بری اور بحری فوج کی تیاری:
سلطان اورخان کے بعد عثمانیوں کے پاس ایک منظم اور مخصوص فوج موجود تھی۔ اُن کے بعد آنے والے ہر سلطان نے عسکری قوت کو مضبوط بنانے کی کوششیں کیں۔ خصوصاً سلطان محمد فاتح کو فوج کی تیاری، تربیت اور نظم و ضبط سے گہری دلچسپی تھی۔ اُن کے نزدیک فوج ہر ریاست کی بنیاد اور ستون کا درجہ رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے فوج کو نئے طرز پر منظم کیا اور ہر لشکر کے لیے ایک الگ سردار (آغا) مقرر کیا۔ فوج کا سپہ سالار براہِ راست وزیرِ اعظم سے احکام لیتا تھا۔ سلطان محمد فاتح نے وزیرِ اعظم کو دفاع کا وزیر بھی مقرر کر رکھا تھا۔
سلطان محمد فاتح کے دورِ حکومت میں عسکری طاقت پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی۔ انہوں نے مختلف عسکری صنعت گاہیں قائم کیں جہاں فوج کے لیے ضروری تمام اشیاء تیار کی جاتی تھیں، جیسے لباس، گھوڑوں کے زین اور دیگر ساز و سامان۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہتھیار سازی اور فوجی ساز و سامان کی فیکٹریاں بھی بنوائیں۔ اہم مقامات پر قلعے اور مضبوط دفاعی مورچے تعمیر کیے گئے۔ فوج گھڑ سواروں، پیادہ سپاہ، توپچیوں اور معاون دستوں پر مشتمل تھی، جن کی تربیت اور تنظیم پر خاص توجہ دی گئی تھی اور انہیں نئے ہتھیاروں سے لیس کیا گیا تھا۔
خدمت کے دستے کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ گولہ بارود، خوراک، جانوروں کی دیکھ بھال اور جنگی سامان کے ذخیرہ خانوں کی تیاری اور انہیں جنگی محاذ تک پہنچانے کے تمام مراحل سرانجام دیں۔
ایک اور دستہ، جسے لَغْمَجَه (Laghmacı Corps) کہا جاتا تھا، محاصرے میں گرفتار شہروں کے گرد زیرِ زمین بارودی سرنگوں کے ذریعے راستے بنانے پر مامور تھا۔ ایک دوسری جماعت کا کام فوج کے لیے پانی کا بندوبست کرنا تھا، اور وہ جنگ کے دوران مجاہدین تک پانی پہنچانے کی ذمہ دار تھی۔
سلطان محمد فاتح کے دور میں عسکری تعلیمی اداروں نے بے پناہ ترقی کی۔ ڈاکٹر، انجینئر، گھوڑوں کے معالج، علماء اور دیگر ماہرین مسلسل فارغ التحصیل ہو کر فوج کو فنی اور علمی مدد فراہم کرتے تھے۔ عثمانی اپنی مہارت، صنعت اور عمدہ تنظیم کے باعث عالمگیر شہرت رکھتے تھے۔
سلطان محمد فاتح کو بری اور بحری، دونوں افواج کی ترقی سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ بحری قوت کی اہمیت انہیں خصوصاً اس وقت پوری طرح معلوم ہوئی جب قسطنطنیہ کا محاصرہ جاری تھا۔ عثمانی بحری بیڑے نے محاصرہ مزید سخت کردیا تھا اور خشکی و بحر دونوں سمتوں سے فتح کے اسباب فراہم کر دیے تھے۔ قسطنطنیہ کی فتح کے بعد بحری طاقت کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی، اور تھوڑے ہی عرصے میں عثمانی بحری بیڑا بحیرۂ اسود اور بحیرۂ روم میں غیر معمولی شان سے ابھرا۔
اسمعیل سرھنگ کی کتاب ’’حقائق الأخبار عن دول البحار‘‘ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ سلطان محمد فاتح بحری افواج کی سرپرستی پر خاص توجہ دیتے تھے۔ حتیٰ کہ مؤرخین انہیں عثمانی بحری طاقت کا پہلا مؤسس قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے اُن ممالک کی مہارت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جو بحری جہاز سازی میں بلند مقام رکھتے تھے، جیسے اٹالوی جمہوریتیں؛ خصوصاً بلغاریا اور جینوا، جو اس زمانے کی عظیم بحری قوتیں تھیں۔ ایک مرتبہ جب انہوں نے سیوب میں ایک نہایت بڑی اور بے مثال کشتی دیکھی، تو حکم دیا کہ اسے گرفتار کر لیا جائے، اس کی طرز پر مزید کشتیاں تیار کی جائیں اور ضرورت پڑنے پر اسے بہتر انداز میں مرمت و بحالی فراہم کی جائے۔
جہاز سازی کے لیے ایک اعلیٰ ادارہ قائم تھا جو فوج ہی کا ایک حصہ شمار ہوتا تھا اور ’’طاقۃُ العَزب‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس میں قریب تین ہزار بحری سپاہی شامل تھے جن میں کپتان، جہاز ران اور ماہر ملاح موجود تھے۔
عدل و انصاف:
عوام کے درمیان عدل و انصاف کا قیام عثمانی سلاطین کی بنیادی ذمہ داریوں میں شمار ہوتا تھا۔ سلطان محمد فاتح بھی اپنے پیش رو بادشاہوں کی طرح پورے ملک میں انصاف کے نفاذ کے سخت خواہش مند تھے۔ عدل و انصاف کو یقینی بنانے کے لیے اُس دور میں مسیحی مذہبی علماء (روحانی پیشوا) مقرر کیے جاتے تھے جو سلطنت کے مختلف علاقوں کا سفر کرتے اور عدالتی حالات کی تحقیق کرتے۔ انہیں مخصوص فارم فراہم کیے جاتے جن میں تحقیق کا طریقۂ کار درج ہوتا، اور وہ مکمل آزادی کے ساتھ معائنے اور تفتیش انجام دیتے، بغیر اس کے کہ ان پر کسی قسم کی پابندی عائد کی جائے۔

