صوبۂ بلوچستان میں جاری تشدد پاکستان کی داخلی سیاسی ناکامیوں، انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور فوجی مرکزیت پر مبنی پالیسیوں کا براہِ راست نتیجہ ہے، نہ کہ کسی بیرونی مداخلت کا حاصل۔ عالمی انسانی حقوق کی رپورٹس اور آزاد تحقیقات واضح کرتی ہیں کہ جبری گمشدگیاں، وسیع پیمانے پر فوجی آپریشنز، ماورائے عدالت قتل، سیاسی محرومی اور معاشی پسماندگی وہ عوامل ہیں جنہوں نے برسوں سے بلوچستان کو مستقل بحران کی طرف دھکیلا ہے۔ اس صورتِ حال نے ریاست اور عوام کے درمیان خلیج کو گہرا کیا ہے اور تنازع کی بنیادی وجہ بن چکی ہے۔
پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی جانب سے بلوچ کارکنوں، طلبہ، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے افراد کی جبری گمشدگیاں عالمی انسانی حقوق کے اداروں کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں۔ ہزاروں خاندان آج بھی اپنے لاپتا عزیزوں کا انجام جاننے کے منتظر ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ ریاست سیاسی مسائل کے حل کے بجائے طاقت کو بنیادی ذریعہ بناتی ہے۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں بلوچ عوام کی نارضاگی مزاحمت میں بدل چکی ہے۔
دوسری جانب، شواہد اور دستیاب معلومات کے مطابق بلوچ قیادت اور فیصلہ سازی کے اصل مراکز خود بلوچستان کے اندر موجود ہیں۔ جنگ کی تنظیم، آپریشنز کی نگرانی اور اسٹریٹجک فیصلے اسی زمین سے کیے جاتے ہیں جہاں یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ اب تک کوئی معتبر عالمی رپورٹ، خفیہ دستاویز یا آزاد تجزیہ اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتا کہ بلوچ مسلح قیادت افغانستان یا کسی اور بیرونی ملک سے سرگرم ہے۔ اس حقیقت کو نظرانداز کرنا تجزیاتی کمزوری اور دانستہ تحریف ہے۔
اس کے باوجود پاکستانی میڈیا اور فوجی رجیم بار بار بحران کا الزام بیرونی ممالک، بالخصوص افغانستان، پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح کے دعوے عموماً سیاسی دباؤ کم کرنے، عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے، بیرونی امداد حاصل کرنے اور داخلی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہاں افغانستان کا نام لینا مسئلے کے حل کا ذریعہ نہیں بلکہ حقیقت سے فرار کا ایک آسان راستہ ہے۔
امارت اسلامیہ افغانستان اپنی سرکاری پالیسی اور بنیادی اصولوں کے مطابق ہمیشہ دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر قائم رہی ہے۔ یہ موقف صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ثابت ہوا ہے۔ امارت اسلامیہ نے متعدد بار اعلان کیا ہے اور عملی سیاست میں دکھایا ہے کہ وہ نہ پڑوسی ممالک میں عدم استحکام کی حمایت کرتی ہے اور نہ ہی افغانستان کی سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال ہونے دیتی ہے۔ اس اصول کی پاسداری کو خطے کے استحکام کے لیے ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر پاکستانی فوجی رجیم اس گہرے بحران سے نکلنا چاہتی ہے تو بے بنیاد الزامات کے بجائے اپنے داخلی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔
پڑوسیوں پر الزام تراشی نہ جنگ ختم کرتی ہے اور نہ ہی بلوچستان کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے۔ اس کے برعکس بہتر یہ ہے کہ پاکستان سیاسی حل کا راستہ اپنائے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ کرے، بلوچستان کے عوام کو جائز سیاسی شراکت دے اور اگر ضرورت ہو تو عالمی برادری اور ثالثی اداروں کی مدد حاصل کرے، تاکہ ان مسائل کو منطقی، منصفانہ اور پائیدار انداز میں حل کیا جا سکے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بلوچوں اور پاکستان کے درمیان جاری تشدد پاکستانی فوجی رجیم کی اپنی پالیسیوں کا فطری نتیجہ ہے۔ انہوں نے جو بویا تھا، آج وہی کاٹ رہے ہیں۔ جب تک مسئلے کی جڑوں کی طرف رجوع نہیں کیا جاتا اور اس کے بجائے دوسروں پر الزام لگایا جاتا رہے گا، یہ بحران جاری رہے گا۔
حقیقت واضح ہے: بلوچستان کا بحران پاکستان میں پیدا ہوا ہے اور اس کا حل بھی یہیں ہے، کابل میں نہیں۔

