عصرِ حاضر کے خوارج کا ڈیجیٹل شکار
ڈیجیٹل دور کے داعشی خوارج نے نہایت مہارت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کو کمزور ذہنوں کو شکار بنانے کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے انٹرنیٹ کو ایک نئی جنگ کے میدان میں بدل دیا؛ ایسی جنگ جس میں گولیوں کی جگہ کلکس نے لے لی تھی۔ سوشل میڈیا ان کے لیے محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مہلک ہتھیار بن گیا تھا، جو خاموشی اور تیزی سے دنیا کے کونے کونے میں نوجوانوں کو آلودہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
ان وحشی خوارج نے نئی نسل کی نفسیات کو گہرائی سے سمجھتے ہوئے ایسا مواد تیار کیا جو بیک وقت جذباتی ہیجان بھی پیدا کرتا، تعلق کا احساس بھی دیتا اور جھوٹا روحانی سکون بھی فراہم کرتا۔ یہ زہریلا امتزاج حساس اذہان پر حیرت انگیز اثر ڈالتا تھا۔
یہ خونخوار داعشی نہایت ہوشیاری سے مختلف پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے۔ یوٹیوب پر ہالی ووڈ طرز کی پروفیشنل ویڈیوز اپ لوڈ کرتے، ٹویٹر پر دلکش ہیش ٹیگز تخلیق کرتے جو وائرس کی طرح پھیل جاتے۔ ٹیلیگرام پر خفیہ گروپس بناتے جن کا سراغ لگانا تقریباً ناممکن تھا، حتیٰ کہ انہوں نے کمپیوٹر گیمز تک ڈیزائن کیے جن کے ذریعے بچے آہستہ آہستہ انتہاپسند نظریات سے واقف ہوتے۔ داعش بخوبی جانتی تھی کہ نیا دور کتابوں اور تقاریر سے زیادہ، ملٹی میڈیا اور انٹرایکٹو مواد کے ذریعے متاثر ہوتا ہے۔
لیکن آن لائن پروپیگنڈے میں داعش کی سب سے خطرناک حکمتِ عملی پیغامات کی شخصی نوعیت تھی۔ وہ سوشل میڈیا صارفین کے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے یہ جانتے کہ ہر فرد کس طرح کے مواد پر ردعمل دیتا ہے۔ یورپ کے اُس نوجوان کے لیے جو تنہائی کا شکار ہو، دوستی اور تعلق کے پیغام بھیجے جاتے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے اُس نوجوان کے لیے جو غربت سے تنگ ہو، مالی مدد کے جھوٹے وعدے کیے جاتے۔ یہ ہدفی رویہ ان کی کامیابی کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتا۔
داعشی انتہاپسندوں کے اس تجربے نے تاریخ کے اوراق میں یہ سیاہ حقیقت ثبت کردی کہ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کو نہ صرف انسانیت کی بھلائی کے لیے بلکہ اس کی بربادی کے لیے بھی کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس ڈیجیٹل خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک کثیرالجہتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ایک طرف انتہاپسندانہ مواد کی شناخت اور اس کے خاتمے کے لیے ٹیکنالوجی کو مضبوط بنانا ہوگا، دوسری طرف صارفین کا میڈیا لٹریسی بڑھانا ناگزیر ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آن لائن دنیا کو مثبت اور دلکش مواد سے بھرنا ہوگا تاکہ نوجوان زندگی کے حقیقی معنی ان مجازی خوارج کے خونی ویڈیوز میں تلاش نہ کریں۔ داعش شاید عسکری میدان میں شکست کھا چکی ہو، لیکن ورچوئل اسپیس میں جنگ اب بھی جاری ہے؛ ایسی جنگ جس میں کامیابی کے لیے ذہانت، علم اور تخلیقی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔
ان ڈیجیٹل خوارج نے ویب سائٹس اور متبادل چینلز کے ایک پیچیدہ نیٹ ورک کے قیام کے ذریعے ایسا نظام وضع کیا تھا جو مواد کے خاتمے کے خلاف مزاحم تھا۔ جیسے ہی کوئی اکاؤنٹ یا چینل بند کیا جاتا، فوراً درجنوں نئے اکاؤنٹس پہلے سے تیار شدہ مواد کے ساتھ فعال ہو جاتے۔ وہ آن لائن گیمز اور خفیہ چیٹ رومز کے ذریعے نئے حامیوں سے رابطہ کرتے اور حتیٰ کہ کم عمر نوجوانوں کے لیے انعامی مقابلے منعقد کرتے تاکہ انہیں قدم بہ قدم انتہاپسندی کے جال میں پھنسا سکیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ داعش کے پاس ہر عمر کے لیے الگ حکمتِ عملی موجود تھی؛ نو عمر نوجوانوں کو لبھانے کے لیے ایکشن کلپس اور ویڈیو گیمز، طلبہ کے لیے بظاہر فلسفیانہ مباحث اور سازشی نظریات جبکہ درمیانی عمر کے افراد کو راغب کرنے کے لیے مذہبی دلائل کا سہارا لیا جاتا تھا۔ یہ مکارانہ تقسیم اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ کس طرح ایک انتہاپسند گروہ نفسیات اور نسلی فرق کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

