Site icon المرصاد

اسلامی نظام کے فوائد | تیسری قسط

اسلامی نظام کے فوائد کی سلسلہ میں، کچھ دیگر اہم فوائد اور خصوصیات بھی ہیں، جن کا ذکر درج ذیل ہے:

۲: اختلاف، نقص اور تضاد سے پاک ہونا

چونکہ اسلامی نظام ایک الہی نظام ہے، اس لیے یہ ہر قسم کے نقص، کمی، اختلاف اور تضاد سے پاک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی نظام کا بنانے والی اور وضع کرنے والی ایک کامل اور مطلق ذات ہے۔ کمال کا اثر یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کا نظام بھی کامل ہو، نہ کہ اس طرح نامکمل جیسے کہ انسانی ناقص ذہن سے بنے نظام ہوتے ہیں۔

اللہ جل جلالہ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

"ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافا كثيرا” (النساء: ۸۲)
> ترجمہ: اگر یہ (قرآن) اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سارے اختلافات پائے جاتے۔

انسانی بنائے ہوئے نظام، جیسے جمہوریت یا سوشلزم، انسانی عقل پر مبنی ہیں جو کہ محدود ہے، اسی لیے وہ ہمیشہ تضاد اور اختلاف کا شکار رہتے ہیں۔ لیکن اسلامی قانون اللہ جل جلالہ کی طرف سے ہے، اس لیے یہ کامل اور تناقض سے پاک ہے۔

۳: اسلامی نظام احترام، اطاعت اور اعتماد کا نظام ہے

جب ایک مسلمان کو یقین ہو جاتا ہے کہ یہ نظام اللہ جل جلالہ کی طرف سے ہے، تو اس کے دل میں یہ عقیدہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت عبادت ہے اور اس کی مخالفت اللہ کے غضب کا باعث ہے۔ اسلام میں اولی الامر (حاکموں) کی اطاعت کے بارے میں متعدد نصوص موجود ہیں، جن میں واضح کیا گیا ہے کہ اولی الامر کی اطاعت واجب اور اس کی مخالفت ممنوع ہے۔

اللہ جل جلالہ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

"يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم”
> ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور ان لوگوں کی اطاعت کرو جو تم میں سے اختیار والے ہیں۔

علامہ ڈاکٹر عبد الکریم حمادی اپنی کتاب مقاصد القرآن من تشريع الاحکام میں اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں:

> "اس آیت میں اولی الامر کی اطاعت کی طرف اشارہ ہے، اور وہ مسلمانوں کے حاکم ہیں۔ اسی طرح وہ تمام آیات جو رسول کی پیروی اور اطاعت کا حکم دیتی ہیں، وہ ان کے بطورِ حاکم کے مقام کی وجہ سے ہیں۔”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث شریف میں فرمایا:

"اسمعوا وأطيعوا، وإن تأمر عليكم عبد حبشي” (رواہ البخاری)*
> ترجمہ: سنو اور اطاعت کرو، چاہے تم پر ایک حبشی غلام ہی حاکم بن جائے۔

۴: اسلامی نظام غلامی اور جبر سے نجات کا ذریعہ ہے

اسلامی نظام دیگر انسانی نظاموں سے برتر اور نجات کی راہ ہے، کیونکہ اس میں الہی ہدایات ہیں اور یہ انسانیت کے لیے بہترین نظام پیش کرتا ہے۔

اللہ جل جلالہ فرماتا ہے:

"أفحكم الجاهلية يبغون ۚ ومن أحسن من الله حكما لقوم يوقنون” (المائدة: ۵۰)
> ترجمہ: کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ مانگتے ہیں؟ اور اس سے بہتر فیصلہ کون کر سکتا ہے جو اللہ کرتا ہے، ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں؟

وضعی نظام، جیسے سوشلزم، جمہوریت اور دیگر نظام، قانون سازی اور نفاذ کے لحاظ سے انسانی خیالات کو مرکزی حیثیت دیتے ہیں اور انسان کو ہر چیز کا محور سمجھتے ہیں۔ لیکن اسلام اس کے برعکس قانون سازی کو اللہ تعالیٰ کا حق مانتا ہے اور انسانی تجربات کے بجائے الہی وحی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اسلامی نظام انسان کو الہی قانون کے سائے تلے مختلف قسم کی غلامیوں سے نجات دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

خلاصہ:

اسلامی نظام جاہلی نظاموں کا بہترین متبادل ہے۔ یہ انسانیت کو ایک کامل، عادل اور قابل اعتماد راستہ پیش کرتا ہے، جس میں دنیا اور آخرت دونوں کی نجات ہے۔ لیکن انسانی قوانین بدعنوانی، امتیاز اور ظلم سے بھرے ہوتے ہیں۔

Exit mobile version