Site icon المرصاد

خطے کی بدلتے حالات اور امارت اسلامیہ کی بہترین خارجہ پالیسی

امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ جارحانہ مشن میں ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ علی خامنائی کے قتل کے بعد خطے کی صورتحال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہو رہی ہے، کیونکہ اسرائیل نے امریکہ کے عسکری اور اسٹریٹجک تعاون سے ایران کے مختلف شہروں پر حملے کیے اور متعدد ایرانی عہدیداروں کو ہلاک و زخمی کیا۔ یہ وہ جنگ ہے جس کی گزشتہ ایک ماہ سے توقع کی جا رہی تھی، اور امریکہ پہلے ہی اپنے جنگی بحری بیڑے روانہ کر کے انہیں گھات میں کھڑا کر چکا تھا۔

اس کے برعکس ایران نے بھی ایک طاقتور ملک کی حیثیت سے جائز حملوں اور دفاع کے حق کو استعمال کیا اور نہ صرف اسرائیلی رجیم کے مختلف مراکز اور اہداف کو نشانہ بنایا بلکہ خطے میں امریکہ کے متعدد فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا، جن میں اب تک متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر اور عراق میں موجود اڈوں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے اس مشترکہ فوجی مشن، جس کے مقاصد دشمنانہ اور جارحانہ ہیں، پر اب تک اقوامِ متحدہ سے لے کر بڑی طاقتوں تک سب نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ صرف ایک معمولی بیان میں مذاکرات کے ذریعے امن اور مکالمے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں، لیکن کسی نے بھی واضح طور پر اس تشدد اور بربریت کی مذمت نہیں کی۔ امارت اسلامیہ افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے اپنے سرکاری مؤقف میں نہ صرف امریکہ کے ان اقدامات کی مذمت کی بلکہ مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

اس جنگ کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اس کے ساتھ یورپی یونین، روس کے خلاف یوکرین کی مالی، فوجی اور لاجسٹک مدد بھی کر رہے ہیں، اور روس کو ایک طویل جنگ میں دھکیل دیا گیا ہے جس میں بظاہر یوکرینی فوج لڑ رہی ہے، لیکن اسلحہ اور دیگر تکنیکی سہولیات امریکہ اور یورپی یونین فراہم کر رہے ہیں۔ یہ دونوں واقعات ایسے وقت میں پیش آ رہے ہیں جب افغانستان میں امارت اسلامیہ کے دوبارہ اقتدار کو تقریباً پانچ سال مکمل ہونے والے ہیں۔ اگر امارت اسلامیہ کی کامیاب خارجہ پالیسی اور قیادت نہ ہوتی تو بعید نہ تھا کہ ہمارا ملک بھی ان واقعات کے منفی اثرات کی زد میں آ جاتا اور افغان سرزمین کسی نہ کسی صورت استعمال کی جاتی۔

حالیہ واقعات میں پاکستانی فوجی رجیم کے ظالمانہ حملے بھی مختلف ناموں سے افغان سرزمین پر جاری ہیں، جو محض ایک علاقائی یا معمولی واقعہ نہیں بلکہ اسے علاقائی سطح پر ایک بین الاقوامی بحران کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ پاکستانی فوجی رجیم کھلے عام امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے شیطانی منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے اور ایک طرح سے ان کے احکامات بھی اس میں شامل ہیں۔ پاکستان کا خیال ہے کہ امارت اسلامیہ نے اس کے خلاف بھارت سے ہاتھ ملا رکھا ہے اور اپنی سرزمین پر اس کے مخالفین کو جگہ دے رکھی ہے، حالانکہ یہ ایک گمراہ کن اور غلط دعویٰ ہے۔

امارت اسلامیہ اپنی خارجہ پالیسی اور کیے گئے وعدوں کی بنیاد پر ہرگز اجازت نہیں دیتی کہ اس کی سرزمین بیرونی ممالک، خصوصاً ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال ہو۔ بلکہ یہ دراصل پاکستانی فوجی رجیم کی کمزوری چھپانے کی ایک کوشش ہے، جو اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر الزامات افغانستان پر ڈالنا چاہتی ہے۔

سیاسی امور کے تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ خطے کے ممالک اور وہاں جاری بحرانوں کے تناظر میں افغانستان پہلے سے کہیں بہتر پوزیشن میں ہے، کیونکہ داخلی جنگ ختم ہو چکی ہے، ملک ترقی اور استحکام کی طرف گامزن ہے، اور تقریباً نصف دہائی قبل ایک ایسی مضبوط حکومت قائم ہوئی ہے جو قومی بجٹ پر چلتی ہے اور اپنی خارجہ حکمتِ عملی اور سیاسی پالیسی کی تشکیل میں خودمختار ہے، جبکہ ماضی میں افغانستان کبھی بھی اس درجے کی خودمختاری سے بہرہ مند نہیں تھا۔

امارت اسلامیہ اس وقت تمام ہمسایہ اور خطے کے ممالک کے ساتھ متوازن اور مساوی تعلقات رکھتی ہے۔ یہ تعلقات معیشت پر مبنی اور قومی مفادات کے اصولوں پر استوار ہیں۔ دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ امارت اسلامیہ کی موجودہ خارجہ پالیسی محض مؤثر نہیں بلکہ نتیجہ خیز ہے، اور وہ کسی ایک فریق یا ملک پر اس حد تک انحصار نہیں کرتی کہ تعلقات کی خرابی کی صورت میں اسے نقصان اٹھانا پڑے۔ بلکہ دیگر ممالک اسی پالیسی پر اعتماد کرتے ہوئے امارت اسلامیہ کی جانب باہمی احترام پر مبنی بہتر تعلقات کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں تمام افغانوں، خصوصاً اہلِ نظر، تجزیہ کاروں اور دانشوروں کو چاہیے کہ ہر قسم کے نظریاتی اختلافات اور مسائل کو پسِ پشت ڈال کر اپنے ملک اور نظام کے تحفظ کے لیے امارت کے ساتھ کھڑے ہوں اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی بھی بیرونی طاقت یا ہمسایہ ملک کو دوبارہ ان کے مقدر سے کھیلنے کا موقع نہ دیں۔

ہم برادر اور اسلامی ملک ایران سمیت تمام اسلامی ممالک کے ساتھ ہمدردی اور اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ ہم ان کی آزادی اور استحکام کا احترام کرتے ہیں، لیکن اپنی قومی اور افغان ترجیحات کو بھی اہم سمجھتے ہیں، کیونکہ ہمارا ملک حال ہی میں ہمہ گیر امن اور استحکام سے مستفید ہوا ہے اور اب ماضی کے زخموں کے بہتر علاج کا وقت آ چکا ہے۔

Exit mobile version