Site icon المرصاد

جارحیت کے مقابل مزاحمتی قوتوں کی دلیرانہ جرأت!

پاکستانی فوجی رجیم، جو آج تک امریکی سرپرستی کے پرانے اور نئے زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، ایک بار پھر اپنا اصل چہرہ بے نقاب کر چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں امارتِ اسلامیہ کی جانب سے پاکستانی فوجی اہداف پر کیے گئے کامیاب ڈرون حملے ایسا کاری اور ہلاکت خیز وار ثابت ہوئے کہ کرائے کے جنرل اپنی ہی چھاؤنیوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے اور خود کو ’’نمبر ون‘‘ کہنے والے خفیہ ادارے کی تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

یہ حملے کوئی اتفاقی ضرب نہ تھے؛ بلکہ انتقام کی بھڑکتی ہوئی آگ اور گہرے غور و تدبر کی بھٹی میں پکے ہوئے منصوبہ بند آپریشن تھے۔ پاکستانی فوج، جو امریکی منصوبوں کے دائرے میں رہتے ہوئے افغان سرزمین پر فضائی حملے کرتی ہے، شہری آبادی، عورتوں اور بچوں، دیہات، گھروں، مساجد، مدارس، ہسپتالوں اور مہاجر کیمپوں کو نشانہ بناتی ہے۔ یہ سب کچھ امریکی ڈالر، خفیہ معلومات، جدید ٹیکنالوجی، ایندھن اور لاجسٹک معاونت کے بغیر ممکن ہی نہ تھا۔

امریکہ نہ صرف سیٹلائٹ، خفیہ معلومات اور فضائی نگرانی فراہم کرتا ہے بلکہ ہر بم، ہر ڈرون اور ہر کارروائی کے مالی بوجھ کو بھی اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے۔ ان حملوں کو بظاہر ’’امریکی مفادات کے تحفظ‘‘ کے نام پر جاری رکھا گیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا اصل مقصد امارتِ اسلامیہ کو کمزور کرنا اور افغان عوام کے خلاف جاری ظلم و بربریت کو برقرار رکھنا ہے، خواہ انہیں ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائیوں کا نام ہی کیوں نہ دیا جائے۔

دوسری جانب امارتِ اسلامیہ نے اپنے عوام کے دفاع، ان کی حرمت کے تحفظ اور ظلم کا بدلہ لینے کے لیے مؤثر انداز میں استشہادی ڈرونز کا استعمال کیا ہے۔ کوہاٹ چھاؤنی، نوشہرہ، ایبٹ آباد، جمرود، فیض آباد اور حتیٰ کہ راولپنڈی میں واقع نور خان ایئر بیس… یہ سب اہم فوجی مراکز ابابیلوں(ڈرونز) کے مہلک حملوں کی زد میں آکر کامیابی سے نشانہ بنائے جا چکے ہیں۔

آپ کے ڈرون شکن نظام بے بس، بے حس اور بالآخر بے فائدہ ثابت ہوئے۔ آپ کے یہ دعوے کہ ’’تمام حملے ناکام بنا دیے گئے‘‘ عوام کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز نے کھوکھلے ثابت کر دیے۔ یہ حملے اس قدر کامیاب تھے کہ فوجی اہداف کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا اور پاکستانی فوجی رجیم کو ایک واضح پیغام دے دیا گیا کہ آپ کے ظلم کا انتقام لیاجائے گا۔

یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستانی کرائے کے جرنیل امریکی ایجنڈے کی خدمت میں افغان عوام پر ظلم و بربریت ڈھا رہے ہیں۔ وہ امریکی ڈالر، اسلحے اور پشت پناہی کے بل بوتے پر افغان فضائی حریم کی خلاف ورزی کرتے ہیں، مگر افغان جاں نثار مجاہدین محدود وسائل اور مکمل خودانحصاری کے ساتھ پاکستان کی درندگی کا دندان شکن جواب دے رہے ہیں۔ پاکستان کی غلام فوج کی یہ بزدلی اس امر کی غماز ہے کہ انہیں اپنی پالیسیوں پر کوئی اختیار حاصل نہیں؛ بلکہ وہ واشنگٹن کے اشاروں پر ناچتے ہیں اور ڈالر کے عوض اپنا وقار اور وطن تک بیچ ڈالنے پر آمادہ ہیں۔

امارتِ اسلامیہ کی جانب سے یہ ردِّ ظلم کی کارروائیاں محض ایک عسکری جواب نہیں، بلکہ ایک اصولی، ایمانی اور تاریخی موقف کی ترجمانی ہیں کہ: ظلم کا جواب قوت کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ جب تک پاکستانی فوجی رجیم امریکی منصوبوں کے تحت افغان سرزمین پر فضائی بمباری، توپ خانے، گولہ باری اور ظلم و بربریت کا سلسلہ جاری رکھے گا، امارتِ اسلامیہ کی جوابی و انتقامی جدوجہد بھی اسی شدت اور عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔

یہ ابابیلوں جیسے مہلک اور فیصلہ کن وار پاکستان کی بزدل فوج کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ افغان دلیر اور سرشار مجاہدین نہ کبھی ٹوٹتے ہیں، نہ تھمتے ہیں اور نہ ہی سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔ ان کی مزاحمت ہر جارح کے لیے عبرت بنے گی، ہر ظالم کو اس کے انجام تک پہنچائے گی، اور وہ اپنے ہی خون کے سیلاب میں ڈوب جائے گا، ان شاء اللہ

Exit mobile version