Site icon المرصاد

افواہوں سے متعلق مسلمان کا رویہ!

افواہوں کا پھیلنا معاشرے میں دلوں کو جدا کرتا ہے، اعتماد کو کمزور کرتا ہے، اور دشمن کے مقاصد کے حصول کے لیے مواقع فراہم کرتا ہے۔ افواہ گویا آگ کی طرح ہے، جس پر اگر بروقت قابو نہ پایا جائے تو امت کی یکجہتی اور استحکام کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ یہ ایک ایسی فکری جنگ کا اہم ہتھیار ہے، جس کے ذریعے دشمن امت کی روحانی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے۔

قرآن کریم مسلمانوں کو ہدایت دیتا ہے کہ ہر خبر کو قبول کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کریں، کیونکہ بغیر تحقیق کی بات فساد کا باعث بنتی ہے:

«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا…» (الحجرات: ۶)
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو..”

جب دشمن ہتھیاروں کے ذریعے کامیابی حاصل نہیں کر پاتا، تو وہ ذہنوں کی جنگ شروع کرتا ہے۔ وہ پروپیگنڈے، جھوٹ، اور افواہوں کے ذریعے امت کی صفوں میں خوف، بداعتمادی، اور نفاق پھیلاتا ہے۔ اس جنگ کا مقصد امت کے ایمانی عقائد کو کمزور کرنا اور لوگوں کو اپنے نظام، قیادت، اور اتحاد سے بددل کرنا ہے۔ یہ ایسی جنگ ہے جو ہتھیاروں کی بجائے الفاظ، میڈیا، اور ذہنوں کے ذریعے لڑی جاتی ہے۔

اسلام نے ہر خبر کی تصدیق کا حکم دیا ہے اور بغیر ذمہ داری کے بات پھیلانے کے خلاف سخت تنبیہ کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«کفى بالمرء كذباً أن يحدث بكل ما سمع.» (رواه مسلم)
"کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔”

یہ حدیث خبر کی تصدیق کی اہمیت کو واضح کرتی ہے، کیونکہ بے جا باتوں کا پھیلانا امت میں انتشار اور فکری افراتفری کا باعث بنتا ہے۔

ہر افواہ کا ایک مقصد ہوتا ہے، اور اس کا سب سے بڑا مقصد نظام اور قیادت کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنا اور لوگوں کو ان کے ایمان و اتحاد سے لاتعلق کرنا ہے۔ دشمن کی کوشش ہوتی ہے کہ قوموں کو اندر سے تباہ کیا جائے۔ قرآن کریم ایسے لوگوں کے بارے میں کہتا ہے:

«إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ…» (النور: ۱۹)
"بے شک جو لوگ پسند کرتے ہیں کہ ایمان والوں میں غلط بات پھیلے، ان کے لیے دردناک عذاب ہے…”

یہ آیت ان لوگوں کی ذہنیت کو عیاں کرتی ہے جو افواہوں اور بری خبروں کے پھیلانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔

افواہیں نہ صرف فکری انتشار پیدا کرتی ہیں، بلکہ ایک قوم کے اعتماد، اتحاد، اور یقین کی بنیادیں ختم کرتی ہیں۔ افواہوں کی آگ تلواروں کی جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ دلوں اور ذہنوں کی جنگ ہے۔ اگر لوگ لاپرواہی برتیں تو دشمن کے مقاصد انہی کے ذریعے پورے ہو جاتے ہیں۔

مومن وہ ہے جو عقل اور ایمان کے درمیان توازن رکھتا ہے؛ نہ جذبات کا شکار ہوتا ہے اور نہ ہر سنی ہوئی چیز سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر خبر، دعوے، یا تبصرے کو عقل، تقویٰ، اور سچائی کے معیار پر پرکھنا چاہیے۔ اسی لیے مومن ہر سنی ہوئی بات کے ماخذ (سرچشمے) اور مقصد پر غور کرتا ہے تاکہ جھوٹ اور فریب کا شکار نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اس اصول کو یوں بیان کرتا ہے:

«وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ، وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ…» (النساء: ۸۳)
"اور جب ان کے پاس کوئی خبر آتی ہے، خواہ امن کی ہو یا خوف کی، وہ اسے فوراً پھیلا دیتے ہیں۔ اگر وہ اسے رسول اور اپنے ذمہ داروں کی طرف لوٹاتے تو جو لوگ اس کی تحقیق کر سکتے ہیں، وہ اس کا حقیقت حال معلوم کر لیتے…”

یہ آیت مومن کے لیے ایک اخلاقی اور فکری اصول متعین کرتی ہے: جب معاشرے کے امن، سیاست، یا نظام سے متعلق کوئی حساس خبر پھیلتی ہے، تو مومن کی ذمہ داری ہے کہ بغیر تحقیق و تصدیق کے اسے نہ پھیلائے۔ اسلام کا پیغام یہ نہیں کہ مومن بے پروا رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ذمہ دارانہ رویہ اپنائے اور ہوشیار رہے۔

اس آیت میں دو اہم نکات ہیں:

1. «أَذَاعُوا بِهِ» – یعنی وہ فوراً خبر پھیلاتے ہیں، یہ بے پروا، جذباتی، اور نادان لوگوں کا عمل ہے۔
2. «وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ » – یہ اسلامی فکری نظام کا اصول ہے، یعنی اہم خبریں ان لوگوں سے پرکھی جائیں جو علم، تجربہ، اور ذمہ داری رکھتے ہیں، جیسے کہ علماء، رہنما، اور امت کے قائدین۔

یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ امت کا فکری استحکام "دقیق مطالعہ اور مشورہ” کے توازن میں ہے، نہ کہ افواہوں کے پھیلانے میں۔ مومن کو فکری نظم کا محافظ ہونا چاہیے، نہ کہ انتشار پھیلانے والا۔

دوسرے لفظوں میں، یہ آیت خبر کے انتظام، ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری، اور فکری اعتدال کے لیے ایک الہی قانون ہے۔ مومن کون ہے؟ وہ جو زبان اور ذہن کے درمیان حد جانتا ہے، عقل اور تقویٰ کے درمیان توازن رکھتا ہے، اور بات پھیلاتے وقت امت کے خیر کو مدنظر رکھتا ہے، نہ کہ دشمن کے پروپیگنڈے کو۔

امت مسلمہ صادق اور امین امت ہے۔ ہر مسلمان کو امت کی عزت اور استحکام کا نگہبان ہونا چاہیے۔ جو شخص بغیر تحقیق کے باتیں پھیلاتا ہے، وہ خواہ نادانستہ ہی کیوں نہ ہو، دشمن کے پروپیگنڈے کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ ایک عظیم فکری اور ایمانی ذمہ داری ہے کہ مسلمان اپنی زبان اور بیان کو حق کے لیے استعمال کرے، نہ کہ باطل کو تقویت دینے کے لیے۔

ذرائع ابلاغ کا کردار بھی بہت اہم ہے، کیونکہ میڈیا خیالات کی تشکیل کرتا ہے۔ اگر امت کے ذرائع ابلاغ بغیر تحقیق کے افواہیں پھیلاتے ہیں تو یہ قوم کے فکری تحفظ کے خلاف خیانت ہے۔ اسلامی میڈیا کو امانت، صداقت، اور امت کے خیر کی بنیاد پر عمل کرنا چاہیے، نہ کہ غیر ملکی ایجنڈوں کی بنیاد پر۔

جب مومن کوئی مشکوک خبر سنتا ہے تو وہ تقویٰ، عقل، اور علم کی روشنی میں اسے پرکھتا ہے۔ وہ معتبر ذرائع تلاش کرتا ہے اور باطل پروپیگنڈے کو دہرانے سے گریز کرتا ہے۔ یہ رویہ فکری مزاحمت کی علامت ہے اور مومن کے استحکام کا مظہر ہے۔

ہم ایمان، غیرت، اور بیدار فکر رکھنے والی امت ہیں۔ آئیے، ہر افواہ، منفی پروپیگنڈے، اور جھوٹی بات کے مقابلے میں قرآن اور عقل کی روشنی میں ڈٹ کر مقابلہ کریں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا…» (آل عمران: ۱۰۳)
"اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو…”

اسی طرح، افواہوں کے مقابلے میں مزاحمت نہ صرف عقل کی ضرورت ہے، بلکہ ایمان کا حصہ بھی ہے۔

Exit mobile version