Site icon المرصاد

اسلامی نظام کے فوائد! ساتویں اور آخری قسط

اسلامی نظام کی باقی ماندہ خصوصیات درج ذیل ہیں:

۱۰: اسلامی نظام ایک عادلانہ نظام ہے
اسلام ایسا دین ہے جو نہ صرف عبادات اور روحانیت کی رہنمائی کرتا ہے بلکہ معاشرتی، سیاسی اور تمدنی زندگی کے لیے بھی ایک مکمل نظام رکھتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد عدل ہے، اور یہی خصوصیت اسلام کو دوسرے انسانی نظاموں سے ممتاز بناتی ہے۔

عدل کا مفہوم اور تعریف
علماء نے عدل کے بارے میں مختلف تعریفیں کی ہیں، جن میں سے چند مشہور اقوال یہ ہیں:

۱. علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

العدل هو: أن تعطي من نفسك الواجب، وتأخذه
ترجمہ: عدل یہ ہے کہ تو دوسروں کو ان کا واجب حق ادا کر اور اپنا واجب حق ان سے لے۔

۲. علامہ ابن الہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

العدل: بذل الحقوق الواجبة، وتسوية المستحقين في حقوقهم
ترجمہ: عدل یہ ہے کہ آدمی دوسروں کو ان کا واجب حق دے، اپنا حق وصول کرے، اور حق داروں کے درمیان مساوات قائم کرے۔

۳. علامہ جرجانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

العدل: هو الأمر المتوسط بين طرفي الإفراط والتفريط
ترجمہ: افراط و تفریط کے درمیان درمیانی حالت کو عدل کہا جاتا ہے۔

۴. شریعت کی اصطلاح میں عدل کی تعریف یوں کی گئی ہے:

العدالة في الشريعة عبارة عن الاستقامة على طريق الحق بالاجتناب مما هو محظور دينا
ترجمہ: شریعت میں عدل کا مطلب یہ ہے کہ انسان حق کی راہ پر قائم رہے اور حرام چیزوں سے بچے۔

معاشرے میں عدل کی اہمیت

اللہ جل جلالہ قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ
ترجمہ: بے شک اللہ تعالی عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔

عدل اسلام کی ان عظیم اور نمایاں خصوصیات میں سے ہے جسے اسلام نے زندگی کے ہر شعبے میں بنیاد قرار دیا ہے۔ قرآن کریم میں ’’عدل‘‘ اور ’’قسط‘‘ کے مشتقات تقریباً ۲۶ مرتبہ ذکر ہوئے ہیں، جو اس کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔

عدل کا تصور دو حقیقتوں پر قائم ہے:

۱. لوگوں کے درمیان حقوق کا توازن اور تناسب قائم رکھنا۔
۲. ہر حق کو انصاف اور سہولت کے ساتھ ادا کرنا۔

عدل اللہ تعالی کی صفات میں سے ہے، کیونکہ اس کا ہر قول، فعل اور فیصلہ توازن اور انصاف پر مبنی ہے۔

اسلامی معاشرے میں عدل کی بنیاد

عدل اسلامی معاشرے اور حکومت کی بنیاد ہے۔ جس معاشرے میں ظلم کا راج ہو وہاں مکمل اسلام نافذ نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے اسلام نے معاشرتی عدل پر خصوصی زور دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تمام لوگ اسلامی قانون کے سامنے بلا امتیاز برابر ہوں۔

عدل حاکم کی ذاتی خواہش یا مزاج کا تابع نہیں بلکہ شریعت کا لازمی اصول ہے۔ خلیفہ کے لیے رعایا کے درمیان عدل قائم کرنا بڑے واجبات میں سے ہے، اور اس پر پوری امت کا اتفاق ہے کہ ہر حاکم پر لازم ہے کہ انصاف و عدل کی بنیاد پر فیصلے کرے۔

اسلامی تہذیب کی نمایاں خصوصیت

عدل صرف فرد کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ معاشرے، ریاست اور تہذیب کی تشکیل میں بھی مرکزی کردار رکھتا ہے۔ اسلام نے عدل کو اپنے پورے نظام کی بنیاد بنایا ہے۔ انسان کی زندگی کے ہر شعبے میں— خواہ وہ ذاتی زندگی ہو، لوگوں کے درمیان تعلقات ہوں یا ریاست و معاشرے کا انتظام— عدل لازمی اور بنیادی اصول ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین اور تابعین کے دور میں عدل کی واضح عملی مثالیں نظر آتی ہیں۔ اسی وجہ سے اسلام ایک عادلانہ نظام ہے اور انسانیت کی کامیابی، امن اور ترقی کے لیے ایک مکمل حل پیش کرتا ہے۔

Exit mobile version