Site icon المرصاد

افغان افواج کو حاصل عوامی حمایت اور دفاعِ وطن کے لیے بلند حوصلہ

ایک حقیقی اسلامی نظام کی پائیداری اور اقتدار کے تسلسل کا راز نہ تو محض فوجی قوت میں پوشیدہ ہوتا ہے اور نہ ہی عالمی حمایت میں؛ بلکہ اس کا دار و مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ حکمران نظام اپنی تمام پالیسیوں اور طرزِ عمل میں اسلامی اصولوں کا کس قدر پابند اور وفادار ہے، اور عوام اس سے کس حد تک مطمئن اور اس کے حامی ہیں۔

پاکستانی فوجی رجیم اور افغانوں کے درمیان جاری کشمکش میں اس وقت دو ایسے فریق آمنے سامنے ہیں جن کی نوعیت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ ایک جانب وہ قوت ہے جو جبر اور طاقت کے بل پر بیرونی مقاصد کے لیے اپنے اجرتی، ٹھیکہ دار اور منصوبہ جاتی لشکر کو میدان میں لائی ہے اور عالمی منصوبوں اور ڈالروں کے حصول کے لیے اپنی عسکری صلاحیت ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے، جبکہ اپنی اندرونی کمزوریوں اور خلا کو نہایت ڈھٹائی کے ساتھ چھپانے میں مصروف ہے۔

دوسری جانب ایک ایسے اسلامی نظام کے مجاہدین ہیں جو اپنے وطن کے دفاع کے لیے جہاد پر نکلے ہیں۔ ان کے پیچھے سینکڑوں بے گناہ شہریوں کی مظلومانہ شہادتوں کی ایک طویل داستان ہے۔ یہ بچے، عورتیں اور بوڑھے، جو ماہِ مبارک رمضان کے دوران شہید کیے گئے، انہوں نے اپنے گھروں میں نہ کسی امریکی، نہ کسی مغربی اور نہ ہی کسی برطانوی فوجی کو قتل کیا تھا؛ بلکہ انہیں ایک ایسے ’’ایٹمی طاقت‘‘ رکھنے والے ملک نے نشانہ بنایا جو دنیا میں خود کو دسویں بڑی عسکری قوت قرار دیتا ہے۔ اس کے فوجی حکمرانوں نے ہمیشہ عالمی طاقتوں کے لیے اپنے آپ کو پیسے کے عوض کرائے کے قاتلوں کے طور پر انتہائی سستے داموں پیش کیا ہے، اور اس کی تازہ مثال وہ پیشکش تھی جس میں غزہ میں اسرائیلی قابض فوج کی مدد اور اس کی حفاظت کے لیے اپنے فوجیوں کو بھیجنے کی بات کی گئی۔

یہ فوج نہ صرف اپنے ہی عوام کی نجات، خوشحالی اور فلاح کے لیے کسی مثبت تاریخ یا کارنامے کی حامل نہیں رہی، بلکہ اس کے برعکس اس نے ہمیشہ اپنی طاقت، ہتھیاروں اور منصوبوں کو غیر پاکستانی اقوام کے خلاف آزمایا ہے۔ اس کا ماضی اس قدر پست اور افسوسناک ہے کہ اس نے عافیہ صدیقی نامی ایک مسلمان خاتون کو بھی امریکہ اور دیگر ڈالری بازاروں کے ہاتھ فروخت کر دیا۔

اس وقت بھی پاکستان میں متعدد ایسے احتجاجی مظاہروں اور عوامی تحریکوں کو سختی سے روکا جا رہا ہے جن کا مقصد پاکستان کی مخصوص فوجی اشرافیہ کی بالادستی کے خلاف آواز بلند کرنا، افغانستان پر ہونے والے وحشیانہ حملوں کی مذمت کرنا اور اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنا ہے۔ وہاں نہ ذرائع ابلاغ کو آزادی دی جاتی ہے اور نہ ہی سیاسی تجزیہ نگاروں کو یہ اجازت ہے کہ وہ فوج کی ظالمانہ اور افغانستان مخالف پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔ اسی طرح وہ ان بین الاقوامی اصولوں اور معاہدوں کا بھی کوئی احترام نہیں کرتے جن پر وہ خود یقین کا دعویٰ کرتے ہیں اور عالمی برادری میں شمولیت کے لیے جن پر دستخط کر چکے ہیں۔
دوسری جانب افغان سکیورٹی فورسز انتقامی حملوں کے ذریعے اپنے مظلوم عوام کا بدلہ لے رہی ہیں اور اپنی مقدس سرزمین کے دفاع کے لیے سینہ سپر ہیں۔ وہی سرزمین جسے کل انہوں نے اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر نیٹو اور امریکی قابض افواج کے سخت اور منظم قبضے سے آزاد کروایا تھا اور یوں تاریخ میں فتح کا ایک اور سنہرا باب رقم کیا۔

تمام فوجی تجزیہ کار اور گزشتہ بیس برسوں کی جدوجہد کا مشاہدہ کرنے والے اس بات پر حیران ہیں کہ آخر کس طرح طالبان مجاہدین نے خالی ہاتھ اور نہایت ناممکن حالات میں یہ کارنامہ انجام دیا کہ اپنی ہی سرزمین پر ایک بار پھر اسلامی نظام کا اقتدار قائم کر لیا اور امارتِ اسلامی کے ان اصولوں کو خود پر اور معاشرے پر نافذ کیا جن کے خلاف پوری دنیا صف آرا تھی؟ اس سوال کا جواب دراصل بہت سادہ ہے، اور وہ یہ کہ یہ جدوجہد اپنے عوام کی کھلی اور خاموش دونوں طرح کی گہری حمایت سے بہرہ مند تھی۔

عوامی حمایت کے بغیر یہ ممکن نہ تھا کہ دنیا کی جدید ترین اور انتہائی مہلک فوجی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں وہ لشکر کامیاب ہو جاتا جس کے ہتھیار اور رسد اکثر سوال اور محدود وسائل کے سہارے چلتے تھے۔ یہ معاصر تاریخی واقعہ پاکستانی نظام اور اس کے فوجیوں کے لیے ایک واضح سبق رکھتا ہے کہ جنگیں دراصل حوصلے اور عقیدے سے جیتی جاتی ہیں، اور ان کے تسلسل اور کامیابی کا سب سے اہم راز عوام کی فیصلہ کن حمایت ہوتی ہے۔

جس دن سے افغان بہادر افواج نے اپنی سرزمین اور عوام کے دفاع کے لیے انتقامی کارروائیوں کے تحت ’’ردِ الظلم‘‘ کے نام سے آپریشن کا آغاز کیا ہے، اسی وقت سے ملک کے گوشے گوشے میں عوامی حمایت کی اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں۔ لوگ اپنے دفاعی اہلکاروں کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈال رہے ہیں، انہیں افطار کی دعوتیں دے رہے ہیں اور ان کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔

یہ فرق کہ ایک طرف عوام اس فوج سے خوفزدہ ہو کر اس سے دور بھاگتے ہیں اور اسے شر اور تباہی کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف اپنے سکیورٹی اہلکاروں کو نجات کا فرشتہ اور اپنا محافظ قرار دیتے ہیں؛ ایک نہایت واضح پیغام رکھتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اب کسی کو بھی افغانستان کی طرف بری نیت اور جارحیت کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ آج افغانستان میں ایک ایسا نظام قائم ہو چکا ہے جو بیرونی منصوبوں، احکامات اور مشوروں کے تابع نہیں، بلکہ اپنی اسلامی پالیسی اور عوامی حمایت پر قائم ہے۔ یہ نظام بڑی بڑی سلطنتوں کو شکست دینے کی تاریخ رکھتا ہے اور ان کے چھوٹے گماشتوں اور غلام صفت کارندوں کا بھی بخوبی مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بہتر یہی ہوگا کہ پاکستانی رجیم اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے، اپنے عوام کا احترام کرے، اپنے مسائل کا حل اپنی سرزمین کے اندر تلاش کرے اور مزید مظلوم افغانوں کو اس حال پر چھوڑ دے کہ وہ اپنے ملک کی تعمیر و ترقی اور بحالی کے جاری روشن عمل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اسی طرح اگر فوجی رجیم کے علاوہ کوئی اور ہمسایہ یا علاقائی ملک بھی امارتِ اسلامی کے ساتھ کسی مسئلے سامنا ہے، یا اسے افغان سرزمین سے کسی خطرے یا خدشے کا احساس ہے، تو بہتر راستہ یہی ہے کہ اسے سفارتی انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے اس کا حل نکالا جا سکے۔ اس حوالے سے امارتِ اسلامی کی واضح خارجہ پالیسی موجود ہے اور دنیا کے چالیس سے زائد ممالک میں اس کی باضابطہ اور کھلی نمائندگیاں موجود ہیں، جن میں سے ہر ایک بات چیت اور رابطے کے مرکز کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔

Exit mobile version