داعش کی فکری اور تاریخی جڑیں:
داعش جیسے مہلک اور منحوس مظہر کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے صرف حالیہ برسوں پر نظر ڈالنا کافی نہیں۔ یہ گروہ نہ تو اچانک نمودار ہوا ہے اور نہ ہی محض ایک سادہ سیاسی ردِعمل؛ بلکہ یہ ایک پرانی، دیرینہ اور فکری بیماری کی پیداوار ہے، جس کی جڑیں اسلام کے ابتدائی دور اور ایک گمراہ فرقے خوارج سے جا ملتی ہیں۔ داعش اسی مذموم سلسلے کی تازہ ترین اور سب سے زیادہ خونریز کڑی ہے؛ ان زہریلے افکار کی نئی شکل، جنہوں نے امتِ مسلمہ کے جسم میں پہلا گہرا شگاف ڈالا تھا۔
یہ تعلق محض ایک تاریخی تشبیہ نہیں، بلکہ ایک ناقابلِ انکار فکری حقیقت ہے۔ خوارج کی فکر تین نہایت خطرناک اصولوں پر قائم تھی، اور بعینہٖ یہی اصول داعش کو ورثے میں ملے ہیں۔
پہلا اصول یہ تھا کہ وہ خود کو ہی واحد حقیقی مسلمان سمجھتے تھے، اور جو کوئی ان کے سیاسی و فکری موقف سے اختلاف کرتا خواہ وہ مسلمانوں کا جائز اور حقیقی خلیفہ ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اسے کافر اور دین سے خارج قرار دیتے تھے۔ آج داعش اسی منطق کو کہیں زیادہ وسعت کے ساتھ نافذ کرتی ہے اور ہر اس مسلمان کو، جو اس کے ظالمانہ اور وحشیانہ نظریے کو قبول نہیں کرتا، ’’مرتد‘‘ اور واجب القتل سمجھتی ہے۔
دوسرا اصول یہ تھا کہ وہ تشدد کو عبادت کا درجہ دیتے تھے اور مخالفین کے قتل کو اللہ کی راہ میں جہاد قرار دیتے تھے۔ کیا یہ وہی بیماری اور زہریلی منطق نہیں جسے داعش آج قیدیوں کے سر قلم کرنے، بازاروں اور بے گناہ لوگوں کے درمیان دھماکے کرنے، اور جہاد کے نام پر عورتوں کو قید و غلام بنانے کے لیے استعمال کرتی ہے؟
تیسرا اصول دینی نصوص کی سطحی اور مسخ شدہ تفسیر تھا۔ خوارج قرآنِ مجید کے سطحی اور بے بنیاد فہم کو کافی سمجھتے تھے اور خود کو معتبر علماء کے علم اور اجتہاد سے بے نیاز خیال کرتے تھے۔ داعش بھی قرآنِ مجید کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو ان کے تاریخی سیاق اور رحمت پر مبنی مقاصد سے جدا کر دیتی ہے، اور شیطانی انتخاب کے ذریعے دینِ رحمت کو تشدد پر مبنی ایک نظریے میں بدل دیتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، داعش آیات کو ان کے متن اور تاریخ سے کاٹ کر ایسی معانی پہناتی ہے جنہیں اسلامی تاریخ میں کسی بھی عادل، منصف اور اصولی عالم نے کبھی قبول نہیں کیا۔
وہ اس کے بجائے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی طرف رجوع کریں، جو قرآن عظیم الشان کی عملی تفسیر ہے؛ چند مخصوص آیات پر ہی تکیہ کرتے ہیں، تاکہ اپنی مجرمانہ کارروائیوں کو جواز فراہم کر سکیں۔ لیکن یہ گمراہ کن اور ظالمانہ فکر، اور یہ مہلک فکری وائرس، صفّین سے موصل تک کیسے زندہ رہا اور اتنا طاقتور کیسے ہو گیا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سوچ کبھی بھی اسلامی دنیا سے مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔
عصرِ حاضر میں یہی رجحان ’’تکفیر اور افراط پسندی‘‘ کے نام سے دوبارہ زندہ ہوا، اور داعش اس کی سب سے سخت اور انتہاپسند شکل ہے۔ اس گروہ نے جہاد، ہجرت اور خلافت جیسے دینی مفاہیم کو مسخ شدہ صورت میں باہم جوڑ دیا، اور مظلوم عوام کے مذہبی جذبات سے ناجائز فائدہ اٹھا کر خود کو ایک مثالی اسلامی معاشرے کا محافظ اور معمار ظاہر کیا۔ حقیقت میں داعش کے رہنما ایسے مکتبِ فکر میں پروان چڑھے ہیں جو اپنا اصل دشمن بیرونی مخالفین کو نہیں، بلکہ ان مسلمانوں کو سمجھتا ہے جو ان سے اختلاف رکھتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے خوارج کا طرزِ فکر تھا۔
ان گروہوں کی تاریخ اسلام میں خیانت اور خونریزی سے بھری ہوئی ہے۔ خوارج نے نہ صرف شدید تفرقہ پیدا کیا بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی شہید کیا۔ داعش نے بھی ہمارے دور میں ہزاروں دینی علماء، مردوں، عورتوں اور معصوم بچوں کو قتل کیا، مساجد اور مقدس مقامات کو تباہ کیا، اور ایسے ہولناک جرائم کا ارتکاب کیا جنہوں نے پوری دنیا کو ششدر کر دیا۔ دونوں کا مقصد نہ اصلاح تھا اور نہ ہدایت؛ بلکہ جلانا، خوف پھیلانا، اور زور و اسلحے کے ذریعے دین کی ایک وحشیانہ تعبیر کو لوگوں پر مسلط کرنا تھا۔
لہٰذا جب ہم داعش کو دیکھتے ہیں تو درحقیقت ’’خوارج‘‘ کی ایک نئی اور معاصر شکل ہمارے سامنے آتی ہے۔ یہ اسی بیمار اور انتہاپسند فکر کے وارث ہیں جس نے ایک زمانے میں اسلامی امت کو زخموں سے چور چور کیا تھا، اور آج مزید خوفناک ذرائع کے ساتھ دوبارہ ابھر آئی ہے۔ ان تاریخی جڑوں کو سمجھنا ہمیں یہ حقیقت دکھاتا ہے کہ داعش نہ کوئی اتفاقی مظہر ہے اور نہ ہی محض ایک سادہ سیاسی تحریک؛ بلکہ ایک پرانی بیماری ہے جو نئی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ اس کا مقابلہ صرف ہتھیاروں سے ممکن نہیں، بلکہ اس زہریلی سوچ کو لوگوں کے اذہان سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ناگزیر ہے۔

