Site icon المرصاد

امریکہ کا نیا منصوبہ اور خطے میں اس کے نفاذ کی ایک خاص حلقے کی کوششیں!

افغانستان سے امریکی قابض افواج کی ناکامی کے بعد، حالیہ برسوں میں واشنگٹن کوشش کر رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھے۔ اگرچہ اسے فوجی موجودگی کے تجربے سے خاطر خواہ کامیابیاں حاصل نہیں ہوئیں، اسی بنا پر اب وہ فوجی موجودگی کے بجائے سیاسی اور خفیہ (انٹیلیجنس) اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اس نے ایک نئی اسٹریٹیجک منصوبہ بندی شروع کی ہے اور منصوبے کے مطابق اس پروجیکٹ کو پاکستان کی فوجی رجیم کے ایک خاص حلقے کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے افغانستان پر ناجائز دراندازی اور حملے ٹی ٹی پی کی وجہ سے نہیں ہیں، کیونکہ ٹی ٹی پی اپنی سرزمین پر سرگرم ہے اور اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کر رہی ہے۔ بلکہ یہ ناجائز دراندازیاں اور حملے دراصل امریکہ کے اسی نئے مشن کا حصہ ہیں جو پاکستان کے فوجی رجیم کے مخصوص حلقے کو سونپا گیا ہے، تاکہ خطے کو غیر مستحکم کیا جائے اور وہ اہداف حاصل کیے جائیں جو امریکہ اپنی فوجی مہم کے دوران حاصل نہیں کر سکا تھا۔ اب وہ چاہتا ہے کہ ان اہداف کو خفیہ اور انٹیلیجنس موجودگی کے ذریعے اسی حلقے کی مدد سے حاصل کرے۔

اسی تناظر میں، اس مشن کے آغاز سے اب تک پاکستان کے فوجی رجیم کا سربراہ عاصم منیر تقریباً تین مرتبہ ٹرمپ سے ملاقات اور مشاورت کے لیے امریکہ جا چکا ہے۔ اسی طرح پاکستان کا وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی کئی مرتبہ ٹرمپ کی قدردانی کے لیے امریکہ گیا اور اس منصوبے کو مکمل کرنے کے وعدے کیے۔

پاکستانی میڈیا کے بعض ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان پر اپنے ناجائز حملے اُس وقت شروع کیے جب وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فوجی سربراہ عاصم منیر امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ہاتھ باندھے کھڑے تھے اور ٹرمپ پاکستانی فوج کی تعریف کر رہا تھا کہ وہ اپنا مشن درست طریقے سے انجام دے رہی ہے اور بہت اچھی طرح آگے بڑھ رہی ہے۔

اسی مخصوص حلقے کی غلط پالیسیوں اور جارحانہ رویّے کے نتیجے میں دونوں جانب شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔ تاہم اس کے باوجود افغانستان کی اسلامی افواج اپنے جائز حق کے دفاع میں اپنے مقدس مقصد کی طرف تیزی سے پیش قدمی کر رہی ہیں، جبکہ اس کے برعکس پاکستان کی فوجی رجیم کا یہی مخصوص حلقہ امریکہ کے مشن کو آگے بڑھا رہا ہے اور اپنے عوام کو امریکہ کے مفادات کے لیے قربان کر رہا ہے۔

ایسی رپورٹس بھی موصول ہوئی ہیں کہ اسلام آباد کے حالیہ دورے کے دوران جب امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کے وفود آئے، تو عاصم منیر نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ان کی مدد کریں گے۔ اور اگر ضرورت پڑی تو پاکستان کی فوج، پاکستان کی سمندری حدود اور بعض اہم فضائی اڈے امریکہ اور اسرائیل کے حوالے بھی کر دے گی۔

Exit mobile version