Site icon المرصاد

اسلام کے نام پر اسلام دشمنی!

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ اسی اثنا میں حرقوص نامی ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:

“اللہ سے ڈرو اور انصاف کرو!”

یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غضبناک لہجے میں فرمایا:

“اگر میں ہی انصاف نہ کروں تو پھر اس زمین پر کون انصاف کرنے والا باقی رہے گا؟”

شجاعت و جرأت کے پیکر، سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس گستاخی اور سخت بے ادبی کو برداشت نہ کر سکے اور اجازت چاہی کہ اس گستاخ کی گردن اڑا دی جائے، لیکن رحمۃٌ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا۔ تاہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک اصولی اور پختہ بات ارشاد فرمائی اور اس کے ذریعے پوری امت کو قیامت تک کے لیے ایک ایسے گروہ سے آگاہ کر دیا جو ہر دور میں مختلف ناموں اور مختلف لباسوں میں ظاہر ہوگا اور اسلام کے نام کو استعمال کر کے اسلام کے پیروکاروں کے سینوں میں خنجر گھونپے گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“یہ جو بے ادبی کر رہا ہے، یہ اکیلا نہیں ہے؛ اس کے بعد اس جیسے کچھ لوگ تمہارے سامنے آئیں گے۔ ان کا حال یہ ہوگا کہ نماز اور روزے میں وہ اس قدر آگے ہوں گے کہ تم اپنے اعمال کو ان کے مقابلے میں بہت کم تر سمجھو گے، لیکن اس کے باوجود وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی ہر دور میں حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی ہے، یہاں تک کہ آج تک نہ کوئی اس کا انکار کر سکتا ہے اور نہ اس میں شک کی گنجائش ہے۔ خلفائے راشدین، امیر معاویہ، بنو امیہ، عباسی خلفا، صلاح الدین ایوبی، نورالدین زنگی، خلافتِ عثمانیہ اور آج امارت اسلامیہ کے دور تک، ہر زمانے میں حَرقوص کے پیروکار اور ہم خیال اسی طرح موجود رہے ہیں اور وقتاً فوقتاً مختلف ناموں اور صورتوں میں مسلمانوں کی صفوں کو چیرتے رہے ہیں۔ یہ اہلِ قبلہ کا خون بہاتے ہیں اور اسلام کے مقدس پیشانی پر سیاہ داغ کی مانند نظر آتے ہیں۔
ان کے اعمال کو دیکھ کر ہر زمانے میں یہود و ہنود بھی شرما جاتے ہیں؛ کیونکہ انہوں نے اسلام اور اسلامی تعلیمات کو کھیل تماشا بنا دیا ہے۔ یہ اسلام کا نام تو لیتے ہیں، مگر کبھی اسلام کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ جو بات ان کے ناپاک ذہن میں آتی ہے اسی کو اسلام کی منفی اور خود ساختہ تعبیر بنا لیتے ہیں، اور اپنی غلطیوں اور بدزبانی کے جواز کے لیے ایسے دلائل گھڑتے ہیں جو عقل کے ترازو میں بھی پورے نہیں اترتے۔

جنگِ جمل میں جب حضرت علی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کے درمیان تنازع ختم ہو گیا اور سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے امّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پورے احترام کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ کر دیا، تو فتنہ کے مراکز اور ذوالخویصرہ کے پیروکار شور مچانے لگے۔ انہوں نے نعرے لگائے اور کہا: کیوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (معاذ اللہ) کو لونڈی نہیں بنایا گیا؟ ان کی دلیل یہ تھی کہ جس سے جنگ جائز ہو، اس کو غلام بنانے میں کیا رکاوٹ ہے؟

اس پر حیدرِ کرّار رضی اللہ عنہ نے نہایت معقول جواب دیا اور فرمایا: قرآن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو مؤمنوں کی مائیں قرار دیا ہے؛ کیا تم اس پر راضی ہو کہ اپنی ماں کو قید کرو اور لونڈی بنا لو؟

حقیقت میں وہ ایک طرف لوگوں کو ان کی دینی جہالت سے آگاہ کر رہے تھے اور دوسری طرف ان کی عقل پر ماتم، کہ اتنی سادہ بات بھی ان کے ذہن میں نہیں سما رہی تھی۔ مگر یہ کم عقل اور نادان لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ، بالخصوص سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بھی اپنی تہمتوں کا نشانہ بنانے لگے۔

پھر ایک اور موقع پر جب سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں طرف سے ثالث مقرر کیے جائیں جو مسئلے کا حل نکالیں، تو ان نئے ابھرنے والے فتنہ گروں نے شور مچایا کہ نہیں، فیصلہ کسی تیسرے فریق نے نہیں بلکہ قرآن کرے گا! ظاہر ہے یہ ایک بے معنی اور کھوکھلی بات تھی، محض بات کو طول دینے کی کوشش۔ اس پر سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زبان کے بجائے ایک بے مثال عملی جواب دیا۔

آپ نے سینکڑوں لوگوں کو حکم دیا کہ قرآن کے اوراق اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر ان عقل سے عاری لوگوں کے سامنے جائیں۔ جب لشکر قرآن کے اوراق اٹھائے ان کے سامنے آیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں فرمایا:

“اے قرآن! بول اور ہمارے درمیان فیصلہ کر!”

لوگ حیران ہو گئے کہ قرآن کے اوراق کیسے بول سکتے ہیں؟ یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی خوب معلوم تھی، مگر آپ ان کی حماقت اور نادانی کو لوگوں پر آشکار کرنا چاہتے تھے اور دکھانا چاہتے تھے کہ یہ کس طرح گمراہ ہو چکے ہیں۔ اگر قرآن کا فیصلہ واقعی ان کے نزدیک معتبر ہے تو پھر قرآن کے جاننے والے (علماء) ہی فیصلہ کریں گے، اور فیصلہ کرنے کا اختیار انہی کو ہوگا جنہیں اللہ نے قرآن کا فہم عطا فرمایا ہے۔ اور کیا صحابۂ کرام میں، خصوصاً حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی اس علم کا حق دار ہو سکتا ہے؟ لیکن جہالت کے پردے ان کی عقلوں پر پڑے ہوئے تھے، اسی لیے وہ اس سادہ بات کو سمجھنے سے بھی عاجز تھے۔

حَرقوص کے ان بھائیوں اور ساتھیوں کے بارے میں جن کی پیش گوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی، ان کی ایک نمایاں صفت یہ ہے کہ دین کی صحیح سمجھ نہ ہونے اور اپنی من مانی تعبیرات کی بنا پر مسلمانوں کا خون بہانے میں بے حد دلیر ہوتے ہیں۔ ایک طرف اپنی احمقانہ پرہیزگاری کے سبب راستے میں پڑی کھجور کا ایک دانہ بھی نہیں اٹھاتے کہ کہیں گناہ نہ ہو جائے، اور دوسرے کی حق تلفی نہ ہو؛ مگر دوسری طرف زمین پر اللہ کے بہترین بندوں کو ایسی بے رحمی سے قتل کرتے ہیں کہ انسان کا دل کانپ اٹھتا ہے۔

جب انہوں نے جلیل القدر صحابی حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ کو گرفتار کیا، تو محض اس بنا پر کہ اس نے ان کے سوال کے جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی برائی نہیں کی، پہلے اسے درخت سے باندھا، سخت اذیت دی، اور پھر دریا کے کنارے جانور کی طرح ذبح کر دیا۔ اس کے بعد اس کی اہلیہ پر ہاتھ ڈالا اور کسی سوچ بچار کے بغیر اس کا پیٹ چاک کر کے اسے بھی شہید کر دیا۔ لیکن اسی وقت جب درخت سے ایک کھجور گری اور ایک کم عقل نے اسے منہ میں ڈال لیا تو دوسرے نے فوراً ٹوک دیا: تم نے مالک کی اجازت کے بغیر کھجور کھائی، یہ تو حرام ہے! اسی طرح جب ایک خارجی نے ایک غیر مسلم کے سور کو تلوار ماری تو دوسرے خارجی نے اسے سخت ڈانٹا، مالک کو تلاش کیا اور سور کی قیمت ادا کی۔

سیدنا حضرت علی، حضرت امیر معاویہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم، یہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ، آپ کے قریبی رشتہ دار، اسلام کے عظیم ستون اور اسلامی فتوحات کے سردار تھے، خوارج نے ان تینوں کے قتل کا منصوبہ بنایا، جس کے نتیجے میں رسول اللہ کے داماد اور شیرِ خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

ذوالخویصرہ کے اس ناپاک لشکر کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ یہ ہر بات میں کیڑے نکالتے ہیں اور معمولی اختلاف پر اپنے مخالف کو مرتد اور مشرک قرار دے دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک گناہوں کی کوئی درجہ بندی نہیں؛ یا تو ان کی طرح بدبخت مسلمان بن جاؤ، یا پھر ان کی مشین سے تم پر ارتداد اور شرک کی مہر لگتی رہے گی۔ جب لوگوں نے ان سے کہا کہ حضرت علی کے ساتھ کیوں نہیں مل جاتے؟ تو کہتے تھے: پہلے حضرت علی شرک سے توبہ کریں، پھر ایمان لائیں، تب ہم بات کریں گے۔

حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایمان پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں، آپ کو حق و باطل کا معیار قرار دیتے ہیں، آپ سے محبت کو ایمان اور آپ سے دشمنی کو ایمان کے منافی بتاتے ہیں؛ مگر یہاں یہ نادان لوگ معمولی اختلاف پر انہیں مشرک کہہ رہے ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس علم کے نام پر کچھ نہیں، یہ محض لفظوں کے فقیر ہیں، عمومی نصوص سے غلط استدلال کرتے ہیں اور لفظی ترجموں کے ذریعے “بابُ العلم” حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے “اِنِ الحُکمُ اِلّا لِلّٰہ” کا درس دیتے ہیں۔

اب اسی تناظر میں اس دور کے حَرقوصی اور خویصری گروہوں کو دیکھ لیجیے: جو کچھ وہ خلافتِ راشدہ میں کرتے تھے، آج بھی بعینہٖ وہی کر رہے ہیں۔ افغانستان میں دہائیوں بعد جو اسلامی نظام قائم ہوا، جس کے لیے دس لاکھ سے زائد شہدا کا پاکیزہ خون بہایا گیا، اور جس نظام کے معروف قائد امیرالمؤمنین حفظہ اللہ آج بھی ہر اسٹیج سے یہ اعلان کرتے ہیں: “اے لوگو! اگر اس نظام میں تمہیں اسلام کے خلاف کوئی بات نظر آئے تو ہمیں بتاؤ تاکہ ہم اس کی اصلاح کریں”، اسی نظام کے خلاف یہ حَرقوصی اور خویصری گروہ اکٹھے ہو گئے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف غیروں کی مدد لینے پر آمادہ ہیں اور انہیں کوئی شرم بھی نہیں آتی؛ کیونکہ ان کے نزدیک ایک سور کی قیمت ایک صحابی کے بیٹے سے زیادہ ہے۔

جب سے رب العزت نے امارت اسلامیہ کو فتح عطا کی اور اس کے ہاتھوں دنیا کے کفار اور ان کے اتحادیوں کو ذلیل کیا، تب سے ان خویصری اور حَرقوصی گروہوں نے ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔ انہوں نے مساجد میں عام مسلمانوں کو نشانہ بنایا، اسلامی مدارس پر حملے کیے، عالمِ اسلام کے جلیل القدر علما کو بے رحمی سے شہید کیا، اور اسلامی نظام کے سرکردہ افراد اور ان مجاہد کمانڈروں کے پیچھے پڑ گئے جو آج بھی کفر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں۔

ان کے جرائم میں تازہ ترین جرم گزشتہ روز کابل کے علاقہ شہرِنو، کوچہ گل فروشی کے ایک ہوٹل میں پیش آنے والا دل خراش واقعہ ہے، جہاں اس ذلیل گروہ نے دھماکہ خیز مواد کے ذریعے سات عام مسلمانوں کو زندہ جلا دیا اور پھر بڑے فخر سے اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ ان خدا سے بے خوف لوگوں کو اتنی بھی حیا نہ آئی کہ ان مظلوم اور بے بس مسلمانوں کو مرتد اور مشرک بھی قرار دے دیا۔

اہلِ علم و دین اس بات پر متفق ہیں، اور حالات نے بھی ثابت کیا ہے، کہ ایسے لوگ ہمیشہ اسلامی قوت کو روکنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں، اور اغیار نے انہیں خریدے ہوئے غلاموں کی طرح برتا ہے۔ خلفائے راشدین کے دور میں اسلامی فتوحات پھیل رہی تھیں اور کفر کے محلات لرز رہے تھے، تو دشمنوں کو اس کا توڑ نہ ملا؛ چنانچہ انہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھے ان احمقوں کو استعمال کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمانوں کو آپس میں لڑا دیا۔

بعد کے ادوار میں بھی یہی سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ افغانستان کی سرزمین پر اللہ کا نظام اپنی اصل صورت میں واپس آ گیا؛ مگر اغیار اسے برداشت نہ کر سکے، بعض پڑوسیوں کے پیٹ میں بھی درد اٹھا، اور جب وہ خود کچھ نہ کر سکے تو حسبِ معمول انہی احمقوں کو آلۂ کار بنا لیا۔

ایسے وقت میں کہ جب امت کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے، فلسطین کی سرزمین کو ملعونوں نے جہنم بنا دیا ہے، اور پوری امت کی نظریں اتحاد کے لیے امارت اسلامیہ کی طرف لگی ہوئی ہیں، عین اسی وقت یہ بدبخت لوگ اغیار کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور امارت اسلامیہ پر اعتراضات کر رہے ہیں۔ اگر ان کا مقصد واقعی اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچانا ہوتا تو اسرائیل کی سرزمین ان کے لیے موجود تھی؛ وہاں وہ بہتر جہاد کر سکتے تھے اور کمزور مسلمانوں کو آگ سے نکال سکتے تھے۔ مگر چونکہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کی قسم کھا رکھی ہے، اس لیے ان کا سارا زور بھی بے بس مسلمانوں ہی پر نکلتا ہے۔

Exit mobile version