المرصاد نے گزشتہ اتوار (۲۵ جمادی الاول / ۱۶ نومبر) کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں ایک داعشی مسؤل برہان کے قتل کی خبر نشر کی۔ برہان خوارج کے حلقوں میں زید کے نام سے مشہور تھا۔
المرصاد کو سیکورٹی ذرائع سے موصولہ تازہ ترین معلومات کے مطابق، برہان پاکستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے خطے میں تخریبی کارروائیوں کا انتظام کر رہا تھا۔ وہ ابوبکر اور قاری فاتح کے علاوہ عمر باجوڑی کے ساتھ بھی قریبی روابط رکھتا تھا۔ عمر باجوڑی وہی پاکستانی داعشی کمانڈر تھا جو ۲۰ اکتوبر ۲۰۲۴ء کو کنڑ کے مانوگئی ضلع کے شوڑیک درہ میں امارتِ اسلامی افغانستان کے سکیورٹی اداروں کی کارروائی میں ایک اور داعشی کے ہمراہ مارا گیا تھا۔
پاکستان کے فوجی رجیم کے شعبۂ اطلاعات و نشریات نے پنجاب اور دیگر علاقوں میں داعشی خوارج کی موجودگی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ برہان کا داعش سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تاہم ادارہ المرصاد فوجی حکام کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے برہان اور عمر باجوڑی کی ایک مشترکہ تصویر؛ جو اسے سیکورٹی ذرائع سے موصول ہوئی، اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کررہا ہے۔
برہان (زید) نامی ہلاک ہونے والے داعشی کے بارے میں تازہ معلومات

