پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ جمعہ (۱۸ شعبان / ۷ فروری) کے روز اہلِ تشیع کی ایک مسجد پر خونریز حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً دو سو افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی اور حملہ آور کی تصویر بھی جاری کی۔
حملے کے چند گھنٹوں بعد پاکستان نے سنجیدگی دکھائی اور داعش کے خلاف آپریشنز کا سلسلہ تیز کر دیا۔ معلومات کے مطابق، وہ گروہ جس نے گزشتہ جمعہ اسلام آباد کے خونریز حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، اس کے ارکان خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے علاقے ڈمہ ڈولہ اور کٹکوٹ کے رہائشی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اسلام آباد حملے کی منصوبہ بندی عمران (جو ابو بکر باجوڑی کے نام سے مشہور ہے)، ادریس (جو یوسف کے نام سے معروف ہے) اور ملا عمران نے کی تھی۔ یہ افراد حملہ آور کی قیادت کر رہے تھے، اس سے ٹیلیفونک رابطے میں تھے، باجوڑ میں اسے تربیت دی گئی تھی اور اس کے لیے خودکش جیکٹ پشاور سے منتقل کی گئی تھی۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے حملے کی شام خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ کے علاقے حکیم آباد میں ان کے مرکز پر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں یوسف (ادریس) مارا گیا، ابو بکر باجوڑی گرفتار ہوا اور ملا عمران فرار ہو گیا۔

پاکستانی حکام نے حملے کی روک تھام اور داعش کی صفوں میں اپنے عناصر کے انتظام میں ناکامی کو چھپانے کے لیے دعویٰ کیا کہ حملہ آور اور منصوبہ ساز حالیہ مہینوں میں افغانستان آتے جاتے رہے تھے، حالانکہ اس حملے کے تمام منصوبہ ساز دراصل پاکستانی شہری ہیں، اور امارت اسلامیہ افغانستان کے قیام کے چند ماہ بعد وہاں ان پر گھیرا تنگ ہو گیا تھا، جس کے باعث وہ خیبر پختونخوا، خصوصاً باجوڑ، فرار ہو گئے تھے کیونکہ افغانستان میں وہ اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتے تھے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مذکورہ گروہ ۲۰۲۳ء سے باجوڑ اور پشاور میں جمعیت علمائے اسلام کے درج ذیل ذمہ داران، دینی علماء اور دیگر بااثر افراد کو شہید کرنے میں ملوث رہا ہے:
1. مولانا صلاح الدین، جمعیت علمائے اسلام کے رکن؛ تاریخِ شہادت: 7 ستمبر 2023ء۔
2. مولانا الطاف حسین، جمعیت کے رکن اور عنایت کلی بازار میں تاجر؛ تاریخِ شہادت: 7 ستمبر 2023ء۔
3. مولانا نور محمد، جمعیت علمائے اسلام کے رکن اور عنایت کلی بازار میں قالین فروش؛ تاریخِ شہادت: 22 جون 2023ء۔
4. معاذ خان، جمعیت علمائے اسلام کے مقامی عہدیدار اور سابق پاکستانی طالبان رہنما مفتی بشیر کے بیٹے (مفتی بشیر بھی گزشتہ سال رمضان میں داعش کے ہاتھوں شہید ہوئے)؛ تاریخِ شہادت: 18 اپریل 2023ء۔
5. قاری اسماعیل، سلفی عالم؛ تاریخِ شہادت: 29 اکتوبر 2023ء۔
6. قاری زین العابدین، مسجد کے امام؛ تاریخِ شہادت: 27 اکتوبر 2023ء۔
7. مولانا طلا محمد، سلفی عالم اور مدرس؛ تاریخِ شہادت: 4 اکتوبر 2023ء۔
8. اکرم خان، معروف تاجر؛ تاریخِ شہادت: 9 نومبر 2023ء۔
مگر سوال یہ ہے کہ دو سال کے دوران یہ گروہ کیوں بے نقاب نہ ہو سکا؟ اسلام آباد حملے کے ایک دن بعد ہی اس کے خلاف کارروائی کیوں کی گئی؟ حملے کے بعد پاکستان کی فوجی حکمتِ عملی کیوں بدل گئی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اسلام آباد حملے کے بعد اٹھے اور انٹیلی جنس امور کے ماہرین اس حوالے سے مختلف آرا پیش کر رہے ہیں۔
*پاکستان کی طرف داعش خراسان کی قیادت اور افراد کی منتقلی*
افغانستان میں امارت اسلامیہ کے قیام کے بعد داعش پر دباؤ بڑھ گیا اور داعش خراسان کی قیادت نے اپنے افراد کے تحفظ کے لیے انہیں افغانستان سے پاکستان منتقل کرنے کا حکم دیا۔ اگرچہ داعش اپنے نظریے کے مطابق دنیا کی تمام حکومتوں کو مرتد قرار دے کر ان سے برسرِ پیکار رہتی ہے، اس لیے پاکستان میں قیام بھی اس کے لیے چیلنج سے خالی نہ تھا، تاہم پاکستان نے اپنے سیاسی و انٹیلی جنس مقاصد کے تحت بالواسطہ طور پر ایک قابلِ قبول تعامل کے تحت اس گروہ کی قیادت اور افراد کو منظم انداز میں جگہ دی اور بلوچستان و خیبر پختونخوا کے پہاڑی و مضافاتی علاقوں میں انہیں عسکری تربیتی مراکز فراہم کیے۔ تاہم وہاں بھی یہ گروہ مسلسل دباؤ میں رکھا گیا۔
بلوچستان کے علاقے مستونگ میں مراکز فعال ہونے کے بعد داعش نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ منظم کیں، یہاں تک کہ 25 فروری 2025ء کو ان مراکز کے خلاف آپریشن شروع ہوا جو تین دن جاری رہا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ان کے مراکز تباہ کر دیے گئے اور تقریباً 30 جنگجو، تربیت کار، رابطہ کار اور کمانڈر، جن میں اکثریت غیر ملکیوں کی تھی، مارے گئے۔ ولید الترکی، محمد اسلام کرد ایرانی اور عبداللہ الترکی نامی تین اہم داعشی بھی اس کارروائی میں ہلاک ہوئے۔
مستونگ کے مراکز کے خاتمے کے بعد داعش نے خیبر پختونخوا پر توجہ بڑھائی، مگر وہاں بھی محفوظ نہ رہ سکی۔ گزشتہ نومبر کی 26 تاریخ کو خیبر ایجنسی کے جبار میلہ علاقے میں عبدالحکیم توحیدی اور گل نظیم کی نگرانی میں چلنے والے ان کے مراکز پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ رواں فروری کی 2 تاریخ کو باڑہ میں قمبرخیل کے علاقے شنکو میں ان کے ایک اور مرکز پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا، جس میں 11 داعشی مارے گئے اور تین زخمی ہوئے۔ مارے جانے والوں میں تین مقامی افراد کے علاوہ باقی غیر ملکی تھے۔ مقامی افراد میں عدنان نامی ایک اہم شخص (جو ابو الحرب کے نام سے معروف تھا) بھی شامل تھا۔ گزشتہ دو برسوں میں داعش کے دیگر ارکان بھی پاکستان میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔
*داعشیوں کا فکری و سیاسی انتشار*
داعش اپنے شدت پسند نظریات، پالیسیوں اور واحد حکمتِ عملی کے فقدان کے باعث فکری طور پر طبقات میں منقسم تنظیم ہے۔ اس کے بعض ارکان تکفیر کے معاملے میں خود داعش کے منہج سے بھی زیادہ شدت اختیار کرتے ہیں اور کسی قسم کی تفریق یا تدریج کے قائل نہیں۔ دوسری طرف کچھ افراد نسبتاً عملی اور مصلحت پسند رویہ رکھتے ہیں اور حتیٰ کہ تنظیم کی بقا کے لیے انٹیلی جنس حلقوں سے تعاون پر بھی آمادہ ہوتے ہیں۔ ایسے عناصر کی موجودگی نے تنظیم کے اندر گروہ بندی کو جنم دیا ہے اور ہر گروہ نے اپنے قائد کو ایک بت اور طاغوت کا درجہ دے رکھا ہے۔
*داعش اور پاکستانی انٹیلی جنس کے تعلقات*
داعش خراسان اور پاکستانی انٹیلی جنس کے تعلقات کی تاریخ اس گروہ کے ابتدائی دنوں تک جاتی ہے۔ شیخ عبدالرحیم مسلم دوست کے مطابق، ابتدائی ایام میں لشکرِ طیبہ سے منسوب پاکستانی افسران نے کوشش کی کہ داعش کو اپنے کنٹرول میں لے کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ اس کے بعد سے اب تک داعش خراسان اور پاکستان شاخ کو پاکستانی انٹیلی جنس نے مختلف مواقع پر استعمال کیا ہے، جس کی ایک مثال پاکستان میں فوجی رجیم کے سیاسی مخالفین کا قتل ہے۔
*داعش نے اسلام آباد میں حملہ کیوں کیا؟*
پاکستانی انٹیلی جنس اور داعش کی خراسان و پاکستان شاخ کے درمیان قریبی روابط، ہم آہنگی اور بعض صورتوں میں مشترکہ منصوبے اور مقاصد موجود رہے ہیں۔ اسی بنا پر پاکستان میں داعش کے حملوں نے انٹیلی جنس نوعیت اختیار کر لی تھی اور وہاں اس کی فکری، عسکری اور سیاسی سرگرمیاں دیگر علاقوں سے مختلف نظر آتی تھیں۔
علاقائی مسلح گروہوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق، حملوں کے اس انٹیلی جنس رنگ نے داعش کے اندر شکوک و شبہات اور بد اعتمادی کو بڑھا دیا تھا۔ ایسے ماحول میں قیادت بعض اوقات اہم مقامات پر نرم اہداف کو نشانہ بنا کر اپنے بعض ارکان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے، کلیدی افراد کو مطمئن کرنے اور تنظیمی مورال بلند کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
ایک تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مراکز کے خاتمے کے بعد داعش کو سخت دھچکا لگا تھا اور اسے اپنے نظریے سے اپنی وفاداری اور انٹیلی جنس ایجنسیوں سے خود کو آزاد ثابت کرنے کی ضرورت تھی، اسی لیے اسلام آباد میں اہلِ تشیع کی مسجد کو نشانہ بنایا گیا۔ اس آسان ہدف نے داعشیوں کو ایک تیر سے تین شکار کرنے میں مدد دی، مگر انہیں گمان نہیں تھا کہ یہ قدم انہیں اتنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔
*اسلام آباد حملے کے بعد داعش کے خلاف پاکستانی فوجی حکمت عملی کیوں بدلی؟*
اسلام آباد حملے کے بعد باجوڑ گروپ کے خلاف پاکستانی سکیورٹی اداروں کے توقع سے زیادہ تیز رفتار آپریشنز سے واضح ہوا کہ پاکستان داعش کے بے لگام حملوں کو، خصوصاً وہ جو فوجی رجیم کے سیاسی مفادات اور پالیسیوں سے متصادم ہوں، کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔ اس سے قبل بھی پاکستان کے مختلف علاقوں مٰں اہل تشیع پر حملے ہوئے، مگر پاکستانی فوجی رجیم نے داعش کے خلاف کبھی اتنا تیز رد عمل نہیں دکھایا۔
لیکن اسلام آباد چونکہ دارالحکومت ہے اور فوجی رجیم اسے دنیا کے سامنے ایک محفوظ، ہر شعبے میں ترقی یافتہ، معیاری اور مثالی شہر کے طور پر پیش کرتی ہے، اور حالیہ عرصے میں فوجی رجیم غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ یہ ثابت کرے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کی تمام موزوں مواقع موجود ہیں، سکیورٹی کی صورتحال یقینی ہے اور ایک قانونی حکومت، مضبوط فوج اور انٹیلی جنس موجود ہے، مگر اس حملے نے فوجی رجیم کے بیانیے اور کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا۔
ابتدائی طور پر پاکستانی فوجی رجیم کے پروپیگنڈہ اداروں نے اس حملے کو اپنی اصطلاح میں "فتنۃ الخوارج” سے جوڑا، یہ اصطلاح فوجی رجیم عموماً داعش اور انٹیلی جنس سے منسلک گروہوں سے علاوہ ان جہادی تنظیموں کے لیے استعمال کرتی ہے جو رجیم کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ مگر جب داعش کے سرکاری خبر رساں ادارے اعماق نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور حملہ آور کی تصویر بھی جاری کی تو یہ داعشیوں نے یہ پیغام دیا کہ انہوں نے پاکستان میں وسیع اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے اور انہوں نے اپنا وجود پاکستان میں ثابت کر دیا۔ یہی بات پاکستانی فوجی رجیم کے لیے ناقابلِ قبول تھی، چنانچہ حملے کی نوعیت چھپانے کے لیے فوری تعقیبی اقدامات کیے گئے تاکہ ایک طرف انٹیلی جنس ناکامی کا ازالہ کیا جا سکے اور دوسری طرف پاکستان میں داعش کی موجودگی پر عالمی سطح پر اٹھنے والے اعتراضات و خدشات سے خود کو بچایا جا سکے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ عرصے میں پاکستانی حکام خونریز حملوں کا الزام افغانستان پر عائد کرتے رہے ہیں، حالانکہ اسلام آباد حملے کا نہ صرف حملہ آور، بلکہ پورا گروپ اور منصوبہ ساز سب پاکستانی شہری تھے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور کے بعض رشتہ دار بھی پاکستانی سکیورٹی اداروں نے گرفتار کیے ہیں۔
اسلام آباد کی مسجد پر حملہ پاکستانی انٹیلی جنس حلقوں کے لیے ایک واضح سبق ہے کہ اپنے اسٹریٹیجک اور ٹیکٹیکل مقاصد کے لیے داعش جیسے گروہوں پر براہِ راست یا بالواسطہ جتنی بھی سرمایہ کاری کی جائے پھر بھی ایک وقت آئے گا جب یہ گروہ انہیں ہی نقصان پہنچائے گا۔ یہ واقعہ پاکستان کو بیدار کرنے اور اس گروہ کو انٹیلی جنس مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اس کے خلاف مخلصانہ جدوجہد کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔