Site icon المرصاد

تین پاکستانی فوجیوں کی رہائی اور اس سے متعلق اہم سوالات!

امارتِ اسلامی افغانستان نے ۱۷ فروری ۲۰۲۶ء کو اعلان کیا کہ ۹ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو پاکستانی فوج کی جانب سے افغانستان پر بلاجواز شروع کی گئی جنگ کے ۱۲ اکتوبر کو دیے گئے جوابی وار میں پاکستانی فوج کے تین گرفتار اہل کاروں کو سعودی عرب کی سفارتی ثالثی کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ اہل کار کابل پہنچنے والے سعودی وفد کے حوالے کیے گئے، تاکہ ان رہا کیے جانے والے پاکستانی اہل کاروں کو ان کے ملک کے سپرد کیا جا سکے۔

امارتِ اسلامی کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس اقدام کو ماہِ رمضان کے احترام، برادر ملک سعودی عرب کی درخواست اور تمام ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں، خصوصاً Reuters اور Associated Press نے اس خبر کو نمایاں طور پر رپورٹ کیا ہے۔ البتہ توقع کے عین مطابق پاکستان کے سرکاری و مقامی میڈیا میں اس حوالے سے سرسری سا ذکر بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ اسی طرح پاکستان کی وزارتِ خارجہ یا فوجی رجیم کی جانب سے بھی کوئی واضح عوامی بیان جاری نہیں ہوا۔

پاکستان کی جانب سے یہ خاموشی بجائے خود پاکستان کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔
ممکن ہے، ریاستی سطح پر اس معاملے کو حساس قرار دیا گیا ہو۔ البتہ پاکستانی فوجی معاملات پر نظر رکھنے والوں کے نزدیک یہ خاموشی اپنی کمزوری چھپانے کی کوشش ہے۔
پسِ منظر کے طور پر یاد رہے کہ اکتوبر ۲۰۲۵ء کی جھڑپوں کے دوران امارتِ اسلامی افغانستان کے مجاہدین نے جوابی کارروائی میں پاکستانی فوجی رجیم کے ۵۸ اہل کاروں کو ہلاک اور ۳۰ کے قریب کو زخمی کر دیا تھا۔

دوسری جانب پاکستانی فوجی رجیم کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے حقائق سے انحراف کرتے ہوئے اپنے ہلاک و زخمی عناصر کی تعداد کم ظاہر کی۔
اسی دوران پاکستانی میڈیا میں یہ دعوے بھی گردش کرتے رہے کہ ’’پاکستانی فوجی رجیم نے ڈیورنڈ لائن سے متصل افغان علاقوں میں پیش قدمی کی ہے اور کئی افغان چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا ہے۔‘‘
البتہ تب چند روزہ جھڑپوں کے دوران عجیب و غریب دعوے کرنے والے پاکستانی میڈیا نے اپنے تین فوجیوں کی گرفتاری کی کوئی خبر سامنے نہیں لائی۔

سوال یہ ہے کہ جب پاکستانی میڈیا اور فوجی رجیم مختلف قسم کے دعوے کر رہا تھا تو اُسے اپنے عناصر کی گرفتاری کو ظاہر کرنے میں کیا مانع تھا؟ اس دوران مکمل خاموشی کیوں رہی؟

یاد رہنا چاہیے کہ پاکستان میں حساس عسکری معاملات بظاہر تبھی رپورٹ ہونے دیے جاتے ہیں، جب فوجی رجیم باضابطہ تصدیق کریں۔ ’’آفیشل سیکرٹ ایکٹ، پیمرا‘‘ کے ضوابط اور قومی سلامتی کے نام پر غیر اعلانیہ سرخ لکیریں پاکستانی میڈیا کے دائرۂ کار کو محدود کرتی ہیں۔ چناں چہ مقامی میڈیا کی خاموشی کو فوجی رجیم کے دباؤ سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔
البتہ مسئلہ صرف قانونی حدود کا نہیں، اعتماد کا بھی ہے۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں معلومات پر مکمل کنٹرول اب ممکن نہیں رہا۔ جب عالمی ادارے خبر نشر کرتے اور سوشل میڈیا پر اس کی تفصیلات گردش کرنے لگتی ہیں تو سرکاری و مقامی اداروں کی خاموشی خود ایک تماشا بن جاتی ہے۔ عوام کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مبینہ کامیابیوں کا شور گونج رہا تھا تو اس میں نقصان کی خبر کو کیوں چھپایا گیا؟ اور اگر نقصان نہیں ہوا تھا تو رہائی کی خبر کہاں سے آ گئی ہے؟

پاکستان میں موجود یہ وہ خلا ہے، جسے ماہرینِ ابلاغیات ’’Credibility Gap‘‘ کہتے ہیں۔ یعنی ریاستی بیانیے اور عوامی اعتماد کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ…

اسی طرح حالیہ برسوں میں پاکستانی فوجی رجیم کی جانب سے ایک نیا رجحان نمایاں ہوا ہے۔ یہ کہ فوج کی سنگین خامیوں اور غلطیوں کو عیاں کرنے والی بھی ویڈیو یا مقابل فریق کے دعوے کو فوری طور پر ’’اے آئی جنریٹڈ‘‘ یا ’’ڈیپ فیک‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔
بلاشبہ مصنوعی ذہانت کے دور میں جعل سازی ممکن ہے، لیکن پاکستانی فوجی رجیم کی طرف سے ہر غیر موافق خبر کو جعلی قرار دینا طویل المدت مثبت حکمتِ عملی ہو سکتی ہے؟

ناقدین کے مطابق اس طرزِ ردعمل سے مسئلے کی وضاحت کے بجائے ابہام مزید بڑھ جاتا ہے اور اسے مسئلے سے گریز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

البتہ پاکستان کے تین فوجی قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں ایک چیز مختلف تھی، جس کی وجہ سے یہاں پاکستانی فوج کو اے آئی جنریٹڈ یا ڈیپ فیک کہنے کا موقع نہیں مل سکا۔ وہ یہ کہ ان قیدیوں کی رہائی سعودی عرب کی ثالثی میں ہوئی ہے۔
اس کے باوجود پاکستانی میڈیا پر خاموشی حیرت انگیز تو ہے، مگر ناقابلِ توقع نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام اطلاعاتی جنگ کے اس میدان میں پاکستانی فوجی خاموشی یا مسلسل تردید کو فوجی رجیم کی کمزوری یقین کرنے لگے ہیں۔ یوں پاکستانی عوام کو یہ یقین بھی ہو چلا ہے کہ پاکستانی فوج امارتِ اسلامی افغانستان کے مقابلے میں اس پوزین پر آ چکی ہے کہ وہ امارتِ اسلامی افغانستان کے ساتھ اپنے دو ٹوک معاملات بھی ثالثی کے بغیر انجام نہیں دے سکتی۔

البتہ اس واقعے کا ایک اور قابلِ غور پہلو یہ بھی ہے کہ جب تین اہل کار اکتوبر سے حراست میں تھے اور ان کی رہائی سعودی ثالثی کے ذریعے عمل میں آئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’امارتِ اسلامی نے معاملے کو حتی الامکان عسکری تصادم میں بدلنے کے بجائے سفارتی دائرے میں رکھنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے۔‘‘

رمضان کے احترام اور علاقائی تعلقات کے تناظر میں رہائی کا اعلان ایک سیاسی پیغام تو ہے ہی، مگر یہ کشیدگی کے باوجود مذاکراتی دروازہ بند نہ کرنے کا پیام بھی ہے۔
امارتِ اسلامی افغانستان کی یہ حکمتِ عملی خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی خود اعتمادی کا اظہار سمجھی جا رہی ہے۔

یہاں پاکستانی فوجی رجیم کی خاموشی کے تناظر میں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ عموماً یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ایسے معاملات میں خاموشی فوجی مورال کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ تاکہ عوام اپنی فوج کا کمزور پہلو دیکھ کر فوج کو قابلِ تسخیر اور خود کو غیر محفوظ نہ سمجھیں۔ البتہ آج کا دور ۱۹۹۰ء کی دہائی نہیں ہے۔ ہر شہری کے ہاتھ میں موبائل ہے اور حقائق پیمرا ایکٹ کے پابند نہیں ہیں۔

اگر عوام کو اپنے ملک کے نقصانات کا علم بھی غیر ملکی ذرائع سے ہو تو اس سے فوجی مورال بھی تباہ ہوتا ہے اور عوام کا اعتماد بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ عوام کی طرف سے یہ احساس کہ ’’ہمیں اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے‘‘، کسی بھی ریاست کے لیے طویل المدت خطرہ بن سکتا ہے۔ معلومات کو روکنے کی پالیسی وقتی طور پر تو خیالی بُت کو بچا سکتی ہے، مگر اعتماد کے بحران کو گہرا کر دیتی ہے۔

ایک بات واضح ہے کہ جدید دور میں معلومات کو چھپانا قومی مفاد نہیں، بلکہ اکثر قومی نقصان بن جاتا ہے۔ ریاستی وقار کی بنیاد مکمل خاموشی پر نہیں، بلکہ مربوط، شفاف اور مسلسل سچائی پر ہوتی ہے۔
تین قیدیوں کی رہائی شاید ایک چھوٹا واقعہ ہو، مگر اس نے پاکستانی معاشرے میں فوجی بیان بازی کے معتبر ہونے پر کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

Exit mobile version