رواں سال چھ فروری کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع خدیجۃ الکبریٰ مسجد میں ایک خودکش حملہ آور نے جمعہ کی نماز ادا کرنے والے نمازیوں کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس ہولناک حملے میں کم از کم ۳۱ افراد جاں بحق اور تقریباً ۱۷۰ زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی، جو نہ صرف پاکستان میں شیعہ اقلیت کے خلاف تشدد کی ایک کڑی ہے بلکہ حکومتِ پاکستان کی سلامتی کے انتظامات میں گہری کمزوریوں کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔
یہ دھماکہ، جو گزشتہ دس برسوں میں اسلام آباد کا سب سے خونریز حملہ قرار دیا جا رہا ہے، ملک کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کی ناکامی کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب پاکستان کئی برسوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دعوے کرتا آ رہا ہے، مگر اس قسم کے حملوں کا تسلسل اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ ریاستی ادارے اب بھی اپنے ہی دارالحکومت میں شہریوں کو مؤثر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ یہ مسجد اسلام آباد کے جنوب مشرق میں واقع ترلائی کلاں کے علاقے میں واقع ہے، جہاں جمعہ کی نماز کے دوران حملہ آور نے خودکش دھماکہ کیا۔
پولیس کے مطابق، حملہ آور کو مسجد کے دروازے پر تعینات سیکیورٹی گارڈز نے روکا تھا، تاہم اس کے باوجود وہ اپنے دھماکہ خیز واسکٹ کو اڑانے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف شیعہ برادری کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد کی ایک سنگین مثال ہے بلکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں حساسیت اور عدم استحکام کو مزید ہوا دینے کا سبب بھی بن گیا ہے۔
تاہم اس سانحے کے پس منظر میں اصل سوال یہ ہے کہ پاکستانی حکومت اس نوعیت کے حملوں کو روکنے میں کیوں ناکام ہے؟ ایسے وقت میں جب جائے وقوعہ پر زخمی افراد اور مقتولین کی لاشیں بکھری پڑی تھیں، پاکستانی حکام بالخصوص وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر دفاع خواجہ آصف اور سیکیورٹی ذرائع نے یہ دعویٰ کیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی، حملہ آور کو وہیں تربیت دی گئی، اور اس کے چار سہولت کاروں کو جن میں ایک افغان شہری، جو اس حملے کا مرکزی منصوبہ ساز بتایا جاتا ہے تکنیکی اور انسانی انٹیلی جنس کی بنیاد پر پشاور اور نوشہرہ کے علاقوں سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
محسن نقوی کی مذکورہ دعوے کے بعد پاکستانی عوام، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سرکاری حلقوں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا۔ عام شہریوں نے اپنے ردِعمل میں واضح کیا کہ یہ گرفتاریاں احتیاطی نہیں بلکہ محض ردِعملی کارروائیاں ہیں، اور سوال اٹھایا کہ اگر سیکیورٹی اداروں کے پاس اتنی معلومات پہلے سے موجود تھیں تو دارالحکومت میں حملے کو روکا کیوں نہ جا سکا؟
شیعہ برادری اور اس کی نمائندہ تنظیموں، بالخصوص مجلس وحدت مسلمین نے ان دعوؤں کو کمزور اور غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام ہے، اور ہر بڑے سانحے کے بعد محض وقتی غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے گرفتاریاں دکھا دی جاتی ہیں۔ کرگیل، مٹلی اور دیگر علاقوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران عوام نے حکومتی کمزوریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ
’’اگر دارالحکومت محفوظ نہیں، تو باقی ملک کا کیا حال ہوگا؟‘‘
اپوزیشن جماعتوں نے محسن نقوی کے بیانات کو حکومتی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ وزیر داخلہ اور ان کی حکومت صرف بیانات تک محدود ہیں، جبکہ اصل سیکیورٹی نقائص خصوصاً آئی ایس آئی اور پولیس کی ناکامی کو تسلیم کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے کی جا رہی ہیں، نہ کہ حقیقی انصاف کے تقاضوں کے تحت، کیونکہ تاحال گرفتار شدہ افراد کے خلاف کوئی ٹھوس اور تفصیلی شواہد عوام کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔
ادھر افغانستان کے امارت اسلامی کے وزارتِ دفاع کے ترجمان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب پاکستان کی اپنی سیکیورٹی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش ہے۔
مختصراً، یہ دھماکہ پاکستان کے حکومتی اداروں کے سیکیورٹی نظام میں گہری اور ساختی کمزوریوں کو نمایاں کرتا ہے۔ سب سے پہلے یہ حقیقت کہ یہ واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا جو ملک کا سب سے محفوظ شہر ہونا چاہیے؛ اس امر کا ثبوت ہے کہ انٹیلی جنس ادارے، بالخصوص آئی ایس آئی اور پولیس، اپنی بنیادی ذمہ داریوں میں ناکام رہے ہیں۔ اگرچہ پاکستان گزشتہ برسوں میں داعش کے خلاف بعض کامیابیوں کے دعوے کرتا رہا ہے، تاہم یہ حملہ اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ داعش کی سرگرمیاں اب بھی جاری ہیں اور حکومت اسے مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام ہے۔ داعش، جو شیعہ آبادی کے خلاف اپنی نظریاتی دشمنی کے لیے بدنام ہے، اس حملے کو اپنی موجودگی اور بقا کے اظہار کے لیے استعمال کرنے میں کامیاب رہی۔
دوسری جانب، یہ واقعہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کمزوری کو بھی آشکار کرتا ہے۔ حملے کے بعد چار مبینہ سہولت کاروں کی گرفتاری ایک انتہائی تاخیر سے کیا گیا اقدام ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت پیشگی انٹیلی جنس معلومات پر عمل درآمد کرنے کے بجائے صرف واقعات کے بعد ردِعمل ظاہر کرتی ہے۔ حکومتی کمزوری محض سیکیورٹی تک محدود نہیں بلکہ سیاسی سطح پر بھی واضح ہے۔ ایسے ملک میں جہاں معاشی بحران، بے روزگاری اور سماجی بے چینی پہلے ہی موجود ہو، دہشت گردی کے خلاف کوئی متحدہ اور جامع قومی پالیسی دکھائی نہیں دیتی۔
شیعہ اقلیت کے حقوق کا تحفظ جو اکثر فرقہ وارانہ حملوں کا نشانہ بنتی ہے؛ حکومت کی ترجیحات میں شامل نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ حساسیتوں کو مزید بھڑکانے کا باعث بنا ہے، جو مستقبل میں مزید تشدد کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دھماکہ حکومتِ پاکستان کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ وہ اپنے سیکیورٹی نظام کو مؤثر بنائے، انٹیلی جنس اداروں کو فعال کرے اور داعش کے خلاف واضح، مضبوط اور سنجیدہ حکمتِ عملی اپنائے نہ کہ اپنی ناکامیوں کا بوجھ دوسروں پر ڈالے۔ بصورتِ دیگر، اس نوعیت کے واقعات کا تسلسل نہ صرف پاکستان کے داخلی استحکام کو خطرے میں ڈالے گا بلکہ خطے اور ہمسایہ ممالک کا اعتماد بھی مجروح کرے گا۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام کے تحفظ کو اولین ترجیح بنائے، نہ کہ ہر سانحے کے بعد محض بیانات، مذمتیں اور الزام تراشی کا سہارا لے۔

