بلوچ علیحدگی پسند یا بی ایل اے (BLA) ایک عسکری تنظیم ہے جس نے اکیسویں صدی کے آغاز میں فوجی رجیم کے خلاف بلوچ قوم کے حقوق کے حصول کے لیے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اس عسکری گروہ کا فکری رشتہ اُن تحریکوں سے جُڑا ہوا ہے جو بیسویں صدی کی آخری تین دہائیوں میں بلوچوں کے ہاتھوں وجود میں آئیں۔
اس سے قبل بلوچستان ایک خودمختار خطہ تھا؛ اس کی اپنی تہذیب و ثقافت تھی، اپنی تمام قدرتی دولت پر اس کا اختیار تھا، اور خطے کی اہم بندرگاہیں اور تجارتی و ٹرانزٹ راستے بھی یہیں واقع تھے۔ مگر بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی میں فوجی رجیم کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں اُس وقت کے رہنما ذوالفقار علی بھٹو نے ایک غلط فیصلہ کیا اور بلوچستان کو صوبہ قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی پوری بلوچ قوم اور اس کی قیادت نے اپنے تشخص، معیشت، سلامتی، وسائل اور مستقبل کو خطرے میں محسوس کیا، اور یوں مزاحمت کا خیال جنم لینے لگا۔
لیکن مسئلے کو سمجھنے کے بجائے فوجی رجیم نے اسی زمانے میں اپنے ہمسایہ ممالک پر یہ الزام عائد کرنا شروع کر دیا کہ وہ پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں اور بلوچوں کو بدامنی پر اکسا رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل مسئلے کے حل کے بجائے اس کے مزید بگاڑ کا سبب بنا۔
اس کے بعد بلوچوں نے عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ اکیسویں صدی تک اُن کے بے شمار رہنما قتل کر دیے گئے، ان کی سرزمین پر فوجی آپریشن شروع کیے گئے جن میں سنگین مظالم ڈھائے گئے۔ سیکڑوں بلوچ قائدین لاپتہ کر دیے گئے، مگر فوجی ادارے مسئلے کے حل کے بجائے محض تاویلیں پیش کرتے رہے۔ اس دوران بلوچوں میں آزادی اور اپنے حقوق کے حصول کی تحریک دن بہ دن مضبوط ہوتی چلی گئی۔
بالآخر اکیسویں صدی کے آغاز میں بلوچ علیحدگی پسند تنظیم کی بنیاد رکھی گئی اور اس نے عسکری محاذ پر سرگرمیاں شروع کر دیں۔ اس تنظیم کے قیام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ فوجی رجیم کے ہاتھوں بلوچ قوم کے وجود کو مٹنے سے بچایا جائے اور یہ نہ ہونے دیا جائے کہ ان کے قدرتی وسائل پر اسلام آباد اور چین آباد ہو جائیں۔ گزشتہ اڑھائی دہائیوں سے یہ تنظیم جدوجہد کر رہی ہے؛ اگرچہ وہ ابھی اپنی تمام منزلوں تک نہیں پہنچی، مگر ان کے قریب ضرور ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود فوجی رجیم وقتاً فوقتاً اس تنظیم کے قیام اور مضبوطی کا الزام افغانستان اور بھارت پر عائد کرتا ہے، مگر یہ سوچنے سے قاصر ہے کہ مسئلے کا اصل حل ان بے بنیاد الزامات میں نہیں، بلکہ بلوچ قوم کو اس کے جائز حقوق دینے میں ہے۔
کچھ عرصہ قبل فوجی رجیم نے یہ دعویٰ کیا کہ بلوچ حریت پسندوں کے سربراہ، بشیر زیب، کابل میں مقیم ہیں اور وہیں سے مالی معاونت حاصل کرتے ہیں۔ مگر یہ دعویٰ اُس وقت جھوٹا ثابت ہو گیا جب ذرائع ابلاغ میں ایسی ویڈیوز نشر ہوئیں جن میں بشیر زیب اپنے جنگجوؤں کے ساتھ میدانِ جنگ میں موجود دکھائی دیے اور براہِ راست لڑائی کی قیادت کرتے نظر آئے۔ ان کی مالی طاقت کے شواہد بھی سامنے آئے؛ ان کے قبضے میں خاطر خواہ وسائل دیکھے گئے، فوجی رجیم کے متعدد بینک توڑے گئے اور بڑی تعداد میں عسکری سازوسامان قبضے میں لیا گیا۔
آج یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ پاکستان میں بدامنی کی سب سے بڑی وجہ خود اس کی غلط پالیسیاں ہیں، جو اس نے مخصوص قوموں اور علاقوں کے بارے میں اختیار کر رکھی ہیں۔ اگر ان پالیسیوں میں اصلاح نہ کی گئی تو بعید نہیں کہ ہر قوم اپنی آزادی کا مطالبہ کرے اور ایک متحد پاکستان کئی حصوں میں بٹ جائے۔ تحریک قبائلی علاقوں کو، اور بلوچ بلوچستان کو آزاد کرائیں گے؛ فوجی رجیم کے ہاتھ میں محض پنجاب رہ جائے گا اور وہ کمزور اقتدار کا مالک بن کر رہ جائے گا۔ اب تک خطے میں ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ بلوچ آزادی پسندوں کے پیچھے کوئی دوسرا ملک یا گروہ موجود ہو۔ البتہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اس تنظیم کی تشکیل، اس کی مالی معاونت اور اس کی جدوجہد سب کچھ خود بلوچوں کی جانب سے اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہے۔

