اسلامی تہذیب کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمان کبھی ظلم، جبر اور قبضے کے سامنے خاموش نہیں بیٹھا۔ اسلام اپنے پیروکاروں کو صرف دعا، احساسات یا نعروں تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ اُنہیں ہر قسم کی زیادتی کے مقابلے میں عملی اقدام کا حکم دیتا ہے۔ مسلمان کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ حق کی حمایت کرے اور باطل کے مقابلے میں ڈٹ کر جواب دے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿ وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍُ ﴾ (الانفال: ۶۰)
ترجمہ: اور اپنے دشمنوں کے مقابلے کے لیے جتنی طاقت تمہارے بس میں ہے، وہ تیاری میں رکھو۔
یہ آیت واضح اعلان ہے کہ اسلام محض گفتگو کا نہیں بلکہ تیاری، تدبیر اور عمل کا دین ہے۔
ایک اور مقام پر ربِ ذوالجلال نے فرمایاہے:
﴿ فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ، وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ﴾ (محمد، آیت ۳۵)
ترجمہ: تو تم سستی نہ کرو اور خود صلح کی طرف دعوت نہ دو اور تم ہی غالب ہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے گا۔
ایک اور جگہ اللہ پاک فرماتے ہیں:
﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾ (آل عمران: ۱۳۹)
ترجمہ: اور تم ہمت نہ ہارو اور غم نہ کھاؤ، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب آؤ گے۔
یہ آیتیں مسلمانوں کو آزمائشوں کے طوفان میں بھی ثبات، استقامت اور بلند حوصلے کا درس دیتی ہیں، اور کمزوری، بزدلی اور بے عملی سے باز رہنے کا حکم دیتی ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی پوری سیرت ظلم کے خلاف عملی مزاحمت کا درخشاں باب ہے۔ بدر، اُحد، خندق اور دیگر غزوات کا مقصد محض دفاع نہیں، بلکہ باطل کی بیخ کنی اور حق کی سر بلندی تھا۔ صلحِ حدیبیہ بھی درحقیقت ایک حکیمانہ عملی قدم تھا، محض ایک وقتی پسپائی نہیں۔
اسلامی تاریخ میں مجاہدین، فاتحین اور علمائے کرام نے اپنے دین، عزت اور وطن کی حفاظت صرف اقوال سے نہیں، بلکہ قربانیوں، ہجرتوں اور جہاد کے عملی سفر سے کی؛ قتیبہ بن مسلم، صلاح الدین ایوبی اور امام احمد بن حنبل جیسے اسلاف، اس کے عملی درخشاں مینار ہیں۔
عصرِ حاضر میں افغان مسلمان قوم اُن چند اقوام میں سے ہے جنہوں نے ہمیشہ استعمار، تسلط اور ظلم کے خلاف عملی اور غیرت مندانہ جواب دیا۔ اس ملت نے چنگیز خان کے یلغار سے لے کر اُس کے بیٹوں کے قہر تک، صفویوں کے فرقہ وارانہ تعصب سے لے کر انگریزوں کی استعماری سازشوں تک، سوویت یلغار سے لے کر امریکی قبضے تک، ہر ظلم کے مقابلے میں اپنے ایمان اور غیرت کی مشعل روشن رکھی۔
حالیہ دنوں میں امارتِ اسلامی افغانستان کے جانثار مجاہدین نے پاکستان کی ناکام جارحیت کے خلاف جس جرات اور استقامت سے دفاع کیا، اُس نے واضح کر دیا کہ موجودہ نظام اپنے دین، وطن اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے پرعزم اور مخلص ہے۔ یہ ردِعمل صرف ایک عسکری کارروائی نہ تھی، بلکہ تاریخ کے مجاہد اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کا زنده پیغام تھا۔
جیسے ماضی میں ہمارے ابطال نے ہر متجاوز کے سامنے سینہ سپر کیا، اسی طرح موجودہ اسلامی نظام بھی کسی بھی جارحیت یا تجاوز کا منہ توڑ جواب دینے کا عزم مصمم رکھتاہے۔
آج کے زمانے میں مذکورہ قرآنی آیات کا حقیقی مظہر، امارت اسلامیہ افغانستان کے وہ مجاہدین ہیں جنہوں نے غاصب قوتوں کے سامنے ہمیشہ ایمان، وقار اور عزت کے ساتھ کھڑا رہنے کا عہد نبھایا۔ خصوصاً پاکستان کی حالیہ جارحانہ حرکتوں کے مقابلے میں اُنہوں نے کبھی کمزوری یا مایوسی کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ بارہا امن و رواداری کی پیشکش کی۔
امارت اسلامیہ کے مجاہدین کا یہ تازہ اور جرات مندانہ ردِعمل نہ صرف قومی اتحاد کو مضبوط کرتا ہے بلکہ دنیا کو یہ دوٹوک پیغام دیتا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی اجنبی کے لیے لاوارث نہیں۔ جو بھی اس سرزمین کے وقار یا آزادی پر ہاتھ ڈالے گا، اُسے وہی قاطع، سخت اور دندان شکن جواب دیا جائے گا جو امتِ اسلام کے بہادر اسلاف کا ورثہ رہا ہے۔

