سلطان محمد فاتح کا مصر کے سلطان کے نام خط:
یہاں سلطان محمد فاتح کے خط سے وہ حصہ نقل کیا گیا ہے، جسے سلطان نے مصر کے سلطان «اینال» کے نام لکھا تھاو یہ خط احمد کورانی نے ترتیب دیا تھا:
ہمارے آباؤ اجداد کا طریقہ یہ رہا ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے ہیں اور ملامت کرنے والوں کی پرواہ نہ کرتے تھے۔ ہم بھی اسی روش پر قائم ہیں اور اسی مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل پیرا ہیں:
﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ﴾ (التوبہ: ۲۹)
ترجمہ: ’’ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘
اسی طرح ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی پیروی کرتے ہیں:
«من اغبرت قدماه في سبيل الله حرمه الله على النار»
ترجمہ: ’’جس کے قدم اللہ کی راہ میں خاک آلود ہوں، اللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کی آگ کو حرام فرما دیتا ہے۔‘‘
اسی سال اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی نعمتوں سے نوازا اور اپنے فضل و کرم سے سرفراز فرمایا۔ ہم نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام رکھا ہے اور دینی فریضہ ادا کرنے کے سلسلے میں اس کے اس حکم کی تعمیل کی ہے: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ﴾ (التوبہ: ۱۲۳)
ترجمہ: ’’ان کافروں سے جنگ کرو جو تمہارے قریب ہیں۔‘‘
ہم نے خشکی اور سمندر دونوں کے لشکروں کو تیار کیا اور اس شہر کو فتح کیا جو کفر و معاصی میں ڈوبا ہوا تھا اور جسے اب تک کوئی اسلامی لشکر فتح نہ کرسکا تھا۔ یہ شہر اپنے کفر پر فخر کرتا تھا۔ اس کا ایک حصہ خشکی پر اور دوسرا سمندر میں تھا۔ لیکن ہم نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے:
﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ﴾ (الانفال: ۶۰)
ترجمہ: ’’جہاں تک تم سے ہوسکے، دشمن کے مقابلے کے لیے قوت تیار رکھو۔‘‘
اپنی استطاعت کے مطابق جنگی سامان مہیا کیا؛ گولہ بارود، توپیں، سرنگیں کھودنے کے آلات، پتھر اور دیگر حربی ساز و سامان۔ اسی طرح ہم نے بحری بیڑے اور بڑے بڑے جہاز تیار کیے جو سمندری لڑائی میں پہاڑوں کی مانند دکھائی دیتے تھے۔
۸۵۷ ہجری ماہِ ربیع الاول کی ۲۶ تاریخ کو ہم اس شہر کے اطراف میں پہنچے۔ میں نے دل میں ہی کہا: یہ وقت کوشش اور جہاد کا ہے، ہمت کرو، یہی وہ تمنا ہے جس کی امید دل میں رکھی تھی۔ لیکن یہ کافر ہمیشہ کی طرح حق کی طرف بلائے جانے پر بھی تکبر اور انکار پر اَڑے رہے۔
ہم نے شہر کا محاصرہ کیا، جنگ ہوئی، وہ ہم سے لڑے اور ہم ان سے لڑے۔ کئی دن یہ معرکہ جاری رہا۔ پھر اللہ کی مدد آپہنچی۔ جو کام بندے کو دشوار لگتا ہے، وہ آسان ہوگیا۔ جمادی الاول کے مہینے کی منگل کی صبح ہم نے ایسا حملہ کیا گویا ستارے شیطانوں پر برس رہے ہوں۔ فاروقی عدل اور حیدری وار کے سبب یہ شہر عثمانیوں کے تابع ہوگیا۔ سورج کے مشرق سے مغرب تک پہنچنے سے پہلے ہی قرآنِ کریم کی یہ آیت ہمارے سامنے مجسم ہوگئی:
﴿سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ﴾ (القمر: ۴۵ ـ ۴۶)
ترجمہ: ’’یہ لشکر شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا، اصل وعدہ قیامت کے دن کا ہے، اور قیامت بڑی آفت اور سخت تر گھڑی ہے۔‘‘
ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان کا بادشاہ قتل ہوا اور اس کا سر تن سے جدا ہوا۔ وہ عاد و ثمود کی طرح ہلاک ہوئے۔ کچھ قتل ہوئے، کچھ قید ہوئے اور باقی سب مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے۔ مسلمان ان کے خزانوں پر قابض ہوگئے، یہاں تک کہ شمار کرنا بھی مشکل ہوگیا۔
اسی دن اہلِ ایمان خوش ہوئے کہ اللہ نے ان کی نصرت فرمائی۔ جب ہم نے ان ناپاک صلیبیوں پر غلبہ پایا تو کلیساؤں کو پاک کیا، صلیب پرستوں کو وہاں سے نکالا، بت خانوں کو مساجد میں بدل دیا، اس سرزمین کو اسلامی سکہ اور خطبے کے ذریعے عزت بخشی۔ ان کے تمام اعمال باطل ہوگئے اور اللہ کا حکم غالب آگیا۔
بعد ازاں سلطان محمد فاتح نے مکہ مکرمہ بھی ایک خط روانہ کیا جو مصر کے سلطان کے توسط سے وہاں پہنچا۔ مصر کے سلطان نے جواب میں سلطان محمد فاتح کو خط بھیجا اور قیمتی تحائف بھی روانہ کیے۔ یہ خط نہایت بلند پایہ ادبی اور فنی نثر کا شاہکار ہے جس میں عمدہ اشعار بھی شامل ہیں۔

