گزشتہ روز بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سمیت چند شہروں میں بلوچ علیحدگی پسندوں کی جانب سے اچانک غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی۔ سورج نکلتے ہی بلوچ علیحدگی پسندوں نے ان علاقوں کی اہم سڑکوں، سرکاری مراکز اور متعدد اہم مقامات پر قبضہ کرلیا۔ سرکاری تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا اور علاقے کے لوگ کہتے ہیں کہ عملاً پورا علاقہ بلوچ علیحدگی پسندوں کے کنٹرول میں آ چکا ہے۔
بلوچ علیحدگی پسندوں کے ایک رہنما بشیر زیب نے ایک ویڈیو پیغام میں، جس میں وہ موٹر سائیکل پر سوار دیگر مسلح افراد کے ساتھ نظر آئے، بلوچستان کے تمام عوام سے اپیل کی کہ وہ باہر نکلیں اور اس فوجی حکومت سے آزادی حاصل کریں۔ اس کشیدہ صورتحال میں دیگر کئی افراد نے بھی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوامی اثاثوں پر ہاتھ صاف کیے، اور تاحال اطلاعات کے مطابق تین یا چار بینک مکمل طور پر لوٹ لیے گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طویل عرصے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند کھلے عام کوئٹہ جیسے بڑے شہر میں داخل ہوئے اور علانیہ اپنی مرضی کے اقدامات کر رہے ہیں، اور یہاں تک کہ بعض شہری، حکومتی تنقید کے باوجود، خوشی میں ان کی تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔
اس سے پہلے بلوچ علیحدگی پسند محدود حملے کرتے اور مرکزی شہروں سے دور علاقوں میں سرگرمیاں دکھائی دیتی تھیں، لیکن اس بار انہوں نے وسیع پیمانے پر جارحانہ حملے کیے اور اپنی تحریک کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ان وسیع اور جارحانہ حملوں کے جواب میں پاکستانی حکام ہمیشہ کی طرح کہتے ہیں کہ یہ دہشت گردانہ حملے ہیں اور بے گناہ شہری خطرے میں پڑ گئے ہیں، مگر تجزیہ کار اور بلوچستان کے مسائل پر گہری نظر رکھنے والے افراد کا ماننا ہے کہ یہ سب کچھ پاکستان کے طاقتور فوجی اور حکومتی نظام کے ظلم و ستم کے خلاف ردعمل ہے۔
حالیہ سال میں بلوچوں کی ایک نمایاں سیاسی شخصیت سردار اختر جان مینگل نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بلوچ نوجوان اب اپنے بزرگوں کی بات سننے پر آمادہ نہیں رہے، اور اب ہمیں خود ان کی تحریک میں ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے۔ سردار کے اس بیان پر وائس آف امریکہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسلام آباد میں قائم صنوبر انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور تجزیہ کار قمر چیمہ نے کہا تھا کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ قبائلی و سیاسی رہنماؤں کی ہمدردی، نوجوانوں اور خواتین کا یکجا ہو جانا ایک غیر معمولی اور حیران کن امر ہے، اور ان کے بقول اس کے پس منظر میں پاکستانی ریاستی اداروں کے مظالم اور بلوچ عوام کے حقوق کی مسلسل پامالی کارفرما ہے۔
بلوچ علیحدگی کی تاریخ پر نظر رکھنے والے مؤرخین کا کہنا ہے کہ بلوچوں اور پاکستانی ریاست کے درمیان کشیدہ تعلقات پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی وجود میں آ گئے تھے۔ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد اس وقت کی ریاستِ قلات کے سربراہ خان آف قلات نے پاکستان میں شمولیت کی مخالفت کی اور اعلان کیا کہ اگر پاکستانی فریق طاقت کا استعمال کرے گا تو اس کے خلاف مسلح مزاحمت کی جائے گی۔ خان آف قلات کی عمل داری میں کوئٹہ سے لے کر گوادر تک تمام بلوچ اکثریتی علاقے شامل تھے، جہاں اسلامی قانون کے مطابق نظامِ حکومت چلایا جا رہا تھا۔
علاقائی سطح پر یہ ان چند خطوں میں سے ایک تھا جہاں عدالتی امور برصغیر کی عظیم درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے ایک شاگرد اور نامور عالمِ دین شیخ شمس الحق افغانی انجام دیتے تھے، مگر پاکستانی حکام نے ان تمام حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے طاقت کا راستہ اختیار کیا، بمباری اور دیگر مظالم ڈھائے، اور بالآخر بلوچ علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے آئے۔ یوں خان آف قلات کی جانب سے اعلان کردہ مسلح بغاوت وقتی طور پر دبا دی گئی۔
تاہم جب ایوب خان کے دور میں فوجی بغاوت ہوئی تو خان آف قلات کے بعض رشتہ داروں نے اس کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا، جس کی قیادت نوروز خان کر رہے تھے۔ کئی برسوں کی مسلسل مزاحمت کے بعد ایوب خان کی جانب سے یہ پیش کش کی گئی کہ اگر نوروز خان ہتھیار ڈال دیں اور خود کو حکام کے حوالے کر دیں تو انہیں معافی دے دی جائے گی۔ اس یقین دہانی کے لیے ایوب خان نے متعدد معزز شخصیات کو ضامن کے طور پر پیش کیا، جس کے نتیجے میں نوروز خان پہاڑوں سے اتر آئے اور گرفتاری دے دی۔ مگر پاکستانی حکام نے اپنی روایت کے مطابق بدعہدی کی اور بہت جلد نوروز خان اور ان کے بیٹے کو پھانسی دے کر، اپنے وعدوں کے برخلاف، بے دردی سے قتل کر دیا۔
اگرچہ نواب نوروز خان کے ناحق اور بدعہدی پر مبنی قتل کے بعد بلوچ علیحدگی کی وہ لہر بظاہر ختم ہو گئی تھی، مگر بہت جلد ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ اقتدار میں ایک مرتبہ پھر پورا بلوچستان، خواہ وہ پہاڑی علاقہ ہو یا میدانی، حکومت اور فوج کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں بلوچ سیاست دانوں کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت کو برطرف کر دیا اور سردار عطاء اللہ مینگل سمیت تمام بلوچ سیاسی رہنماؤں کو قید میں ڈال دیا۔ اس کے علاوہ بھٹو حکومت نے مری اور جاولان کے علاقوں پر شدید بمباری کی اور اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے طاقت اور دہشت کا سہارا لیا تاکہ بلوچ عوام کو تابع بنایا جا سکے۔ محققین کے مطابق بھٹو کے دور میں نہایت وحشیانہ بمباری کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں مرد، بے گناہ بچے اور خواتین جاں بحق ہوئیں۔
ان اقدامات نے بلوچ اکثریتی علاقوں میں پاکستانی ریاست اور اس کے حکمرانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر کو جنم دیا۔ علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھٹو کے بمباری اور فوجی آپریشنز کو آج تقریباً پچاس برس بیت چکے ہیں، تاہم اب بھی اس خطے میں بے گناہ شہریوں کے ناحق قتل اور گھروں کی وسیع پیمانے پر تباہی کے آثار نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کے ان جابرانہ اقدامات نے ایک بار پھر بلوچ علیحدگی پسندوں کے لیے میدان ہموار کیا اور بابو شیر محمد مری اور میر ہزار خان کی قیادت میں مزاحمت کی ایک نئی تحریک نے جنم لیا۔ بابو شیر محمد، جو ’’شیر‘‘ کے نام سے معروف تھے، نے بڑے پیمانے پر جوابی حملے شروع کیے، مختلف علاقوں میں ریاستی عمل داری کو مفلوج کیا اور حکومتی اداروں کو بھاری نقصان پہنچایا۔
تاہم جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا اور پاکستان میں بھٹو حکومت کا خاتمہ ہو کر فوجی جنرل ضیاء الحق برسراقتدار آئے، تو یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ کہیں سوویت افواج بلوچوں کو اسلحہ فراہم نہ کریں اور انہیں اپنے مفادات کے لیے استعمال نہ کریں۔ اسی اندیشے کے تحت ضیاء الحق نے بلوچ قیادت سے رابطہ کیا اور ’’سب کچھ معاف‘‘ کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے متعدد وعدوں کے ذریعے حالات کو وقتی طور پر پرسکون کر دیا۔ بلوچوں نے مسلح جدوجہد ترک کر کے سیاسی عمل کی راہ اختیار کی، مگر یہ عمل اس وقت ایک بار پھر سبوتاژ ہو گیا جب پاکستان کے فوجی آمر پرویز مشرف نے بلوچوں کے ایک سرکردہ رہنما اور علاقے کی ممتاز شخصیت نواب اکبر بگٹی کو نہایت بے رحمی سے قتل کردیا۔ مزید برآں، مشرف نے قوم سے خطاب میں اس قتل کو اپنی ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور پورے بلوچ قوم کے لیے نہایت توہین آمیز اور حقارت آمیز الفاظ استعمال کیے۔
ان واقعات کے نتیجے میں بلوچوں نے ایک بار پھر اپنی تحریک کا اعلان کیا اور مختلف علاقوں میں کارروائیاں شروع کر دیں، یہاں تک کہ آج وہ باقاعدہ طور پر مرکز تک پہنچ چکے ہیں اور اسے اپنے کنٹرول میں لینے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
بلوچوں اور پاکستانی حکمرانوں کے درمیان جاری تنازع اور کشیدگی کے پسِ منظر میں کون سے عوامل کارفرما ہیں؟
اس حوالے سے امریکہ کے ایک نیم سرکاری ادارے لائنز انسٹی ٹیوٹ نے ایک مفصل مقالہ شائع کیا ہے، جس میں بلوچ علیحدگی کی تاریخ کے ساتھ ساتھ ان بنیادی اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ادارے کے مطابق بلوچ مسئلے کی اصل جڑ ان کے بنیادی حقوق کی پامالی ہے۔ مقالہ بتاتا ہے کہ پاکستان کا سونا، گیس، بجلی اور وہ تمام معدنی وسائل جن پر ملکی معیشت کا انحصار ہے، بلوچستان سے حاصل کیے جاتے ہیں، مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ انہی وسائل کے بدلے بلوچ عوام کو کسی قسم کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔ ان کے وسائل دوسروں کے لیے خوش حالی اور آسائش کا ذریعہ بنتے ہیں، جبکہ خود بلوچ عوام آج بھی غربت اور محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کی زمینیں بنجر، گھر کھنڈر، کمرے تاریک ہیں، اور گیس فراہم کرنے والے صوبے کے شہری خود سردی سے ٹھٹھرتے ہیں اور ایندھن کے لیے جھاڑیاں جمع کرنے پر مجبور ہیں۔ یہی مجبوری انہیں اپنے حق کے حصول کے لیے ہر ممکن جدوجہد پر آمادہ کرتی ہے۔
تاہم عالمی مبصرین کے نزدیک مسئلہ محض حقوق تک محدود نہیں۔ پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک پاکستانی حکمرانوں نے مسلسل کوشش کی ہے کہ بلوچ عوام کو ہر طرح کے جبر کے ذریعے دبایا جائے، ان کی نئی نسل کو تعلیم سے دور رکھا جائے، انہیں باہمی بدگمانیوں اور قبائلی تنازعات میں الجھائے رکھا جائے، صحت کے لحاظ سے کمزور کیا جائے، اور ایسے افراد کو ابھرنے نہ دیا جائے جو قیادت سنبھال سکیں یا اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے نواب اکبر بگٹی کو ظلم و جبر کے ساتھ قتل کیا، ایک ایسا واقعہ جس پر آج بھی پورا پاکستان حیرت زدہ ہے اور سیاست دانوں، علماء اور ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
گزشتہ بیس برسوں کے دوران پاکستانی حکمرانوں نے ہزاروں بلوچ شہریوں کو نہایت بے رحمی کے ساتھ ان کے گھروں سے اٹھایا، جن کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ان لاپتا افراد کے بارے میں معلومات کے لیے ماما قدیر سمیت کئی بلوچ شہریوں نے مہینوں بلکہ بعض نے برسوں تک احتجاجی دھرنے دیے، مگر نہ صرف ان کی آواز نہیں سنی گئی بلکہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو مزید ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔
حکمرانوں نے دیگر علاقوں تک بھی جبر کا دائرہ پھیلا دیا، معصوم بلوچوں کے قتل اور تشدد میں اضافہ ہوا، اور بڑی تعداد میں افراد کو گھروں سے اٹھا کر وحشیانہ انداز میں غائب کر دیا گیا۔ نہ ان کے خلاف کسی عدالت نے حکم جاری کیا اور نہ ہی انہیں کسی عدالتی فورم پر پیش کیا گیا؛ وہ محض لاپتہ ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ آج بھی صرف اتنا چاہتے ہیں کہ انہیں اپنے پیاروں کے زندہ یا مردہ ہونے کی خبر مل جائے۔
اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات بھی حاصل کیے گئے، مگر وہ حکمران جو خود کو مطلق العنان فرعون سمجھتے ہیں، انہوں نے انسانیت، اسلام اور بین الاقوامی اصولوں کے سراسر خلاف ان احکامات کو نظر انداز کر دیا۔ گزشتہ چار برسوں میں ماہ رنگ بلوچ نامی ایک نوجوان لڑکی نے لاپتہ افراد کے لیے آواز بلند کی اور قانونی طریقے سے اسلام آباد میں احتجاج کرنا چاہا، مگر حکام نے اجازت دینے کے بجائے اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے لاپتہ کر دیا۔ جب بڑی تعداد میں بلوچ عوام ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ کھڑے ہو گئے تو حکمرانوں نے حق سننے کے بجائے خود حق مانگنے والی ماہ رنگ بلوچ کو بھی قید کر دیا، اور آج بھی وہ قید میں ہے۔
اگرچہ پاکستانی حکمران بلوچ علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں کا الزام کبھی افغانستان، کبھی ایران اور کبھی بھارت پر عائد کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کے الزامات لگاتے رہتے ہیں؛ جس کے نتیجے میں گزشتہ برس پاکستان اور ایران کے درمیان باہمی حملے بھی دیکھنے میں آئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران پاکستانی حکمرانوں نے بلوچ عوام کو مسلسل ظلم و ستم کا نشانہ بنایا، ان کے حقوق پامال کیے، اور اسلام، انسانیت اور عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کی۔ حکمرانوں نے ہمیشہ طاقت کے زور پر بلوچوں کی آواز دبانے کی کوشش کی، مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ حق کی آواز دباؤ سے خاموش نہیں ہوتی، بلکہ مزید طاقت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے۔

