Site icon المرصاد

خفیہ جنگ: فوجی رجیم کے عسکری ڈھانچے میں داعش کا کردار

داعش خراسان نے پہلی بار خیبر پختونخوا کے علاقے تیراہ سے اپنی موجودگی کا اعلان کیا، اور بعد ازاں ننگرہار میں ڈیورنڈ کی فرضی لائن کے قریبی اضلاع تک اپنا نفوذ بڑھایا۔ اس گروہ نے پھر داعش خراسان کے نام سے اپنی شاخ قائم کی اور اس کی قیادت پاکستانی شہری حافظ سعید خان کے سپرد کی۔

2019ء میں افغانستان سے داعش کے اہم مراکز ختم کر دیے گئے۔ فتح کے بعد امارت اسلامیہ افغانستان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے ساتھ ہی سکیورٹی آپریشنز کے دوران داعشی نیٹ ورکس کو بھی کچل دیا گیا۔ اس وقت داعش خراسان کا افغانستان میں کوئی مرکز یا قابلِ ذکر اثر و رسوخ موجود نہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ اس گروہ کے مراکز، مالی وسائل اور پراپیگنڈہ سرگرمیاں پاکستانی فوجی رجیم کی جانب سے منظم کی جاتی ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ داعش پاکستان کے عسکری ڈھانچے کے سائے تلے کیسے ابھرتی ہے؟ پاکستانی فوجی رجیم ہمیشہ دنیا کے سامنے خود کو دہشت گردی کے خلاف ایک شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن خطے کے حقائق ایک مختلف تصویر دکھاتے ہیں۔ فوجی رجیم کے زیرِ سایہ داعشی منصوبے کے خفیہ مراکز اور علاقائی کھیل کو بہت سے تجزیہ کار اور سیاسی مبصرین ایک منظم اور طویل المدتی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خطے میں داعش کی سرگرمیوں کا تسلسل، مالی معاونت، آمدورفت، وسیع پراپیگنڈہ اور آپریشنز کی تنظیم ایسی چیزیں نہیں جو مضبوط خفیہ اور لاجسٹک سپورٹ کے بغیر ممکن ہوں۔

اسی بنیاد پر کئی سوالات جنم لیتے ہیں: داعش زیادہ تر انہی علاقوں میں کیوں ظاہر ہوتی ہے جہاں فوجی رجیم کا گہرا سکیورٹی اور انٹیلی جنس اثر و رسوخ موجود ہے؟ اور کیوں اس گروہ کے بیشتر پراپیگنڈہ بیانیے اور کارروائیاں خطے کی اُن سیاسی و عسکری ترتیبات سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں جو فوجی رجیم کے اسٹریٹیجک مقاصد سے جڑی ہوئی ہیں؟ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس گروہ کو کبھی دباؤ کے آلے، کبھی خوف و ہراس پھیلانے کے ذریعے، اور کبھی علاقائی سیاسی تبدیلیوں پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی طرح، بعض اوقات داعش کے نام کو ایک مہرے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اصل کردار اور فوجی رجیم کے پسِ پردہ چہرے چھپے رہیں۔ ان کے مطابق اس حکمتِ عملی کا مقصد خطے کو مسلسل بدامنی، عدم استحکام اور نفسیاتی دباؤ کی کیفیت میں رکھنا ہے، تاکہ سیاسی اور عسکری ترتیبات کو فوجی رجیم کے مفادات کے مطابق چلایا جا سکے۔ اسی صورتحال نے داعش کو محض ایک مسلح گروہ نہیں بلکہ علاقائی خفیہ اور سیاسی کھیلوں کا ایک پیچیدہ منصوبہ بنا دیا ہے۔

پاکستانی فوجی رجیم کوشش کرتی ہے کہ عسکری اور میڈیا کے میدان میں داعشی عناصر کو اپنے اثر و نفوذ کے تحت مربوط اور ہم آہنگ ظاہر کرے، اور اپنے عسکری و ابلاغی ڈھانچے کے اندر داعش کے غیر مستقیم اور غیر متوازن کردار کو اس انداز میں پیش کرے جیسے یہ گروہ ان کا ایک اسٹریٹیجک اتحادی ہو۔ مبصرین کے مطابق اس کا مقصد بعد میں اسے دباؤ، اثر و رسوخ اور علاقائی اہداف کے حصول کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔

اسی وجہ سے داعش کے اکثر پراپیگنڈہ لٹریچر، میڈیا سرگرمیاں اور سماجی بیانیے پاکستانی فوجی رژیم کے جنگی مقاصد اور اسٹریٹیجک اہداف سے بڑی حد تک ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ہم آہنگی محض اتفاقیہ نہیں بلکہ علاقائی سیاسی اور انٹیلی جنس حکمت عملیوں کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔

نتیجہ:

مقصد اور اہداف یہ ہیں کہ داعش کو علاقائی اور عالمی سیاسی و انٹیلی جنس کھیلوں کے تناظر میں اس لیے پیدا کیا گیا تاکہ استعمار کے خلاف جاری تحریکوں کو کمزور اور مصروف رکھا جا سکے۔ اس گروہ کے زیادہ تر حملے علماء، مجاہدین اور عام شہریوں کے خلاف ہوئے ہیں، نہ کہ غیر ملکی افواج کے خلاف۔

پاکستانی فوجی رجیم کے ڈھانچوں میں علمائے دین، بااثر قبائلی و سماجی شخصیات اور قائدین کے اثر و رسوخ کو سیاسی اور اسٹریٹیجک مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک مستقل رجحان رہا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں یہ فوجی رجیم علماء، بااثر رہنماؤں اور شخصیات کے سماجی وقار، مذہبی اثر و رسوخ اور عوامی اعتماد سے فائدہ اٹھا کر رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

لیکن دوسرے مرحلے میں، جب سیاسی ترتیبات تبدیل ہو جائیں یا ضرورت پیش آئے، تو یہی علماء، بااثر شخصیات اور قائدین سیاسی رقابتوں کے دائرے میں مخالف سمتوں کے خلاف ایک پراپیگنڈہ ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، جس کا نتیجہ اکثر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچنے یا سیاسی تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے۔

اس قسم کا طرزِ عمل، جو انٹیلی جنس پالیسیوں کے پیچیدہ طریقۂ کار سے جڑا ہوا ہے، طویل عرصے سے جاری ہے، اور فوجی رجیم کی اس حکمتِ عملی میں متعدد نمایاں اور مؤثر دینی شخصیات، سیاسی و سماجی قائدین مختلف مسائل کا شکار ہوئے اور ختم کر دیے گئے۔

Exit mobile version