افغانستان ایسی سرزمین نہیں کہ فضائی حملوں اور نام نہاد سرحدی دراندازیوں سے شکست تسلیم کرلے۔ اس دھرتی کی تاریخ شہیدوں کے خون اور اُن انسانوں کی غیرت سے رقم ہوئی ہے جنہوں نے کبھی جبر و زور کے آگے سر نہیں جھکایا۔ آج پاکستان اپنی مسلسل عسکری کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف ایک ہمسایہ ملک کی خودمختاری پامال کر رہا ہے بلکہ اُس سرخ لکیر کو بھی عبور کر چکا ہے جسے پار کرنے والا ہر جارح رسوائی کے سائے میں آتا ہے۔ یہ دراندازی اب محض سرحدی تنازع نہیں؛ یہ تاریخ، غیرت اور اُن لوگوں کے ایمان کے خلاف اعلانِ جنگ ہے جنہوں نے صدیوں سے دنیا کے فاتحین کے مقابل اپنا نام استقامت کے ساتھ درج کیا ہے۔
پاکستانی جنگی طیارے ننگرہار اور پکتیا کی فضاؤں پر بے پرواہی کے ساتھ گزرے اور اپنے بم دیہاتوں، اسکولوں اور عام شہریوں کے گھروں پر برسائے۔ ایسے اقدامات کسی طور پر بھی جائز دفاع کے زمرے میں نہیں آتے۔ یہ ایک نادان ہمسائے کی سازش ہے جو یہ سوچتا ہے کہ چند بموں کے ذریعے وہ ایک پوری قوم کی غیرت کو مٹی میں ملا سکتا ہے۔
اصل غلطی یہی ہے؛ افغانستان یلغار کرنے والوں کی آرام گاہ نہیں، بلکہ ان کا قبرستان ہے! برطانوی اپنی تمام استعماری نخوت کے باوجود اسی سرزمین پر ذلیل ہوئے، سابق سوویت اتحاد اپنی تمام طاقت کے باوجود انہی پہاڑوں میں پگھل گیا، اور امریکہ اپنے جدید ترین اسلحہ کے باوجود مجبور ہوا کہ اس دھرتی سے عافیت سے نکل جائے۔ اب باری اس ہمسائے کی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے فوجی بوٹوں کے ساتھ یہاں داخل ہو کر بخیریت واپس جا سکے گا؛ مگر یہ محض ایک فریب اور خیال ہے۔
افغانستان کے لوگ صبر و تحمل رکھنے والے ہیں۔ وہ برسوں تک آزمائشوں سے گزرے، جنگیں دیکھیں، اپنے عزیز کھوئے، مگر پھر بھی ڈٹے رہے۔ مگر یہ صبر اپنی حد رکھتا ہے۔ یہ صبر اُس آگ کی مانند ہے جو راکھ کے نیچے چھپی ہوتی ہے؛ جب تک اسے ہاتھ نہ لگایا جائے، وہ آگ پوشیدہ رہتی ہے۔ لیکن جب ہوا چلتی ہے، تو آگ اس حد تک بھڑک اٹھتی ہے تو ہر یلغار کرنے والے کو اپنے شعلوں میں جکڑ دیتی ہے۔ اگر پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ یہ حملے یونہی بے جواب رہ جائیں گے، تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ ہر بم جو افغانستان کے بچوں اور عورتوں پر گرایا جاتا ہے، اس قوم کے دل میں ایک تیر کی مانند ہے، اور ایک دن آئے گا جب یہ تیر انتقام کے کمان سے نکل پڑے گا۔
پاکستان کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ افغانوں کے صبر کی آزمائش شیر کے پنجے کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ اگر پاکستانی رجیم تاریخ سے ناواقف ہے، تو اسے چاہیے کہ اپنے بزرگوں سے دریافت کرے کہ اس سرزمین پر یلغار کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوا۔ اسکندر مقدونی آیا اور شکست کھائی، چنگیز آیا اور تباہ ہوا، انگریز آیا اور فرار ہوا، سوویت اتحاد آیا اور ذلیل ہوا، امریکہ آیا اور شرمندگی کے ساتھ پیٹھ پھیرکر چلا گیا۔ اب پاکستان، اپنی محدود طاقت کے ساتھ اس فکر میں ہے کہ وہ اسی راستے پر چل سکتا ہے؟ ٹھیک ہے، آپ درج بالا قوتوں کے نقش قدم پر چلیں، مگر اسے جان لینا چاہیے کہ اس راستے کا انجام قبرستان کے سوا کچھ نہیں۔
بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ جارحیت صریحاً قابلِ مذمت ہے اور اس کی کوئی توجیہ پیش نہیں کی جاسکتی۔ وہ دفاع جس کا پاکستان دعویٰ کرتا ہے، ایک بہانہ ہے۔ کون سا عالمی قانون یہ اجازت دیتا ہے کہ ایک ہمسایہ ملک پر حملہ کیا جائے اور اپنے مخالف گروہوں کے جھوٹے بہانے سے عورتوں و بچوں کو قتل کیا جائے؟ یہ اپنا دفاع ہے، نہ ہی اس کا کوئی جواز ہے؛ یہ ایک صریح جنگی جرم ہے اور اس کے مرتکب افراد کو عالمی عدالتوں میں مقدمے کا سامنا کرنا چاہیے۔
مگر افغان عوام نے یہ باتیں بہت سن رکھی ہیں۔ عالمی قوانین ہمیشہ ان کے لیے کاغذ کے ٹکڑے رہ گئے جن کے پاس طاقت تھی۔ اسی لیے افغانستان کاغذ کے ٹکڑوں پر اعتماد کے بجائے اپنی غیرت اور ایمان پر بھروسہ کرتا ہے۔
پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ افغانستان کا آئندہ ردِعمل صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہے گا۔ اگر یہ جارحیت جاری رہی اور افغانوں کے ایمانی صبر کی مزید آزمائش کی گئی، تو ایک بغاوت برپا ہوگی جو نہ صرف افغانستان میں جارح کا جواب دے گی بلکہ جارح کے گھر تک پہنچے گی۔ پاکستان کو چاہیے کہ افغان عوام کے ایمان کو مزید نہ آزمائے۔ اگر افغانوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا، تو اس دن وہ مکمل طاقت اور ایمان کے ساتھ یلغار کرنے والوں کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے اور افغانستان تو کیا، ان ظالموں کا انہی کی سرزمین پر تعاقب کیا جائے گا۔ یہ کوئی وقتی جذبات کی بات نہیں، بلکہ تاریخ نے ثابت کر دکھایا ہے۔
افغانستان کی تاریخ بارہا یہ ثابت کر چکی ہے کہ جب یہاں کے عوام اٹھ کھڑے ہوئے، کوئی طاقت ان کے سامنے نہ ٹک سکی۔
پس اے جارح ہمسایہ! اب بھی وقت ہے کہ جارحیت ترک کر دو۔ اب بھی موقع ہے کہ اپنی عزت اور وقار بچانے کی فکر کرو، اگر افغانوں کے صبر کو مزید آزمایا گیا، تو جان لو کہ یہ آخری بار ہوگا۔ اس کے بعد ایک ایسا طوفان برپا ہوگا جو تمہارے نام کو تاریخ کے صفحات سے مٹا دے گا۔ افغانستان اُن بہادر بیٹوں کی سرزمین ہے جنہوں نے پرانے اور ٹوٹے پھوٹے ہتھیاروں سے سوویت ٹینکوں کے سامنے ڈٹے اور کامیاب ہوئے۔
افغانستان اُن ابطالِ امت کی سرزمین ہے جنہوں نے خالی ہاتھوں امریکہ کے بغیر پائلٹ طیاروں کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست سے دوچار کیا۔ آج افغانستان پہلے سے زیادہ طاقتور، زیادہ متحد اور زیادہ پرعزم ہے۔ تو افغان عوام کے صبر کی انتہا کو دیکھو اور اسے مزید مت آزماؤ۔
وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ۔

