حالیہ دنوں میں پاکستانی میڈیا نے ایک بار پھر وہی پرانے اور بار بار دہرائے جانے والے دعوے زندہ کر دیے ہیں کہ بلوچ مسلح تحریک کی قیادت مبینہ طور پر افغانستان میں مقیم ہے اور وہیں سے بلوچستان کی جنگ کی قیادت کی جا رہی ہے۔ اس نوعیت کے بیانیے زیادہ تر ٹھوس معلومات پر نہیں بلکہ سیاسی ضرورتوں اور پروپیگنڈا کی ضرورت پر مبنی ہوتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا کا یہ بیانیہ دراصل ایک داخلی سیاسی و سکیورٹی بحران کو بیرونی مداخلت کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش ہے، تاکہ مسئلے کی اصل جڑیں اوجھل رہیں۔
اگر معاملے کی حقیقی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو موجود شواہد اور علاقائی مبصرین کی اطلاعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بلوچوں کی اصل قیادت اور فیصلہ سازی کے مراکز خود بلوچستان کے اندر موجود ہیں۔ جنگ کی تنظیم و ترتیب، کارروائیوں کی نگرانی اور اسٹریٹجک فیصلے اسی ماحول میں کیے جاتے ہیں جہاں یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے۔
یہ ایک فطری اصول ہے کہ ہر عوامی مزاحمت، خواہ منظم ہو یا منتشر، اپنی جغرافیائی بنیاد، سماجی نیٹ ورک اور مقامی حمایت رکھتی ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرنا تجزیاتی کمزوری اور دانستہ تحریف کے مترادف ہے۔ اس بیانیے میں افغانستان کا نام لینا زیادہ تر ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستانی فوجی رجیم ہمیشہ اپنی سکیورٹی ناکامیوں، بلوچستان میں بڑھتی بے چینی اور فوج کی سخت گیر پالیسیوں کا الزام بیرونی عناصر پر ڈالنے کی کوشش کرتی ہے، تاکہ ایک طرف عوام کی سوچ کو گمراہ کیا جائے اور دوسری طرف عالمی برادری کو یہ تاثر دیا جائے کہ یہ مسئلہ ان کے قابو سے باہر ہو چکا ہے اور اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں۔ اس طرح کے الزامات حقیقت بیان کرنے کے بجائے دنیا کو دھوکہ دینے، سیاسی دباؤ کم کرنے اور بیرونی امداد حاصل کرنے کے لیے لگائے جاتے ہیں۔
دوسری جانب اگر واقعی بلوچ قیادت افغانستان سے سرگرم ہوتی تو یہ بات عالمی انٹیلی جنس، سکیورٹٰ اور سرویلنس کے اداروں کی نظروں سے اوجھل نہ رہتی۔ اب تک کوئی بھی معتبر عالمی رپورٹ، دستاویز یا ثبوت پیش نہیں کیا گیا جو ان دعوؤں کی تصدیق کرے۔ اس کے برعکس، بیشتر تحقیقات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بلوچستان کا تنازع پاکستان کی داخلی پالیسیوں، فوجی غلبے اور عوامی مطالبات کو دبانے کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کا نام لینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ حل سے دانستہ فرار ہے۔ جب تک پاکستان بلوچستان کے عوام کے جائز مطالبات، سیاسی محرومی، معاشی عدم مساوات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سنجیدگی سے جائزہ نہیں لیتا، اس قسم کے پروپیگنڈا الزامات نہ تو جنگ کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی حقیقت کو بدل سکتے ہیں۔ بحران کا تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ کوئٹہ اور اسلام آباد میں ہے، کابل میں نہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بلوچ مسلح مزاحمت کسی بیرونی ہدایت کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستانی فوجی رجیم کی جانب سے طویل عرصے سے جاری داخلی دباؤ، ناانصافی اور جبر کے خلاف ردِعمل ہے۔ جدوجہد کی قیادت وہیں موجود ہے جہاں زخم لگے ہیں، اور جب تک ان زخموں کا علاج نہیں کیا جاتا، دوسروں پر الزام تراشی حقیقت سے فرار کے سوا کچھ نہیں۔

