Site icon المرصاد

اسلامی روح سے عاری خلافت! تیسری قسط

جعلی شریعت؛ داعش کے مسخ شدہ فقہی نظام کا تجزیہ:
داعش کے فکری اور نظریاتی بنیادوں کی تحقیق و تجزیے کے بعد؛ جن کی جڑیں قدیم ادوار اور اسلامی تاریخ کی ابتدائی صدیوں کے خوارج کے گمراہ افکار سے ملتی ہیں— یہ بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ یہ تکفیری گروہ اپنی قتل و غارت، عسکری کارروائیوں اور اقتدار کی عملی پالیسیوں کو دین اور شریعت کے نام پر کس طرح جائز ٹھہراتا ہے؟

دینی فریب کاری کے ایک منظم میکانزم کی تشکیل اور اسلامی خلافت کی بنیاد پر ’’خالص شریعت‘‘ کے نفاذ کا دعویٰ، داعش کے اساسی ستونوں میں شامل تھا؛ کیونکہ اسی راستے کے ذریعے وہ عام افراد اور جنگجوؤں کی بھرتی، نیز عوام اور شہروں کے درمیان اپنی بنیادیں قائم کرنے پر انحصار کرتا تھا۔ اسی میکانزم کے سہارے وہ اپنے مخالفین کے قتل کو عبادت قرار دیتا اور لوگوں کے شہروں اور علاقوں پر قبضے کو ’’فتح‘‘ کا نام دیتا۔ انہوں نے بے مثال ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ شریعت کو مسخ کیا اور اس میں جعل سازی سے نہیں ہچکچائے۔

اسی لیے داعش کے منحرف فقہی نظام کا مطالعہ، اس فکری انحراف کی گہرائی کو سمجھنے کی بنیادی کنجی ہے۔ یہ مقالہ اس مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ داعش، ایک موقع پرست اور مفاد پرست گروہ کے طور پر، معکوس انجینئرنگ کے طریقے پر پہلے اپنے سیاسی اور فوجی اہداف طے کرتا ہے، اور پھر دینی متون کی تحریف اور جعل سازی کے ذریعے ان اہداف کے لیے ایک فقہی اور مذہبی دلیل تیار کرتا ہے۔

اس پورے عمل کا جائزہ تین عمومی محوروں سے لیا جا سکتا ہے:
۳۔ فہمِ دین کے طریقے میں تحریف،
۲۔ نازل شدہ منصوص احکام میں تحریف،
۳۔ شریعت کے حتمی مقصد میں تحریف۔

سب سے پہلی تحریف، دین کے فہم کے طریقے میں تھا، داعش نے اپنی مرضی کی فقہ تشکیل دینے کے لیے اصولِ فقہ کے اُن مسلمہ اور متفقہ مناہج سے انحراف کیا جن پر اسلامی مذاہب اور عظیم مجتہدین کے درمیان اجماع قائم ہے۔ داعش کا سب سے بنیادی اور نمایاں منہجی انحراف یہ تھا کہ اس نے قرآنی آیات اور روایات کے سیاق و سباق اور اسبابِ نزول کو یکسر نظر انداز کر دیا۔

مثال کے طور پر، انہوں نے قرآنِ کریم کی جہادی آیات کے اُس تاریخی پس منظر اور سببِ نزول کو نظرانداز کیا جو مشرکین اور کفار کی جنگی جارحیت کے جواب میں نازل ہوئے تھے، اور انہی آیات کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا تاکہ ہر سیاسی اور فکری مخالف کے خلاف اپنی بے جا تشدد پسندی اور مجرمانہ کارروائیوں کو جائز ٹھہرا سکیں۔

یہ طرزِ عمل تمام اسلامی مذاہب کے مسلمہ طریقۂ کار کے صریح خلاف ہے؛ کیونکہ نصوص کے صحیح فہم کے لیے اُن کے پس منظر اور علل و اسباب کو ملحوظ رکھنا ایک بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔

دوسری تحریف شریعت کے مقاصد کو معطل کرنا تھا، فقہاء اسلام اس اصول پر متفق ہیں کہ شریعت کے احکام کا حتمی مقصد دین، جان، عقل، نسل اور مال کا تحفظ ہے۔ مگر داعش نے عملاً ان عظیم اسلامی اور انسانی مقاصد کو پامال کیا۔ بے گناہ لوگوں کا قتلِ عام، اداروں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی، اور ایسی ہمہ گیر ناامنی پیدا کرنا جس سے معاشرے کی پوری ساخت بکھر جائے— ان سب کو داعش کے فقہی نظام میں ’’خلافت کے نفاذ کے لیے زمین ہموار کرنے‘‘ جیسی توجیہات کے تحت جائز قرار دیا گیا۔ حقیقت میں یہ شریعت کے مقاصد کی جگہ سیاسی اور گروہی مفادات کو سمیٹنے کے مترادف تھا۔

تیسری تحریف، جان بوجھ کر اور منظم انداز میں جعلی، کمزور اور بے بنیاد روایات پر انحصار تھا۔
اس تکفیری اور گمراہ گروہ نے اپنی غیر انسانی اور غیر اسلامی کارروائیوں، نیز اپنی آخری اور جغرافیائی تصورات کی توجیہ کے لیے زیادہ تر اُن احادیث اور روایات کا سہارا لیا جن کے اسناد کو علمِ رجال اور حدیث کی معتبر کتب میں رد یا کمزور قرار دیا گیا ہے۔ یہ انتخاب صاف ظاہر کرتا ہے کہ داعش کے نزدیک معیار سند کی صحت نہیں تھا، بلکہ یہ تھا کہ روایت کا متن پہلے سے طے شدہ نظریے اور عقیدے سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔

لہٰذا یہ بات بالکل واضح ہے کہ داعش کی فقہ ایک جعلی اور بناوٹی فقہ تھی۔ انہوں نے ابتدا ہی سے جرم کا ارادہ کیا اور پھر اس کے لیے دینی جواز تراشا۔ یہ فقہ لوگوں کی ہدایت کے لیے نہیں، بلکہ فریب، دہشت گردی کی توجیہ اور خوف پھیلانے کے لیے گھڑی گئی تھی۔ اس دروغ پردازی کے میکانزم کو سمجھنا نہایت اہم ہے؛ کیونکہ اس سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ داعشی اسلام کے بدترین دشمنوں میں سے ہیں اور انہوں نے دین کی تحریف کے ذریعے اسلام کی صورت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

ایسے دین مخالف اور انسان مخالف فکر کا مقابلہ فکری جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے اور محض ہتھیاروں سے یہ کام نہیں ہو سکتا؛ کیونکہ ضروری ہے کہ لوگوں کے اذہان کو اُن جعلی تعبیرات سے پاک کیا جائے جو اسلام کے نام پر پیش کی جاتی ہیں۔

Exit mobile version