ہر قوم تب اپنی عزت، شناخت اور بقا کو محفوظ رکھ سکتی ہے جب وہ اپنی تہذیبی اور فکری بنیادیں قائم رکھے۔ افغان قوم اسلام کی روشنی میں ایک مقدس ثقافت اور بھرپور تہذیب کی مالک ہے۔ ہماری روایات، رسم و رواج اور طرزِ زندگی ایمان، غیرت اور عفت کی بنیاد پر قائم ہیں، مگر گزشتہ کئی دہائیوں کے سیاسی انتشار اور غیر ملکی حملوں نے ہماری ثقافتی اقدار کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
اسلام اور افغان تہذیب ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، ہمارا خاندانی ڈھانچہ، احترام کی روایت، محبت اور بھائی چارے کا ماحول اور حلال و حرام کا شعور سب اسلامی فکر کے عکاس ہیں۔ یہ تہذیب معاشرے کی اخلاقی طاقت کی بنیاد بنتی ہے۔ مگر مغربی تہذیب، جو مادر پدر آزادی اور بے لگام پن کے گرد گھومتی ہے، ان اقدار کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
مغربی تہذیب کے نفوذ کے ذرائع بہت مکارانہ طریقے سے بنائے گئے ہیں: میڈیا، فلمیں، سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور زندگی کی ظاہری خوبصورتی اور حسن کی تشہیر۔ یہ ذرائع آہستہ آہستہ نوجوان نسل کی فکر اور ذوق کی ساخت بدل دیتے ہیں، یہاں تک کہ نوجوان اپنے قومی اور دینی فخر کو کم قیمت سمجھنے لگتا ہے اور غیروں کی نقل میں دوڑنے لگتا ہے۔
اس تہذیبی یلغار میں، افغان مسلمان عوام کی فکر کا تحفظ ایک فکری جہاد کی مانند ہے۔ یہ جہاد قلم، فکر، تعلیم اور میڈیا کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ ہر استاد، ادیب، والدین اور دینی عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی افکار کی جڑیں نئی نسل کے دلوں میں مضبوط کریں۔
تہذیب کا تحفظ صرف ماضی کی اقدار کی تقدیس نہیں، بلکہ ان کی معاصر شکل کی تشکیل بھی اہم ہے۔ ہمیں ٹیکنالوجی اور ترقی کے ذرائع کو استعمال کرنا چاہیے، مگر اپنی تہذیبی روح کے مطابق۔ جیسے اسلامی تہذیب ماضی میں علم، فن اور اخلاق کی مثال تھی، آج بھی افغان مسلمان قوم جدت اور تقویٰ کے امتزاج کی مثال بن سکتی ہے۔
غیر ملکی ثقافتوں کا خطرہ صرف کپڑوں اور زبان کے بدلاؤ میں نہیں، بلکہ فکری غلامی میں ہے۔ جب ایک قوم اپنی فکر دوسروں سے لیتی ہے تو اپنی شناخت کھو دیتی ہے۔ اس کے لیے علمی خودمختاری، افغان زبانوں کی مضبوطی اور اسلامی فلسفہ کی بنیادی تربیت ضروری ہے۔
میڈیا، نصابِ تعلیم اور سماجی سرگرمیوں کی سمت قومی اقدار کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ وہ فلمیں، پروگرام اور نشریات جو اسلامی اخلاق کے خلاف ہوں، قوم کے فکری زوال کا سبب بنتی ہیں۔ اس کی جگہ افغان تاریخ، بہادری، ادب اور دینی فتوحات کے عکس کو مضبوط کیا جائے۔
اس سلسلے میں خاندان سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ماں باپ اپنے بچوں کی تربیت قرآن اور سنت کی بنیاد پر کریں تو کوئی غیر ملکی فکری حملہ ان پر اثر نہیں کر سکے گا۔ بچپن سے ہی اپنے دین اور ثقافت سے محبت بڑھانا تہذیبی استقلال کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔
حکومت اور معاشرے کی ہم آہنگی بھی ضروری ہے۔ ثقافتی پالیسیوں، ادبی اداروں اور دینی مراکز کی مشترکہ کوششیں غیر ملکی ثقافتی نفوذ کے سامنے ایک متحد فکری دیوار کھڑی کر سکتی ہیں۔ یہ جدوجہد تعلیم، فن، صحافت اور سماجی اصلاحات کے ذریعے مسلسل جاری رکھنی چاہیے۔
آخر میں، افغان اور اسلامی تہذیب کا تحفظ ہر افغان کا ایمانی اور قومی فریضہ ہے۔ اگر ہم اپنی شناخت کھو بیٹھیں تو ہمارے استقلال کی روح بھی ختم ہو جائے گی۔ آئیے ایمان، علم، ادب اور غیرت کی طاقت سے اغیار کی تہذیبی یلغار کے سامنے ڈٹ جائیں اور اپنی تہذیب کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک عزت مند امانت کے طور پر محفوظ رکھیں۔

