جب کسی وحشی رجیم کے جنگی طیارے عام شہریوں کے گھروں اور طلبہ کے تعلیمی مراکز کی مقدس دیواروں پر بم برساتے ہیں تو یہ محض ایک فوجی غلطی نہیں ہوتی، بلکہ یہ اُس صہیونی منصوبے کا حصہ ہوتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے بیدار قوموں کے اذہان کو بارود کے ذریعے مفلوج کرنا چاہتا ہے۔ کنڑ پر پاکستانی رجیم کے حالیہ حملے، جن میں سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی اور سرکانہ کا گاؤں خون میں نہلا دیے گئے، درحقیقت اُس "وحشیانہ آئینے” کی ایک جھلک ہیں جسے اسرائیل اور امریکہ خطے میں استعمال کر رہے ہیں۔
یہ بمباری بعینہٖ اُن جرائم کی نقل ہے جو کچھ عرصہ قبل ایران کے قلب (تہران) میں ایک طلبہ کے ایک تعلیمی مرکز کو نشانہ بنا کر کیے گئے تھے۔ وہاں بھی ہدف "علم” تھا اور یہاں بھی۔ اس قسم کی اشتعال انگیز کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ افغان طلبہ کی قاتل رکہ، کی سرشت اُن قابض قوتوں سے ملی ہوئی ہے جنہوں نے لبنان اور تہران میں یونیورسٹیوں اور لائبریریز کو نشانہ بنایا تاکہ آنے والی نسلوں کو ذلت کی تاریکی میں رکھا جائے۔ کنڑ یونیورسٹی پر حملہ اُس فکری جنگ کا تسلسل ہے جو افغان نوجوان کو کتاب سے دور اور لڑائیوں میں مصروف رکھنا چاہتی ہے۔
سرکانہ میں ایک پورے گاؤں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حملہ آوروں کی منطق "اندھا دھند قتل” پر مبنی ہے۔ یہی وہ درندگی ہے جو آج اسرائیل لبنان میں انجام دے رہا ہے، جہاں شہریوں کے مکانات جنگی طیاروں کی مشق گاہ بن چکے ہیں۔ جب کوئی رجیم اپنے ہم زبانوں اور ہمسایوں کے خلاف صہیونی حربے استعمال کرتی ہے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اُن کی نام نہاد "اسٹریٹیجک ڈیپتھ” اب انسانی جانوں کے ضیاع اور آبادیوں کی تباہی تک محدود ہو چکی ہے۔
وہ رجیم جو یونیورسٹی کے ہاسٹل اور تدریسی کمروں پر بم برساتی ہے، درحقیقت اس نے سید جمال الدین افغانی کی اُس فکر کے سامنے شکست تسلیم کر لی ہے جو عالمِ اسلام کے اتحاد اور بیداری کی داعی تھی۔ یہ حملے صرف زمینی جارحیت نہیں بلکہ اُس مشترکہ تمدن پر حملہ ہیں جس کی بقا کے ضامن علم اور معرفت تھے۔
تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ بارود کے دھوئیں میں علم کے چراغ بجھائے نہیں جا سکتے۔ اگر امریکہ تہران میں، اسرائیل بیروت میں، اور پاکستان کی متجاوز رجیم کنڑ میں یونیورسٹیوں کو نشانہ بناتی ہے تو یہ اُن کے فکری دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ کنڑ یونیورسٹی کی ہر مسمار دیوار ایک ایسی بیداری کی بنیاد بنے گی جو حملہ آور رجیم کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔
یونیورسٹی انسانیت کی بقا کا مرکز ہے، اور اس پر حملہ درحقیقت انسانی اقدار کو چیلنج کرنا ہے۔ ہمارے قلم جنگ اور وحشیانہ بمباری کے مقابلے میں انصاف اور روشنی کی تاریخی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ کنڑ دنیا کے اُن تعلیمی مراکز کی نمائندگی کرتا ہے جو استعماری قوتوں کے حملوں کا ہدف بنے ہوئے ہیں۔

