دوسرا مزاحمتی مرحلہ: ۱۹۵۸ء
پاکستان کے قیام سے لے کر ۱۹۵۸ء تک ملک کی سیاسی صورتِ حال غیر مستحکم اور تیزی سے بدلتی رہی۔ سویلین حکومتیں کمزور تھیں اور فوج کے اثر و رسوخ کے زیرِ سایہ کام کر رہی تھیں۔ سویلین قیادت کے درمیان شدید بداعتمادی اور باہمی رقابت پائی جاتی تھی۔ بالآخر ۱۹۵۸ء میں ایوب خان نے سویلین حکومت کا تختہ الٹ دیا اور اقتدار مکمل طور پر براہِ راست فوج کے ہاتھ میں چلا گیا۔
بلوچستان کے الحاق کے بعد بھی فوج وہاں عملی کنٹرول اور مؤثر اثر و نفوذ قائم نہ کر سکی تھی۔ ۱۹۵۵ء میں ’’ون یونٹ‘‘ (مغربی پاکستان) کے قیام کے لیے پاکستان نے فوجی کارروائیاں کیں۔ ابتدا میں فوج نے بلوچوں کے ساتھ تصادم کے خدشے اور بلوچستان میں قدم جمانے کی غرض سے احتیاط اور نرمی کی پالیسی اختیار کی۔ بلوچ قبائلی سرداروں سے مکمل سیاسی اختیارات، وفاقی نظام میں مساوی نمائندگی اور بلوچستان کے معاملات میں فوجی عدمِ مداخلت کے وعدے کیے گئے۔ یہی وجہ تھی کہ تقریباً تین برس تک کسی مسلح مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔
لیکن جب فوج نے بلوچستان میں اپنی پوزیشن مضبوط کرلی تو اس نے بلوچ قبائلی نظام کو ختم کرنا شروع کر دیا۔ قبائلی سرداروں کو گرفتار اور ذلیل کیا گیا، دیہاتوں کا محاصرہ کیا گیا، بمباری کی گئی اور انہیں نذرِ آتش کیا گیا۔ بلوچ قوم کو غیر مسلح کرنے اور قتل و غارت کی ایک ہولناک مہم کا آغاز ہوا۔
فوجی مظالم نے بلوچ قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا اور بالآخر ۱۹۵۸ء میں نواب نوروز خان بلوچ کی قیادت میں بغاوت پھوٹ پڑی۔ نواب نوروز خان بلوچ بیدار شعور، مضبوط ایمان اور غیرت کے حامل انسان تھے۔ وہ سینکڑوں مجاہدین کے ساتھ پہاڑوں میں جا نکلے اور پاکستانی فوج کے مقابلے میں بلوچ قوم کے عزت و ناموس کے دفاع کے لیے ایک خونریز جدوجہد کا آغاز کیا۔ یہ مزاحمت تقریباً ایک سال تک جاری رہی اور پاکستان کے لیے شدید دردِ سر بنی رہی۔ تاہم اس تحریک کو نہ تو خاطر خواہ اسلحہ میسر آ سکا اور نہ ہی دیگر قبائلی سرداروں کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی، اور فوج کی سخت گرفت کے باعث اسے کچل دیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ تحریک کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکی۔
فوجی مظالم نے بلوچ قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا اور ۱۹۵۸ء میں نواب نوروز خان بلوچ کی قیادت میں ایک بغاوت اٹھی۔ نواب نوروز خان بلوچ بیدار شعور، مضبوط ایمان اور غیرت کے حامل رہنما تھے۔ وہ سینکڑوں مجاہدین کے ساتھ پہاڑوں میں جا نکلے اور پاکستانی فوج کے مقابلے میں بلوچ غیور قوم کی عزت و ناموس کے دفاع کے لیے ایک خونریز جدوجہد کا آغاز کیا۔ یہ مزاحمت تقریباً ایک سال تک جاری رہی اور پاکستان کے لیے شدید دردِ سر بنی رہی، تاہم مناسب اسلحے کی کمی اور دیگر قبائلی سرداروں کی عدمِ حمایت کے باعث، نیز فوج کے سخت محاصرے اور کنٹرول میں آ جانے کی وجہ سے، یہ تحریک کسی مثبت انجام تک نہ پہنچ سکی۔
بالآخر فوج نے نواب نوروز خان کو قرآنِ کریم پر قسم دے کر یقین دلایا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ نواب نوروز خان اپنے بیٹوں اور ساتھیوں سمیت تسلیم ہو گئے اور لڑائی رک گئی، مگر فوج نے قرآنِ کریم پر کھائی گئی قسم توڑ دی۔ نواب نوروز خان کے بیٹوں اور ساتھیوں کو پھانسی دے دی گئی اور خود خان کو قید میں ڈال دیا گیا۔
فوج کے اس غیر اسلامی اور غیر انسانی طرزِ عمل نے بلوچوں کا فوج پر اعتماد مکمل طور پر ختم کر دیا اور تمام بلوچوں کے دلوں میں فوج کے خلاف نفرت اور بداعتمادی کو مزید گہرا کر دیا، جس نے انہیں ایک ناقابلِ مصالحت جدوجہد کی طرف دھکیل دیا۔ آج تک جب بھی کوئی بلوچ پاکستان کے خلاف جدوجہد کے میدان میں اترتا ہے تو وہ نواب نوروز خان بلوچ پر ہونے والے ظلم سے ہی تحریک اور حوصلہ پاتا ہے۔
تیسری مزاحمت: ۱۹۶۲ء
بلوچستان میں ون یونٹ کی غم زدہ پالیسیوں کا سلسلہ، جن کے تحت نواب نوروز خان بلوچ کی تحریک کچلے جانے کے بعد بلوچوں کے سیاسی، انتظامی اور قبائلی نظام کو ختم کر دیا گیا تھا، بدستور جاری رہا۔ بلوچوں کو امن، خوشحال زندگی اور بنیادی حقوق سے محروم کر کے غم و محرومی کے حصار میں دھکیل دیا گیا۔
پاکستان نے اپنی نامشروع حکمرانی کو مضبوط کرنے اور بلوچوں میں آزادی کے جذبے کو کچلنے کے لیے ایک بار پھر ۱۹۶۲ء میں بلوچستان کے بعض علاقوں میں باقی ماندہ بلوچ جنگجوؤں کے خاتمے کے نام پر تیز رفتار فضائی اور زمینی فوجی کارروائیاں کیں۔ ان بلوچ جنگجوؤں کی قیادت خیر بخش مری کر رہے تھے۔ شدید لڑائیوں کے بعد خیر بخش مری اور ان کے چند ساتھی گرفتار کر لیے گئے، سینکڑوں بلوچ شہید ہوئے اور بہت سے دیگر پہاڑوں کی طرف پسپا ہو گئے، جبکہ خیر بخش مری کو جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس طرح بظاہر امن قائم ہو گیا اور لڑائی رک گئی، مگر سیاسی مسئلہ اپنی جگہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا اور بالآخر ۱۹۷۳ء کی خونریز جنگ کی راہ ہموار ہو گئی۔

