اب تک ہم اسلامی نظام کی آٹھ خصوصیات پڑھ چکے ہیں، مزید چند خصوصیات درج ذیل ہیں:
۹۔ اسلامی نظام ایک اخلاقی نظام ہے
جب ہم ’’اسلامی نظام‘‘ کا نام لیتے ہیں تو اکثر ذہن فوراً قوانین، سزاؤں اور فقہی احکام کی طرف چلا جاتا ہے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر ایک اخلاقی نظام ہے۔ یہ ایسا نظام ہے جس کی بنیاد انسان کی ظاہری اور باطنی اصلاح پر رکھی گئی ہے۔
اخلاق کی تعریف:
ترجمہ: لفظ ’’اخلاق‘‘، ’’خُلق‘‘ کی جمع ہے، لغت میں اس کے معنی فطرت اور عادت کے آتے ہیں۔ علما کی اصطلاح میں اس کی تعریف یوں کی جاتی ہے:
هيئةٌ للنفسِ راسخةٌ، تصدُرُ عنها الأفعالُ بسهولةٍ ويُسرٍ، من غيرِ حاجةٍ إلى فكرٍ وروية.
یہ انسان کے نفس میں ایک پختہ کیفیت ہے جس سے افعال آسانی اور سہولت سے صادر ہوتے ہیں، بغیر اس کے کہ زیادہ غور و فکر کی ضرورت ہو۔
اگر یہ کیفیت ایسی ہو کہ اس سے پیدا ہونے والے اعمال شرع اور عقل کے لحاظ سے اچھے اور پسندیدہ ہوں، تو اسے ’’حسنِ خلق‘‘ یا اچھے اخلاق کہا جاتا ہے؛ اور اگر اس کے برعکس برے اعمال ظاہر ہوں تو اسے ’’سوءِ خلق‘‘ یا بد اخلاقی کہا جاتا ہے۔
دوسرے لفظوں میں: اخلاق ایسی صفات کا مجموعہ ہیں جو انسان کے نفس میں رچی بسی ہوتی ہیں، جن کی روشنی میں وہ کسی عمل کو اچھا یا برا سمجھتا ہے، اور پھر یا تو اسے انجام دیتا ہے یا اس سے اجتناب کرتا ہے۔ انسان کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے سے پہلے اسے پرکھتا اور تولتا ہے، اور یہ پرکھ اس کے نفس میں موجود اخلاقی معیار سے براہِ راست تعلق رکھتی ہے۔
اسی طرح، ہر انسان اس بات کا مکلف ہے کہ وہ اچھے اور برے عمل میں فرق کرے، اور یہ پہچان اس کی فطرت میں اس طرح رچ بس جائے جیسے رنگت کی سفیدی یا سیاہی انسان کی فطری صفت ہوتی ہے۔
اسلام میں اخلاق کا مقام
عقلِ سلیم اور فطرتِ صحیحہ دونوں ہی اچھے اخلاق کو بلند مقام دیتے ہیں، اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ چونکہ اسلام ایک فطری دین ہے، اس لیے اس نے اخلاق کو بےحد اہمیت دی ہے۔ قرآنِ کریم نے رسول اللہ ﷺ کے اوصاف میں سب سے بلند وصف اخلاق کو قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ” (القلم:۴)
ترجمہ: اور بےشک آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) بلند اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا:
"إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى…”
ترجمہ: بےشک اللہ عدل، احسان اور قرابت داروں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے…” (النحل: ۹۰)
امام مالک رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’موطأ‘‘ میں ایک حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الأَخْلَاقِ”
ترجمہ: مجھے صرف اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اخلاق کی اعلیٰ قدروں کو مکمل کروں۔
اسی طرح امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"الدين كله خلق، فمن زاد عليك في الخلق، فقد زاد عليك في الدين.”
ترجمہ: سارے کا سارا دین اخلاق پر مبنی ہے، جس نے تم پر اخلاق میں سبقت لے لی، اس نے دین میں بھی تم پر سبقت حاصل کر لی۔

