Site icon المرصاد

امارت اسلامیہ کی کامیاب خارجہ پالیسی؛ سیاسی تنہائی سے عالمی سطح پر مؤثر موجودگی تک!

امارت اسلامیہ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی خارجہ پالیسی نے وابستگی، دباؤ اور غیرملکی اثرورسوخ کی دائرے سے خود کو آزاد کرلیا۔ اس بار امارت اسلامیہ نے ایک ایسی حکمتِ عملی اختیار کی ہے جس کا محور اسلامی خودمختاری اور قومی مفاد ہے۔ یہ تبدیلی گزشتہ بیس برسوں کی انحصار پسندی اور بیرونی طاقتوں پر تکیہ کرنے والی پالیسی کے مقابلے میں ایک روشن اور نئی سمت کی نمائندگی کرتی ہے، جس کا مقصد افغانستان کی حقیقی خودمختاری کو مستحکم بنانا ہے۔ اس نئی خارجہ پالیسی کی بنیاد استقلالیت کے جذبے پر رکھی گئی ہے، جو داخلی و خارجی امور کے درمیان توازن پر خاص توجہ دیتی ہے۔

امارت اسلامیہ نے دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ متوازن روابط استوار کیے ہیں، جو سیاسی مفاہمت اور حقیقت پسندی کی واضح علامت ہے۔ افغانستان نہ کسی اتحاد کا حصہ ہے اور نہ ہی کسی طاقت کے خلاف محاذ آرائی کا خواہاں، بلکہ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات قائم کر رہا ہے۔ چین، روس، ایران، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کی وسعت اسی پالیسی کا عملی ثبوت ہے۔ یہی متوازن رویّہ افغانستان کو علاقائی سیاست میں ایک اہم مگر غیرجانب دار کردار کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔

گزشتہ دو برسوں میں امارت اسلامیہ نے اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اعتماد کا ایک نیا باب کھولنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ایران کے ساتھ پانی، تجارت اور مہاجرین کے معاملات پر باہمی احترام کی فضا پیدا کرنا، اور چین، ازبکستان و ترکمانستان کے ساتھ اقتصادی راہداریوں اور تجارتی راستوں کی تعمیر پر پیش رفت کرنا؛ یہ سب اس حکمتِ عملی کی نمایاں کامیابیاں ہیں۔ اس متوازن اور عملی رویّے نے خطے کے ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو مضبوط کیا ہے اور افغانستان کو ایک ایسے بااعتماد اور مصالحت پسند ملک کے طور پر پیش کیا ہے جو خطے میں استحکام اور توازن کا مظہر ہے۔

اگرچہ امارت اسلامیہ ابھی تک عالمی سطح پر رسمی طور پر تسلیم نہیں کی گئی (روس کے سوا)، مگر کئی ممالک کے ساتھ سیاسی تعلقات کے حقیقی مواقع پیدا ہو چکے ہیں۔ قطر، روس، چین، ایران، ترکی، سعودی عرب اور یورپ کے بعض ممالک میں امارت اسلامی کے نمائندوں کے دورے اس بات کی دلیل ہیں کہ افغانستان عالمی سطح پر تنہائی سے باہر آیا ہے اور اپنی سیاسی فضا کو حکمت کے ساتھ کھول چکا ہے۔ یہ پالیسی افغانستان کی سیاسی ہمت کی علامت ہے، کیونکہ امارت نے دباؤ کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیا، بلکہ جائز اور مؤثر تعلقات کے ذریعے قبولیت کا راستہ بنایا۔

امارت اسلامیہ نے اقتصادی سفارت کاری کی مضبوطی پر خاص توجہ دی ہے۔ خارجہ پالیسی کا محور اب معیشت کی ترقی، تجارت اور ٹرانزٹ معاہدوں پر مرکوز ہے۔ چین کے ساتھ ’’چین کے ساتھ ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے میں شمولیت، ازبکستان کے ساتھ ریل کے معاہدے اور ایران کے ذریعے چابہار بندرگاہ میں تعاون کی بات چیت، عملی سفارت کاری کی واضح مثالیں ہیں۔ یہ منصوبے نہ صرف افغانستان کے لیے اقتصادی فوائد رکھتے ہیں بلکہ خطے کے رابطے اور مشترکہ ترقی کے لیے بھی اہم ہیں۔

سیکورٹی کے میدان میں، اسلامی امارت نے خطے کے ممالک کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوئی۔ یہ پالیسی خطے میں امن کے قیام میں افغانستان کے کردار کو ظاہر کرتی ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک کا بڑھتا ہوا اعتماد اور چین کی تشویش میں کمی اس پالیسی کا نتیجہ ہے۔ اسی حکمت عملی نے افغانستان کو ایک خطرناک جغرافیائی خطے سے امن اور استحکام کے پل میں تبدیل کر دیا ہے۔

ثقافتی اور اسلامی معاملات کے میدان میں، امارت اسلامیہ نے اسلامی شناخت کے تحفظ پر خاص توجہ دی ہے۔ مظلوم فلسطینیوں کی حمایت، امت کی وحدت کا پیغام، اور مغربی ثقافتی حملے کے خلاف واضح مؤقف وہ اقدار ہیں جنہوں نے امارت اسلامیہ کی خارجہ پالیسی کو روحانی طور پر مضبوط کیا ہے۔ یہ امت کے وجدان کی آواز ہے جس نے افغانستان کو ایک آزاد اور خودمختار اسلامی ملک کے طور پر دوبارہ زندہ کیا ہے۔

امارت اسلامیہ نے اپنی وعدوں کو پورا کرتے ہوئے عالمی اعتماد کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔ منشیات کی کاشت کی روک تھام، دہشت گردی کے خلاف واضح اقدامات اور ملکی سلامتی کو مضبوط کرنا وہ امور ہیں جنہوں نے دنیا کو امارت اسلامیہ کی مثبت سوچ کی طرف مائل کردیا ہے۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے ساتھ تعاون کی وسعت بھی اسی مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔

امارت کی خارجہ پالیسی ملت کے وقار پر مبنی ہے۔ کسی ملک کے سامنے تسلیم یا بھیک مانگنے کی پالیسی نہیں اپنائی گئی، بلکہ ایک خودمختار قوم کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ یہ افغان قوم کے لیے وقار اور سربلندی کا ایک نیا باب ہے، جس نے دنیا کو دکھا دیا کہ افغانستان غیروں کے وسائل پر نہیں بلکہ اپنے عزم اور اعتماد پر قائم ہے۔ یہ ان قوموں کے لیے بھی مثال ہے جو اپنے مقدر کا فیصلہ خود کرنا چاہتی ہیں۔

آج امارت اسلامیہ دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات کے دروازے پر کھڑی ہے۔ خارجہ پالیسی کا مستقبل حقیقت پسندی، خودمختاری، معیشت اور باہمی احترام پر مبنی ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف افغانستان کے داخلی استحکام کی ضمانت ہے بلکہ خطے میں امن، ترقی اور اقتصادی اتحاد کے لیے ایک نیا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ افغانستان ایک خودمختار، متوازن اور اصولوں پر قائم خارجہ پالیسی کے ذریعے عالمی سیاسی میدان میں ایک باعزت اور باشعور قوم کے طور پر اپنی جگہ دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔

Exit mobile version