Site icon المرصاد

خلافت عثمانیہ؛ تاریخ کے اوراق سے! اڑتالیسویں قسط

پوپ دوم بیوس نے اپنی سیاسی قوت اور مہارت کے ذریعے دونوں پہلوؤں پر بھرپور توجہ دی۔ ایک طرف اس نے یہ کوشش کی کہ عثمانی سلطنت کو عیسائیت قبول کرنے پر آمادہ کرے۔ اس مقصد کے لیے اس نے تحائف بھیجنے کے بجائے سلطان کو ایک خط لکھا، جس میں اس نے امید ظاہر کی کہ سلطان عیسائیت اختیار کرلے۔ جیسے اس نے اس سے قبل قسطنطین اور کلوویس کی حمایت کی تھی، اسی طرح اس نے سلطان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ عیسائیت قبول کرے تو پوپ اس کے گناہ معاف کر دے گا اور اپنی برکتوں سے نوازے گا۔ حتیٰ کہ پوپ نے یہ تک کہہ دیا کہ اگر سلطان اخلاص کے ساتھ عیسائیت اختیار کرے گا تو اسے جنت کے پروانے عطا کیے جائیں گے۔

لیکن جب یہ منصوبہ ناکام ہوا تو پوپ نے نئے منصوبے بنانے کی کوشش شروع کی۔ اس نے سلطان کو دھمکیاں دیں، اسے خوفزدہ کرنے کی تدبیر کی اور اپنی قوت کے استعمال کی باتیں کیں۔ مگر اس دوسری سازش کا انجام بھی جلد سامنے آگیا؛ صلیبی لشکر کو شکست ہوئی اور وہ حملہ جس کی قیادت ہونیاد (ہنگری کا سردار) کر رہا تھا، نہایت عبرتناک انجام سے دوچار ہوا۔

تاہم قسطنطنیہ کی فتح کا اثر مشرق کی اسلامی سلطنتوں پر بے حد گہرا ہوا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایشیا اور افریقہ کے مسلمانوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ یہ کامیابی ان کے آباؤ اجداد کا وہ خواب تھا، جس کی تعبیر کے لیے وہ مدتوں سے تڑپ رہے تھے۔ اب صدیوں کے بعد انہوں نے اس خواب کو اپنی آنکھوں سے حقیقت بنتے دیکھا۔ سلطان محمد فاتح نے مصر، حجاز، فارس اور ہندوستان کی اسلامی حکومتوں کو خطوط ارسال کیے اور اس عظیم فتح کی انہیں خوشخبری دی۔

اسلامی ممالک میں اس عظیم کامیابی کا ذکر منبروں سے کیا گیا، شکرانے کے نفل پڑھے گئے، گھروں اور دکانوں کو آراستہ کیا گیا، گلیوں اور صحنوں کی دیواروں پر مختلف رنگوں سے اس فتح کی خوشخبری لکھی گئی۔

’’بدائع الزہور‘‘ کے مصنف ابن ایاس اس واقعے کے بارے میں لکھتے ہیں:
جب سلطان کا نمائندہ یہ خوشخبری لے کر مصر پہنچا تو قلعے میں خوشی کے نقارے بجائے گئے، قاہرہ کی گلیاں سجادی گئیں اور یہ خبر عام کر دی گئی۔ پھر سلطان نے امیر آخور عثمان کو اس عظیم کامیابی کی مبارک باد کے لیے روانہ کیا۔

مورخ ابوالمحاسن بن تغری بردی عوام کے جوش اور دل کی کیفیات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں:
’’جب سلطان کا نمائندہ تحائف کے ساتھ آیا اور بہنداروم کے سردار کے ساتھ کچھ قیدی بھی لے آیا اور مصر پہنچا تو میں نے کہا: الحمد للہ! یہ عظیم کامیابی صرف اللہ جل جلالہ کا فضل ہے۔ نمائندہ آیا تو اس کے ساتھ قسطنطنیہ کے دو رئیس قیدی بنا کر لائے گئے تھے۔ جب وہ مصر کے سلطان اینال کے حضور پیش ہوا تو یہ دونوں قیدی اس کے ساتھ تھے۔‘‘

یہ دونوں قسطنطنیہ کے رہائشی تھے، قسطنطنیہ میں ایک عظیم گرجا موجود تھا۔ سلطان انتہائی مسرور ہوا اور عوام کو اس فتح کی خوشخبری دی۔ جشن منائے گئے، نقارے بجائے گئے، شہر کو دلہن کی طرح سجایا گیا۔ نمائندہ ان دونوں قیدیوں کے ساتھ ۲۵ شوال، جو پیر کا دن تھا، قاہرہ کی مختلف شاہراہوں سے گزرتا ہوا قلعے میں داخل ہوا۔ لوگ اپنے گھروں اور دکانوں کو سجا چکے تھے اور سلطان نے قلعۂ کوہ کے شاہی صحن میں ایک عظیم الشان جشن کی تیاری کر رکھی تھی۔

ابن تغری قسطنطنیہ کی فتح کے موقع پر قاہرہ کے عوام کی خوشیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
پورے عالمِ اسلام میں جشن منانے کی تیاریاں کی جارہی تھیں۔ سلطان محمد فاتح نے فتح کی خوشخبری کے خطوط مختلف اسلامی سلاطین کو روانہ کیے، جیسے مصر کے سلطان، ایران کے بادشاہ، مکہ کے شریف، کرمان کے امیر اور دیگر ممالک کے حکمران۔ اس کے علاوہ بعض عیسائی ممالک کو بھی خطوط ارسال کیے، مثلاً افلاق، ہنگری، بوسنیا، سربیا، البانیہ اور دیگر ہمسایہ سلطنتیں۔

Exit mobile version