گویا کہ دو سیاہ سائے انسانیت کے ضمیر پر چھا گئے ہیں۔ اسرائیل اور پاکستان، ہر ایک اپنے اپنے میدان میں، ایسی راہ پر گامزن ہیں جو بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگی ہوئی ہے، ایسی راہ جس میں نہ کوئی فخر ہے اور نہ انسانیت، بلکہ جو صرف مظلوموں کی آہوں اور سسکیوں سے پہچانی جاتی ہے۔
تاریخ، یہ خاموش مگر بیدار گواہ، کئی بار ایسے مناظر دیکھ چکی ہے، وہ مناظر جن میں طاقت کے بھوکے لوگ، غرور کے نشے میں دھت اور انصاف سے بے پروا ہو کر، اپنے ہاتھ جرائم کی طرف بڑھاتے رہے ہیں۔ لیکن یہی تاریخ ان کہانیوں کا انجام بھی اپنے صفحات میں رقم کر چکی ہے۔ نہ کوئی ظلم ہمیشہ باقی رہا ہے اور نہ کوئی ظالم اپنے حتمی انجام سے فرار میں کامیاب ہو سکا ہے۔
آج بھی یہ منحوس مقابلہ، اگرچہ دردناک اور دل دہلا دینے والا ہے، مگر اسی نہ بدلنے والی الٰہی اور تاریخی سنت کی یاد دہانی کراتا ہے، وہ سنت کہ جس کے مطابق ظلم کی رات چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، بالآخر عدل کی صبح تک پہنچتی ہے۔ بچوں کی خاموش ہو چکی آوازیں، ماؤں کے ،آنسو اور زمین پر بہایا گیا خون، یہ سب گواہی دیں گے اور ایک دن ایسی فریاد میں بدل جائیں گے جو ظلم کے ایوانوں کو منہدم کر دے گی۔
دیکھنا یہ ہے کہ اس بری راہ میں کون کس سے پہلے زوال کا شکار ہوتا ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس راستے کا انجام دونوں کے لیے رسوائی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ کیونکہ زمانے کا پہیہ کبھی ظالموں کے حق میں نہیں گھوما اور نہ ہی گھومے گا۔ مگر یہ انجام محض ایک سادہ زوال نہیں ہوگا، بلکہ ایسا انہدام ہوگا جو اندر سے شروع ہوگا۔ جب ظلم کی بنیادیں خوف اور فریب پر قائم ہوں، تو پہلی دراڑیں بھی انہی بنیادوں میں نمودار ہوتی ہیں۔
وہ قومیں جو ظلم کے بوجھ تلے خاموش رہی ہیں، ایک دن بیدار ہو جائیں گی، اور یہی بیداری وہ طاقت ہے جسے کوئی قوت قابو میں نہیں لا سکتی۔ اس تاریک راستے میں، ہر وہ قدم جو بے گناہ انسانوں کے خون پر رکھا جاتا ہے، کھائی کے کنارے کا فاصلہ مزید کم کر دیتا ہے۔ ہر دبائی گئی فریاد، ایسی بازگشت میں بدلتی ہے جو جلد یا بدیر واپس لوٹتی ہے، اور ہر آنسو جو زمین پر گرتا ہے، ایک ایسا بیج ہے جس سے ایک دن قہر اور عدل کا درخت اگے گا۔
آج طاقت کا شور و غوغا ممکن ہے کہ حقیقت کو گرد و غبار میں چھپا دے، لیکن کل یہی حقیقت جلتے ہوئے سورج کی مانند پردے چاک کر دے گی۔ اس وقت نہ کوئی بہانہ باقی رہے گا اور نہ فرار کی کوئی راہ۔ نام تو باقی رہیں گے، مگر فخر کے طور پر نہیں بلکہ تاریخ کے صفحات میں عبرت کی علامت کے طور پر۔
آخرکار، اس مقابلے کا فیصلہ طاقت کے میدان میں نہیں بلکہ وقت کی عدالت میں ہوگا، ایک ایسی عدالت جہاں نہ کوئی اثر و رسوخ چلتا ہے اور نہ کوئی جھوٹ قبول کیا جاتا ہے۔ اور وہاں یہ واضح ہو جائے گا کہ حقیقی فاتح وہ نہیں جو سب سے زیادہ تباہی پھیلائے، بلکہ وہ ہے جو حق اور انسانیت کے ساتھ کھڑا ہو۔

