Site icon المرصاد

بلوچ علیحدگی پسند جنگ کی نوعیت بدل رہے ہیں!

13 اپریل کو بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی کہ پاکستان کے گوادر کے علاقے جیونی میں سمندر کے اندر پاکستانی بحریہ کی ایک جنگی کشتی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم تین بحریہ کے اہلکار ہلاک ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق حملہ آور ایک تیز رفتار کشتی کے ذریعے پہلے بحریہ کے اہلکاروں کے قریب پہنچے اور پھر ان پر فائرنگ کی۔ اسی دوران گشت پر موجود کشتی میں سوار تینوں اہلکاروں کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا، جس کے بعد حملہ آور واپس چلے گئے۔

اس واقعے کی ذمہ داری بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹس کے ذریعے ایک ویڈیو بھی جاری کی، جس میں کہا گیا کہ یہ کارروائی ان کے “زرپہاز” (یعنی سمندری حفاظتی فورس) نے انجام دی ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ چار افراد ایک ساحلی مقام پر نقاب پوش حالت میں ظاہر ہوتے ہیں اور بلوچی زبان میں گفتگو کرتے ہیں۔ بعد ازاں وہ پاکستانی فوج کو وارننگ دیتے ہوئے کہتے ہیں:
“تم ہماری زمینوں اور سمندروں سے نکل جاؤ، یہ زمینیں اور سمندر ہمارے ہیں اور ہم ان کے مالک ہیں۔ اگر تم نے یہ قبضہ ختم نہ کیا تو ہم زمین کے ساتھ ساتھ سمندروں کو بھی تمہارے لیے آگ کا میدان بنا دیں گے۔”
اس کے بعد وہ تیز رفتار کشتی میں سوار ہو کر حملہ کرتے ہیں۔

اگرچہ بلوچ علیحدگی پسند پاکستان کے قیام سے ہی وقفے وقفے سے فوج کے ساتھ جھڑپوں میں مصروف رہے ہیں، لیکن گزشتہ بیس برسوں میں، جب پاکستانی فوج کی جانب سے مختلف ناموں کے تحت ظلم و جبر کی نئی لہریں شروع ہوئیں، تو انہوں نے بھی اپنی صفوں میں تبدیلی لاتے ہوئے جنگ کا طریقہ کار بدل دیا۔ متعدد مواقع پر انہوں نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں بدلہ لینے کے لیے سخت اور خونریز حملے کیے۔

تاہم اس مرتبہ کی کارروائی ماضی سے مختلف ہے۔ اس سے پہلے بلوچ علیحدگی پسندوں کی کارروائیاں زیادہ تر چوکیوں تک محدود تھیں، فوجی قافلوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا یا فوجی تنصیبات پر حملے کیے جاتے تھے۔ جبکہ فضائیہ اور خاص طور پر بحریہ بڑی حد تک محفوظ رہی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بلوچ علیحدگی پسندوں نے انتہائی مہارت اور اچانک کارروائی کی، اپنے ہدف تک پہنچے اور بحفاظت واپس لوٹ گئے۔

اس واقعے نے عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دیا ہے اور میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے اندر مبصرین اور تجزیہ کار اس واقعے کو نہ صرف حیران کن بلکہ تشویش ناک بھی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق بحریہ کو نشانہ بنانا ایک طرف سکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ ہے، تو دوسری جانب اس سے فورسز کے مورال کو نقصان پہنچا ہے اور حکومت و فوج کی ساکھ کمزور ہوئی ہے۔

یہ حملہ گوادر میں کیا گیا، جو ایک اہم اسٹریٹیجک اور معاشی مرکز ہے، وہ مقام جہاں چین کئی برسوں سے بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اسی راستے سے اپنے سامان کو عالمی منڈیوں تک پہنچانا چاہتا ہے۔ تاہم بلوچ علیحدگی پسندوں کی جانب سے اس نوعیت کے حملے اور سابقہ دھمکیاں ان منصوبوں کو متاثر کر رہی ہیں، جس کے باعث نہ صرف ممالک بلکہ عام تاجر بھی وہاں سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔

یہ حملہ اس لیے بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا کہ کچھ عرصہ قبل بلوچ علیحدگی پسندوں کی جانب سے ڈرونز کے استعمال کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ اگرچہ ان ڈرونز کے ذریعے اب تک کوئی حملہ نہیں کیا گیا، تاہم ان کے بارے میں جاری کردہ معلومات نے پاکستانی حکومت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے بقول یہ ڈرونز فی الحال نگرانی اور اہداف کی نشاندہی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، اور یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ریڈار اور جیمرز سے محفوظ ہیں۔

ان کے مطابق یہ ڈرونز مخالف فریق کو نفسیاتی دباؤ اور کمزور مورال کا شکار بنا سکتے ہیں، اور ضرورت پڑنے پر انہی کے ذریعے اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ موجودہ دور میں ڈرونز کی موجودگی نے جنگ کا توازن بدل دیا ہے، طاقت اب صرف بڑی افواج تک محدود نہیں رہی۔ اس قسم کی ٹیکنالوجی بڑے بڑے لشکروں کو بھی پریشان کرتی ہے، کیونکہ انہیں چلانے والے میدانِ جنگ سے دور بیٹھ کر کنٹرول کرتے ہیں، جس سے وہ زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ڈرونز نسبتاً کم لاگت والے ہوتے ہیں، جبکہ ان کے مقابلے میں دفاعی اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں، جو مخالف فریق پر مزید دباؤ ڈالتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بلوچ علیحدگی پسندوں کے یہ اقدامات مستقبل میں مزید بڑھ سکتے ہیں اور صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ ان کے مطالبات واضح ہیں: وہ بلوچوں کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی، بلوچستان میں رہائش اور اپنی قدرتی وسائل پر حق، سیاسی آزادی اور عوامی رائے کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔

تاہم ان کے بقول فوج ان مطالبات کو نظر انداز کر رہی ہے، عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے اور قدرتی وسائل پر قبضہ کر کے خود استعمال کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ہزاروں لاپتہ ہیں اور آج تک ان کے انجام کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ خطے میں وسیع فوجی موجودگی، معاشی مسائل، ہجرت اور عوامی زندگی پر پابندیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اسی بنا پر وہ خود کو مجبور سمجھتے ہیں کہ مزاحمت کا راستہ اختیار کریں اور اپنے مطالبات کے لیے جدوجہد جاری رکھیں۔

Exit mobile version