Site icon المرصاد

جبر کے دو نقشے: دنیا میں دہشت گردی اور فساد کے مراکز

داعش کے ارکان کے مارے جانے کے بعد حاصل ہونے والے دستاویزات اور اعترافات سے ایسی حقیقتیں سامنے آئیں، جنہوں نے خطے کی شخصیات کے قتل، بدامنی، اور دنیا کے لیے خطرے اور نقصان کے مراکز کو بے نقاب کر دیا۔ جب کوئی نظام اپنے قانون اور داخلی استحکام کے فقدان سے اس حد تک دوچار ہو جائے کہ حالات پر قابو پانے، جواب دہی سے بچنے، اور خفیہ سازشوں اور منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے دہشت گردی اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف گروہوں کے نام اور نشان استعمال کرے، تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہوتا ہے کہ ایسا نظام نہ صرف اپنے عوام بلکہ ہمسایوں اور پوری دنیا کے لیے بھی خطرہ اور عدمِ تحفظ کا ذریعہ بن چکا ہے۔

آپ دنیا میں ان دو نظاموں (پاکستان اور اسرائیل) کے نقشے دیکھتے ہیں، جو جبر کی بنیاد پر قائم کیے گئے، اور جنہوں نے چند دہائیوں کے دوران دنیا، انسانیت، اور اپنے ہمسایہ ممالک کو بے شمار نقصانات پہنچائے۔ انہوں نے اپنی سازشوں اور خفیہ منصوبہ بندیوں کے ذریعے کتنے ہی اندرونی اور بیرونی مقاصد حاصل کیے، جن میں ان کا کردار وقتاً فوقتاً بے نقاب بھی ہوتا رہا ہے۔ یہ دونوں “جبر کے نقشے” ہمیشہ خطے میں نئے فساد اور سکیورٹی خطرات کو جنم دیتے ہیں، تاکہ بدامنی کے نام پر اپنے مقاصد، مفادات، اور خفیہ منصوبوں کو آگے بڑھا سکیں۔

یہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نعرے دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہی حلقے ایسے گروہوں کو پیدا کرتے اور پروان چڑھاتے ہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے ضلع اورکزئی میں محمد اقبال نامی داعش رکن کے مارے جانے نے، ماضی کی طرح پھر سے، داعش، خفیہ اداروں، اور فوج کے درمیان تعلقات، سرپرستی، اور تعاون کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا، کہ کس طرح ہر حملے اور کارروائی کا اختیار، فائدہ، اور انتظام فوج اور خفیہ اداروں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آیا یہ واقعی داعش ہے یا فوج کی جانب سے کرائے پر استعمال کیے جانے والے افراد؟

داعش کے بارے میں بار بار سامنے آنے والے شواہد اور واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ داعش کا نام صرف پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی جانب سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جب اس ملک میں داعش کے مراکز کو عام لوگ دیکھتے ہیں تو انہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ فوج یا آئی ایس آئی کے کیمپ ہوں۔ ان فوجی اور خفیہ مراکز کا استعمال، اور پھر انہی جگہوں پر داعش کے نام پر افراد کی بھرتی، تربیت، اور تیاری، اس بات کا ثبوت ہے کہ داعش دراصل پاکستان کے فوجی اور خفیہ حلقوں کی ایک نئی تخلیق اور آلہ ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جن مقاصد کو وہ کھلے اور براہِ راست طریقے سے حاصل نہیں کر سکتے، ان کے لیے اسی نام اور شناخت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر داعش کے نام سے وابستہ افراد اور دستاویزات کا جائزہ لیا جائے تو اکثر یہ لوگ اسی سرزمین کے شہری ہوتے ہیں، دوسرا یہ کہ ان کے فوج اور خفیہ اداروں کے ساتھ ملازمت یا تعاون کے تعلقات ہوتے ہیں، اور تیسرا یہ کہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک ان کی مکمل ہم آہنگی فوج اور خفیہ اداروں کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان کے اندر قتل و غارت اور داعش کے نام پر پیدا کیے جانے والے سکیورٹی خطرات کا کیا مطلب ہے؟

جب کوئی ملک داخلی استحکام، اقتصادی قدر، اور عوامی مشروعیت کھو دیتا ہے، تو عوامی بے چینی اور سکیورٹی واقعات میں اضافہ وہ ذریعہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے حکومت خود کو مصروف اور فعال ظاہر کرتی ہے۔ وہی داعش جو بیرونی ممالک کے لیے بنائی گئی تھی، آج اپنے ہی ملک کے اندر استعمال ہو رہی ہے۔ مزید یہ کہ داعش کا نام اور شناخت اکثر علماء، پاکستان کے سیاسی اور فوجی مخالفین، یا پاکستان کے معروف اور باصلاحیت افراد کے قتل کے لیے استعمال کی گئی ہے۔

Exit mobile version