اسلام ایثار، فداکاری اور قربانی کا دین ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کی بھاری ذمہ داری سے سرفراز ہوئے، تو آپ نے حق پہنچانے، دعوت پھیلانے اور شرک و بت پرستی کے خلاف کھڑے ہونے کی راہ میں سخت مشکلات جھیلیں۔ آپ کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی دعوت کے سخت دن، اذیتیں اور باطل سے ٹکراؤ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے جسموں پر برداشت کیا۔
یہاں تک کہ خواتین نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق حق کی راہ میں قربانیاں دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اپنے مقصد کے بارے میں فکر مند رہتے تھے، وہ اس راہ میں آنے والی سختیوں کی ذرہ برابر پرواہ نہ کرتے تھے،۔ اگر کوئی صحابی یا قریبی ساتھی شہید ہو جاتا تو ان کا عزم کمزور نہیں پڑتا تھا بلکہ اور بھی پختہ ہو جاتا اور وہ اپنی راہ میں مزید اخلاص اور استقامت اختیار کرتے۔
یہ اللہ تعالی کی سنتوں میں سے ہے کہ دین کے تحفظ اور بقا کے لیے قربانی ضروری ہے۔ جب تک قربانی نہ دی جائے، دین ترقی نہیں کرتا۔ کچھ لوگ فتح اور کامیابی کے دن اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور اللہ تعالی انہیں بہترین نصرت سے نوازے گا، لیکن کچھ دیگر شہادت کے اعزاز سے فتح سے پہلے ہی سرفراز ہو جائیں گے۔ دونوں گروہ کامیاب ہیں، کیونکہ مسلمان «إحْدی الْحُسْنَییْن» کا مصداق ہیں: یا فتح یا شہادت۔
تاریخِ اسلام میں یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ بہت سے مسلمانوں اور مجاہدین نے اسلام کی فتح کے لیے سخت مشقتیں اور تکلیفیں جھیلیں، لیکن فتح آنے سے پہلے ہی شہید ہو گئے۔ ان میں سے سمیہ اور یاسر رضی اللہ عنہما ہیں جو اسلام کے ابتدائی دنوں میں، مسلمانوں کے مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے شہید ہوئے۔ اسی طرح حضرت حمزہ اور مصعب رضی اللہ عنہما نے مکہ کی فتح سے پہلے شہادت کا جام نوش کیا۔
معاصر تاریخ میں فلسطین کے عوام کی قربانیاں بے مثال ہیں۔ تاریخ ان کے ثبات اور استقامت کی داستان لکھے گی، وہ استقامت جو پہاڑوں کی طرح غیر متزلزل ہے۔ وہ اپنے قائدین کی شہادت سے کمزور نہیں پڑتے بلکہ ان کا عزم مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔
اگر آج حذیفہ سمیر عبداللہ الکحلوت (ابوعبیدہ) اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ شہادت کی منزل پر پہنچتے ہیں، تو یہ مسلمانوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں، بلکہ بہت سے لوگ اسی راہ میں حمزہ اور مصعب کی طرح قربان ہوں گے، اور ان کا خون اسلام کے درخت کو سینچنے کا کام کرے گا۔
ایک مجاہد کی سب سے بڑی تمنا یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالی اسے شہادت کی نعمت سے سرفراز کرے، کیونکہ ایک مجاہد کے لیے سب سے سخت بات یہ ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی جہاد کے راستے پر گزارے، لیکن آخرکار موت بسترِ مرگ پر آئے۔ اور اس کی سب سے پیاری تمنا یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالی اسے شہادت کے اعزاز سے نوازے۔
یہی تمنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی تھی کہ اللہ کی راہ میں بار بار شہید ہوں، جیسے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ایک روایت نقل کی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوَدِدْتُ أَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلَ» (صحیح بخاری)
تو ہمارا فرض مقصد کی طرف بڑھنا ہے، نہ کہ نتیجے کی ضمانت۔ ہم جدوجہد کے مکلف ہیں، ظاہری فتح کے نہیں، کیونکہ فتح اللہ تعالی کا وعدہ ہے۔ اور جو بھی اس راہ میں خود کو قربان کرے، چاہے وہ ہدف تک پہنچے یا نہ پہنچے، وہ کامیاب ہے۔

