اسلام کی آمد سے قبل دورِ جاہلیت میں عربوں کا معاشرہ مختلف قسم کے مسائل اور بڑے چیلنجز سے دوچار تھا، وہ انسانی کرامت کی قدر سے ناواقف تھے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد نے انہیں واضح کر دیا کہ اسلام رحمت، عدل اور انسانی وقار کا دین ہے۔ اسلام میں انسانی جان کو بہت بلند مقام حاصل ہے، یہاں تک کہ ایک انسان کا ناحق قتل پورے انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ اسی لیے بے گناہ اور عام لوگوں کا قتل نہ صرف ایک بڑا اخلاقی جرم ہے بلکہ شرعی لحاظ سے بھی کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے۔
اسی سلسلے میں قرآنِ کریم کی چند نصوص پیش کی جاتی ہیں، تاکہ انسانی جان کی قدر و قیمت کو سمجھا جا سکے اور یہ معلوم ہو کہ قرآن نے واضح طور پر ناحق قتل کی حرمت بیان کی ہے:
1. اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا} [المائدة: ۳۲]
ترجمہ: “اور جو کوئی کسی کق قتل کرے، جبکہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لیے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے وے، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا، اور جس نے کسی ایک کو زندگی بخشی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی دی۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل اتنا بڑا جرم ہے کہ اسے پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ ناحق قتل کے دنیاوی اور اخروی نقصانات بہت زیادہ ہیں اور اس کے نتائج نہایت سنگین ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ قاتل خود بھی بعد میں شدید ندامت اور پشیمانی کا شکار ہوتا ہے۔ ناحق خون بہانے سے انسان مزید جرأت پکڑ لیتا ہے، یوں ہر قاتل گویا بدامنی کی بنیاد رکھتا ہے اور عمومی فساد کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
2. اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا} [النساء: ۹۳]
ترجمہ: اور جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے، تو اس کی سزا جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، اور اس پر اللہ کا غضب ہوگا، اور اللہ نے اس پر لعنت کی ہے، اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
یہ آیت قصداً قتل کرنے والے کے لیے سخت اخروی عذاب کو بیان کرتی ہے، جو اس جرم کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو غلطی سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر قتل کرے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ مسلمان ہے، تو ایسے شخص کے لیے آخرت میں جہنم، لعنت اور بڑا عذاب ہے، اور وہ محض کفارہ ادا کرنے سے بھی بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔
فائدہ: اس حکم میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ایسے ظالمانہ اعمال میں معاونت کرتے ہیں، یا ان کے جواز کے فتوے دیتے ہیں، یا ان ناحق قتلوں کو “جہاد” اور “ثواب” کا نام دیتے ہیں۔
3. اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ} [هود: ۱۸]
ترجمہ: سن لو! کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ بے گناہ لوگوں کا قتل صریح ظلم ہے، اور اسلام ظلم کو سختی سے رد کرتا ہے اور ظالم کو ملعون قرار دیتا ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی بے گناہ انسان، خصوصاً مظلوم مسلمان کے قتل کی حرمت بیان کی گئی ہے اور امت کو اس سے منع کیا گیا ہے:
1/ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لا يَحِلُّ دَمُ امرِئٍ مُسلِمٍ يَشهَدُ أنْ لا إلَهَ إلَّا اللهُ وأنِّي رَسولُ اللهِ، إلَّا بإحدى ثَلاثٍ: النَّفسُ بالنَّفسِ، والثَّيِّبُ الزَّاني، والمارِقُ مِنَ الدِّينِ التَّارِكُ للجَماعةِ)
راوی: عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ
(بخاری: ۶۸۷۸، مسلم: ۱۶۷۶)
ترجمہ: کسی ایسے مسلمان شخص کا خون حلال نہیں جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، مگر تین صورتوں میں: جان کے بدلے جان، شادی شدہ زانی، اور وہ شخص جو دین سے نکل جائے اور مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ دے۔
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ان تین صورتوں کے علاوہ کسی انسان کا قتل ہر حال میں حرام ہے۔
2/ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إذا بعَث سَريَّةً قال اغزُوا بِسمِ اللهِ وفي سبيلِ اللهِ فقاتِلوا مَن كفَر باللهِ لا تغُلُّوا ولا تغدِروا ولا تُمثِّلوا ولا تقتُلوا وليدًا ولا امرأةً ولا شيخًا)
راوی: عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہ
(المعجم الأوسط للطبرانی ۴/۲۶۸، مسند أحمد: ۲۷۲۸)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر بھیجتے تو فرماتے: اللہ کے نام سے اور اللہ کے راستے میں نکلو، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے قتال کرو، خیانت نہ کرو، بدعہدی نہ کرو، لاشوں کی بے حرمتی نہ کرو، اور کسی بچے، عورت یا بوڑھے کو قتل نہ کرو۔
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ حتیٰ کہ حالتِ جنگ میں بھی بے گناہ لوگ محفوظ ہیں۔
3/ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(أولُ ما يحاسبُ عليهِ العبدُ الصلاةَ ، وإنَّ أولَ ما يُقضَى بين الناسِ في الدماءِ)
راوی: عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ
(بخاری: ۶۸۶۴، مسلم: ۱۶۷۸، نسائی: ۳۹۹۱)
ترجمہ: بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا، اور لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون (قتل) کے معاملات میں فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ حدیث بھی ناحق قتل کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
سلف صالحین کے اقوال بھی اس مسئلے کی شدت کو واضح کرتے ہیں:
1. عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول:
"إن من ورطات الأمور التي لا مخرج من وقع نفسه فيها: سفك الدم الحرام بغير حله”
ترجمہ: بے شک ان ہلاکت خیز کاموں میں سے جن میں انسان پھنس جائے تو پھر نکلنے کا راستہ نہیں پاتا، ناحق خون بہانا ہے۔
2. معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
"كل ذنب عسى الله أن يغفره إلا من مات مشركا أو قتل مؤمنا متعمدا”
ترجمہ: ہر گناہ کی امید ہے کہ اللہ اسے معاف کر دے، سوائے اس کے جو شرک کی حالت میں مرے یا کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے۔
3. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"من أعان على قتل مسلم بشطر كلمة لقي الله مكتوب بين عينيه: آيس من رحمة الله”
ترجمہ: جو شخص کسی مسلمان کے قتل میں آدھے لفظ کے برابر بھی مدد کرے گا، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا: “اللہ کی رحمت سے ناامید”۔
4. سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کا قول:
في "شطر كلمة” "هو أن يقول: اقت” يعني لا يتم كلمة اقتل
ترجمہ: “آدھے لفظ” سے مراد یہ ہے کہ کوئی صرف “اقت…” کہے اور “اقتل” (قتل کرو) کا لفظ مکمل نہ کرے۔ پس دیکھو کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہے اور کتنا بھاری جرم ہے۔
(يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ) [غافر: ۵۲]
ترجمہ: اس دن ظالموں کو ان کا عذر کوئی فائدہ نہیں دے گا، اور ان پر لعنت ہوگی اور ان کے لیے برا ٹھکانہ ہوگا۔
فائدہ: اس میں خاص طور پر وہ لوگ شامل ہیں جو بغیر علم کے فتوے دے کر بے گناہ مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔
5. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لزوال الدنيا أهون على الله من قتل مؤمن بغير حق”
ترجمہ: اللہ کے نزدیک دنیا کا ختم ہو جانا اس سے زیادہ ہلکا ہے کہ کسی مؤمن کو ناحق قتل کیا جائے۔
اور روایت میں اضافہ ہے:
"ولو أن أهل سماواته وأهل أرضه اشتركوا في دم مؤمن لأدخلهم الله النار”
ترجمہ: اگر آسمانوں اور زمین والوں میں سے سب کسی ایک مؤمن کے قتل میں شریک ہو جائیں تو اللہ ان سب کو جہنم میں داخل کر دے گا۔
6. امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"وأما تحريم قتل النفس المعصومة فمما انعقد عليه إجماع المسلمين، وهو من أعظم المحرمات”
ترجمہ: بے گناہ جان کا قتل حرام ہے، اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے، اور یہ بہت بڑے حرام کاموں میں سے ہے۔
ان تمام نصوص سے واضح ہوتا ہے کہ بے گناہ انسان کا قتل اسلام میں انتہائی سنگین جرم ہے۔ حتیٰ کہ اس میں معمولی سی مدد یا اشارہ بھی سخت عذاب کا سبب بن سکتا ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ لوگ ان تعلیمات سے سبق حاصل کریں، انسانی جان کی حرمت کو سمجھیں، اور کسی بھی صورت میں ناحق قتل کی حمایت نہ کریں اور نہ ہی اس کے لیے راستہ ہموار کریں۔ ساتھ ہی بااثر لوگوں کو چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کا راستہ روکیں جو دین کے نام پر بے گناہ انسانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ اللہ کے ہاں نہایت سخت مواخذے کا باعث بنے گا۔

