31 اگست 2021 نہ صرف قبضے کے خاتمے اور افغانستان سے آخری امریکی فوجیوں کے شرمناک انخلا کی تاریخ تھی، بلکہ اسے ملک کی معاصر تاریخ کے ایک تاریک باب کے خاتمے کی تاریخ بھی سمجھا جاتا ہے۔ تاریخی شواہد اور دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے، افغانستان میں داعش کی دہشت گرد گروہ کے ساتھ خفیہ تعاون کیا تھا۔
افغانستان میں امریکہ کی 20 سالہ عسکری موجودگی کے دوران، داعشی خوارج کی دہشت گرد تنظیم کی سرگرمیاں مشکوک انداز میں بڑھیں۔ یہ گروہ (داعشی خوارج)، جو 2014 سے پہلے افغانستان میں کوئی اثر و رسوخ نہیں رکھتا تھا، اچانک 2015 سے 2019 کے درمیان ملک میں ایک بڑے سیکیورٹی خطرے کے طور پر ابھرا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں امریکہ کے جھوٹے دعووں کے برعکس، امریکی فوج نے داعش کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی۔ بلکہ کئی معاملات میں، امریکی فضائی حملوں نے خفیہ طور پر امارت اسلامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں کو نشانہ بنایا، جو ملک کو حملہ آوروں کے پنجوں سے آزاد کرانے کے لیے لڑ رہے تھے۔ مشرقی افغانستان سے مقامی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فوج نے بالواسطہ طور پر داعش کو امارت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی پیش قدمی روکنے کے لیے مصنوعی اور جعلی رکاوٹوں کے ذریعے اس سرزمین پر موجودگی اور توسیع کا موقع فراہم کیا۔
معتبر عالمی اخبارات کی شائع کردہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ پینٹاگون اور امریکی فوج نے جان بوجھ کر داعش کے خطرے کو افغانستان میں اپنی موجودگی کا جواز فراہم کرنے کے لیے مبالغہ آمیز انداز میں پیش کیا، جبکہ وہ خود اس تکفیری گروہ کے غیر اعلانیہ معاون تھے۔
افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی شکست اور ۳۱ اگست اور یکم ستمبر 2021 کی درمیانی شب آخری امریکی فوجی کے شرمناک انخلا کے بعد، کئی حیران کن حقائق سامنے آئے: جیسے داعش کے دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی، داعش کے لاجسٹک نیٹ ورکس کی تباہی، اور کچھ امریکی حکام اور داعش کے رہنماؤں کے درمیان تعاون کو ظاہر کرنے والی دستاویزات کا انکشاف۔ یہ تمام عوامل اس حقیقت کے ثبوت تھے کہ داعش کی طاقت کا اصل مظہر امریکہ کا خفیہ تعاون تھا۔
یہ گروہ (داعش) صرف اس وقت طاقتور تھا جب امریکہ اس کے ساتھ تھا اور اس کی حمایت کر رہا تھا۔ ۳۱ اگست نہ صرف افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کے خاتمے کی تاریخ تھی، بلکہ خطے میں امریکہ کے بڑے جیو پولیٹیکل منصوبے کی ناکامی کی بھی علامت تھی۔
اس لیے، افغانستان میں ۳۱ اگست 2021 کے واقعات نے یہ ثابت کیا کہ امریکہ نہ صرف دہشت گردی کے خلاف برسر جنگ نہیں تھا، بلکہ دہشت گردی کا پیدا کرنے والا بھی تھا۔ داعش کی تکفیری تنظیم بنانے کے ذریعے، وہ افغانستان کو خطے کے کنٹرول کے لیے ایک اڈے میں تبدیل کرنا چاہتے تھے، لیکن افغانوں کی مزاحمت اور امریکہ کا شرمناک انخلا اس ناپاک منصوبے کی ناکامی کی علامت بن گیا۔
آج، افغانستان امریکہ اور داعش کے بغیر ایک آزاد مستقبل کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔ یہ دن اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ کوئی بھی عظیم طاقت دہشت گردی کے ذریعے آزاد سرزمین کو زیر نہیں کر سکتی۔

