۷۔ اسلامی نظام ایک عقیدتی نظام ہے
اسلام ایک عقیدتی اور روحانی نظام ہے، جو انسانوں کے دلوں اور ضمیروں کی اصلاح و رہنمائی کرتا ہے، اور یہی اسلامی نظام کی بنیادی خصوصیت ہے۔ ایک مسلمان اگرچہ کسی جرم کا ارتکاب کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور قاضی یا حاکم کی طرف سے کسی سزا کے خوف کا احساس بھی نہ کرے، پھر بھی وہ اپنے ایمان اور عقیدے کی بنیاد پر اپنے آپ کو گناہ سے روکے رکھتا ہے۔
اس کے برعکس، وضَعی(انسانی) نظام جو محض انسانی عقل اور خواہشات پر قائم ہیں، قوانین کو صرف مادی قوت، جیل، سزا اور پولیس کے ذریعے نافذ کرتے ہیں۔ جب یہ ظاہری کنٹرول ختم ہو جائے تو اکثر لوگ قانون شکنی پر اتر آتے ہیں۔ لیکن اسلام قوانین کے نفاذ کے لیے لوگوں سے جبر و اکراہ کے بجائے عقیدتی وابستگی اور ایمانی عہد لیتا ہے۔
یہ حقیقت واضح طور پر اس واقعے میں سامنے آتی ہے کہ اسلام سے پہلے عربوں میں شراب نوشی ایک عام، ثقافتی اور حتیٰ کہ فخر کی بات سمجھی جاتی تھی۔ لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: ۹۰)
ترجمہ: اے ایمان والو! شراب، جوا، بتوں کی پوجا اور پانسے یہ سب شیطانی اعمال ہیں، لہٰذا ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
اس آیت کے نازل ہونے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فوراً اپنے شراب بہا دیے، پیالے توڑ ڈالے اور شراب خانے مسمار کر دیے۔ حالانکہ نہ کسی کو سزا دی گئی، نہ تعزیر ہوئی اور نہ ہی کوئی پولیس یا حفاظتی دستہ بھیجا گیا۔ یہ سب کچھ محض عقیدے اور ایمان کی قوت تھی، نہ کہ جبر و طاقت کا اثر۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا:
«لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ» (شرح السنة للبغوي)
ترجمہ: تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنی خواہشات کو میرے دین کے تابع نہ کر دے۔
لہٰذا اسلامی نظام ایک عقیدتی نظام ہے جو انسان کے دل و دماغ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اسی عقیدے کی بنیاد پر اسلامی احکام کا نفاذ ایمان پر قائم ہے۔ وضعی نظام اگر طاقت سے محروم ہو جائیں تو وہ بکھر جاتے ہیں، مگر اسلامی نظام ایمان کے زور پر قائم رہتا ہے، کیونکہ ایمان قانون، جیل اور سزا سے زیادہ مضبوط کنٹرول رکھتا ہے۔
۸۔ اسلامی نظام انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو شامل کرتا ہے
اسلام ایک مکمل، جامع اور الٰہی نظام ہے، جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو تک پھیلا ہوا ہے۔ عقیدہ، اخلاق اور عبادات سے لے کر معاملات، سیاست، معیشت، عدل، سزا اور سماجی قوانین تک تمام امور اس میں شامل ہیں۔
اللہ جل جلاله فرماتے ہیں:
«مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ»(الأنعام: ۳۸)
ترجمہ: ہم نے اس کتاب (قرآن) میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، ہر چیز اس میں بیان کر دی گئی ہے۔
اور ایک اور جگہ ارشاد ہے:
«وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ»(النحل: ۸۹)
ترجمہ: اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي‘‘(موطأ امام مالک)
ترجمہ: میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھام لو تو میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہو گے؛ اللہ کی کتاب اور میری سنت۔
اسلام نے عقیدے کی بنیادیں واضح کی ہیں، جیسے توحید، نبوت، آخرت، فرشتوں پر ایمان، کتابوں اور تقدیر پر ایمان، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’الإيمان أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر‘‘(صحیح مسلم)
ترجمہ: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر اور تقدیر پر ایمان لاؤ۔
اسی طرح اسلام اپنے ماننے والوں کو اچھے اخلاق، سچائی، معافی اور صبر کی تعلیم دیتا ہے اور برے اخلاق مثلاً جھوٹ، غیبت، تکبر اور ظلم سے روکتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الأَخْلاقِ‘‘(موطأ امام مالک)
ترجمہ: مجھے صرف اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اخلاق کی بلندیوں کو مکمل کروں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اسلام انسان کی زندگی کا ایک مکمل، جامع اور الٰہی نظام ہے، جو عقیدہ، اخلاق، عبادات اور معاملات سب کو اپنے اندر سمیٹتا ہے۔ یہ نظام اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر مبنی ہے اور کسی انسان، قوم یا زمانے کو بے جواب نہیں چھوڑتا، بلکہ وقت اور زمانے کے ساتھ ساتھ تمام ضروریا ت کے حل کے لیے مناسب راہنمائی فراہم کرتاہے۔ یہی خصوصیت اسلام کو انسانیت کی نجات کا واحد الٰہی نظام بناتی ہے۔

