حال ہی میں افغانستان کے مختلف صوبوں میں، بالخصوص صوبۂ کنڑ میں، پاکستانی رجیم کی جانب سے بمباریوں اور فوجی حملوں کی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جن کے نتیجے میں عام شہریوں کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔
اسلامی نظام کے ساتھ دشمنی کے گناہ اور اس کی سزا کو ہم اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں؛ لیکن اس قسم کے حملے، جن میں فوجی اور شہری اہداف کے درمیان فرق نہیں کیا جاتا، نہ صرف انسانی اصولوں کو پامال کرتے ہیں بلکہ نہتے لوگوں کے دلوں میں گہرا درد، کرب اور غم پیدا کرتے ہیں۔
اسلام کے مقدس دین کی نظر میں انسان کی جان کی حفاظت بنیادی اصولوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اسلامی ہدایات میں ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ ہم عینی شاہد ہیں کہ پاکستان کی خونخوار رجیم، اپنے آقاؤں کی خوشی کے لیے، بے گناہ اور عام شہریوں کے خون سے خود سے لتھڑ چکی ہے۔ یہ وہی خصلت ہے جو یہود اور یہود صفت لوگوں کی خاص نشانی سمجھی جاتی ہے۔
گزشتہ چند دنوں میں ہم نے دیکھا کہ پاکستانی رجیم کی ظالم اور وحشی افواج نے صوبۂ کنڑ میں نہتے لوگوں کے رہائشی مکانوں پر مارٹر حملے کیے، جن کے نتیجے میں عام شہری، خواتین اور بچے شہید ہوئے۔ اگرچہ ایسے نظام سے کسی قسم کی شکایت اور گلے سے فائدے کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی، جو اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی رضا پر یہود اور کفار کی خوشی کو ترجیح دیتا ہو، کیونکہ اپنے آقاؤں کی اطاعت اور رضا ہی ان کی آخری خواہش اور سب سے بڑا مقصد بن چکا ہے۔
اسی بنا پر، عام اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا ایک ایسا برا عمل ہے جو صریحاً دینی اور اسلامی اقدار سے ٹکراتا ہے، کیونکہ اسلام حتیٰ کہ جنگ کے گرم میدانوں میں بھی اس بات پر زور دیتا ہے کہ غیر محاربین، خواتین، بچوں اور کمزور افراد پر کسی قسم کی زیادتی اور نقصان نہ پہنچایا جائے۔
آخر میں، اس رجیم کے حملوں اور بمباریوں کا انداز اسرائیلی رجیم کے اقدامات سے مشابہت رکھتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ ان کی ظالمانہ کارروائیوں اور بے رحمی کی قدم بہ قدم پیروی کر رہا ہے۔ غزہ کے خلاف اسرائیل کے حملوں میں کمی کے بعد، گویا یہ ذمہ داری پاکستانی رجیم کے سپرد کی گئی ہے تاکہ افغانستان کی قوم کو بھی غزہ کے مظلوم عوام کی طرح بے گھر اور مہاجر بنایا جائے۔

