یہ واقعہ ایک بار پھر خطّے کے سکیورٹی اور سیاسی ماحول میں اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ داعشی گروہ کی اصل مالی اعانت، تربیت اور سرگرمیوں کا جغرافیائی مرکز افغانستان کے بجائے کہیں اور ہے۔ اس گروہ کا ایک اہم کمانڈر، جو ’’حسن‘‘ کے نام سے مشہور تھا، گزشتہ روز پاکستان کے شہر کراچی میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں مارا گیا۔ حسن کا تعلق خیبر پختونخوا کے شہر پشاور سے تھا اور طویل عرصے سے وہ داعش کی صفوں میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا تھا۔
وہ اپنی تنظیم کے ان افراد میں سے تھا جو انٹیلیجنس، تنظیمی ڈھانچے اور عسکری کارروائیوں میں خاص مہارت رکھتا تھا، اور اسی بنیاد پر داعش کے اندر اسے ایک قابلِ اعتماد اور خطرناک عنصر سمجھا جاتا تھا۔
اس کی ہلاکت اگرچہ اس گروہ کے ایک اہم مہرے کے خاتمے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، لیکن اس سے بڑھ کر یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ داعش خراسان کو افغانستان کے بجائے باہر سے مالی اعانت، منصوبہ بندی اور تقویت مل رہی ہے۔ یہ واقعہ اسی تناظر میں آتا ہے جسے امارتِ اسلامیہ پہلے بھی بارہا شواہد اور گرفتاریوں کی بنیاد پر واضح کر چکی ہے کہ داعش کو افغانستان میں نہ تو مقامی پشت پناہی حاصل ہے، نہ ہی یہاں کوئی مستقل ٹھکانا، بلکہ یہ ایک درآمد شدہ منصوبہ ہے جو افغانستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس واقعے کو محض ایک انفرادی قتل نہ سمجھے بلکہ خطّے کے اصل سکیورٹی حقائق کو سمجھنے کی ایک علامت کے طور پر دیکھے، کیونکہ ایسے افراد دراصل دہشت گردی کے وہ شطرنجی مہرے ہیں جو سیاست، انٹیلیجنس اور عالمی کھیلوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کی جڑ وہاں ہے جہاں ایسے مہرے تیار کیے جاتے ہیں، نہ کہ وہاں جہاں ان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا جاتا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں حسن اس کوشش میں تھا کہ داعش کے لیے افغانستان کے اندر بم دھماکوں کی راہ ہموار کرے، لیکن اس سے پہلے کہ یہ منصوبے عملی شکل اختیار کرتے، وہ نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں ختم کر دیا گیا۔ یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اس گروہ کے منصوبے افغانستان سے اتنے نہیں جڑے جتنا کہ انہیں پڑوسی ملک سے ہدایات ملتی ہیں۔
پاکستان کی سرزمین پر ان کی موجودگی اور سرگرمیاں، اور وہیں سے حملوں کے نظم و نسق کی سعی، اس امر میں کوئی شک باقی نہیں چھوڑتیں کہ داعش خراسان نہ صرف افغانستان کی سرحدوں سے باہر منظم کی جا رہی ہے بلکہ ایک خاص پشت پناہی کے سائے میں پروان چڑھ رہی ہے۔
ایسے واقعات دراصل امارتِ اسلامیہ کے سلامتی سے متعلق مؤقف اور بیانات کی گہری تائید ہیں۔ امارت طویل عرصے سے یہ واضح کرتی آ رہی ہے کہ داعش افغانستان کی سرزمین کے بجائے پاکستانی علاقوں سے بالخصوص بلوچستان، خیبر پختونخوا اور دیگر شہروں جیسے کراچی سے منظم ہوتی ہے۔ یہی وہ مراکز ہیں جہاں داعش کو بھرتی، تربیت، پناہ گاہوں اور مالی وسائل تک رسائی حاصل ہے اور وقتاً فوقتاً افغانستان کے خلاف حملے ترتیب دیے جاتے ہیں۔

