تاریخ کے دوران، افغانستان ایسا ایک نیل رہا ہے جس میں ظالم اور ستمگر ڈوبتے رہے ہیں۔ گزشتہ ایک صدی میں، جو بھی طاقت غرور اور جارحیت کے ساتھ اس سرزمین میں داخل ہوئی اور اپنے آپ کو اللہ جل جلالہ کے قانون سے بالاتر سمجھا، آخرکار افغانوں کے عزم کے سامنے شکست کھا گئی۔ اس سرزمین نے بارہا ثابت کیا ہے کہ یہ سلطنتوں کا قبرستان ہے۔
برطانوی سلطنت نے اپنے استعماری غرور کے ساتھ طوفان کی مانند افغانستان پر حملہ کیا، مگر یہاں کے لوگوں کی مزاحمت کے سامنے شکست کھائی اور تاریخی رسوائی کے ساتھ یہاں سے فرار ہوئی۔ اس کے بعد سوویت یونین ایک بڑی فوجی قوت اور لشکر کے ساتھ افغانستان میں داخل ہوا، لیکن افغانوں کے عزم نے اسے بھی شکست دی اور اس کے سپاہی اسی سرزمین میں دفن ہو گئے۔
بعد ازاں امریکہ، زمانے کا فرعون، جدید ترین ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے ساتھ افغانستان آیا تاکہ اپنی مرضی اس قوم پر مسلط کرے، لیکن بیس سالہ قبضے کے بعد آخرکار ذلت اور رسوائی کے ساتھ واپس ہوا اور یہ اعتراف کیا کہ افغانستان بڑی طاقتوں کی شکست کا میدان ہے۔
آج پاکستان کی فوجی رجیم، جس نے ظلم اور جارحیت کی راہ اختیار کر رکھی ہے، اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس سرزمین میں ظالموں کا انجام کبھی نہیں بدلا۔ اگر کوئی حکومت ظلم اور خونریزی کی بنیاد پر مسلمانوں کے خلاف کھڑی ہوتی ہے، تو جلد یا بدیر وہ افغانستان کے نیل کے عذاب والے طوفان میں ڈوب جائے گی۔
پاکستان کی فوجی رجیم کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ حکومتوں کا ظلم بالآخر قوموں کو بحران سے دوچار کر دیتا ہے۔ اپنے فوجی ظلم کو روک لو! اگر پاکستان کے عوام اور علماء اپنی رجیم کے ظلم اور خونریزی کے خلاف خاموش رہیں گے، تو تاریخ انہیں ان جرائم میں شریک قرار دے گی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“عالم وہ ہے جو اپنے زمانے کی جہالت کو پہچان لے۔”
لہٰذا علما کو چاہیے کہ وہ ظلم اور جہالت کے خلاف خاموش نہ رہیں، کیونکہ ظلم کے سامنے خاموشی خود اس کے ساتھ ایک طرح کی شراکت ہے۔ تاریخ گواہ ہے: ہر وہ کشتی جو ظلم کی بنیاد پر چلتی ہے، آخرکار عدل کے نیل میں ڈوب جاتی ہے۔

