکن ان کے تمام اعمال اسلام کو کمزور کرنے اور مسلم حکومتوں کے سقوط کے لیے ہی ہیں۔

Exit mobile version