Site icon المرصاد

خلافت عثمانیہ؛ تاریخ کے اوراق سے! باونویں قسط

اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا اور عالم ہے؛ زمین و آسمان میں کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ وہ انسان کے چھپے اور ظاہری اعمال سے پوری طرح آگاہ ہے۔

*وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا (سورہ الطلاق: 12)*
بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اپنے علم میں گھیر رکھا ہے۔

اللہ تعالیٰ انسانوں کے اعمال کو فرشتوں کے ذریعے ایک ایسی کتاب میں درج کرتا ہے جس میں ہر بڑا اور چھوٹا عمل حساب سے لکھا جاتا ہے، اور مناسب وقت پر اسے ظاہر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے اعمال کے ذریعے آزماتا ہے۔ یہ آزمائش ایسی چیزوں میں ہوتی ہے جو انسان کو پسند نہ ہوں، لیکن انہی آزمائشوں سے انسان کا اصل جوہر سامنے آتا ہے کہ کون اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہوتا ہے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے، اور کون بے صبری کرتا ہے اور سعادت سے محروم رہ جاتا ہے۔

جو شخص ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے، اس کے احکامات کو مانتا ہے اور صرف اسی کی پناہ مانگتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے توفیق اور مدد عطا فرماتا ہے۔

*سلطان محمد فاتح کی اہم خصوصیات*

اس مطالعہ سے ہمیں سلطان محمد فاتح کی قیادت اور شخصیت کی کچھ اہم خصوصیات معلوم ہوتی ہیں، جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

*1: احتیاط*
سلطان محمد فاتح کی شخصیت کا یہ پہلو اس وقت نمایاں ہوا جب انہوں نے محسوس کیا کہ عثمانی بحریہ کے سربراہ بالطہ اوغلی سے قسطنطنیہ کے محاصرے میں کوئی غلطی ہوئی یا انہوں نے اپنے کاموں میں سستی کی۔ سلطان محمد فاتح نے انہیں پیغام بھیجا کہ:

"یا تو یہ جہاز قبضے میں کرو، یا انہیں تباہ کرو، اور اگر یہ کام نہ کر سکے تو زندہ واپس نہ آنا!”

جب بالطہ اوغلی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے تو سلطان نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ حمزه پاشا کو بحریہ کا سربراہ مقرر کیا۔

*2: بہادری اور دلیری*
سلطان محمد فاتح ہمیشہ جنگوں میں خود حصہ لیتے تھے اور اپنی تلوار سے لڑتے تھے۔ بلقان کی ایک جنگ میں بوغدان کے حاکم اسٹیفن نے عثمانی لشکر کا مقابلہ کیا۔ اسٹیفن اپنے لشکر کے ساتھ درختوں اور جھاڑیوں میں چھپا ہوا تھا۔ جب اسلامی لشکر وہاں پہنچا تو انہوں نے درختوں کے درمیان سے توپوں کے ذریعے حملہ کیا اور اسلامی لشکر کو نقصان پہنچایا، قریب تھا کہ شکست ہو جاتی، لیکن سلطان نے اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے تیزی سے خطرناک علاقے سے نکل کر فوج کے سالار محمد طرابزونی سے کہا:

"اے غازیوں اور مجاہدوں! اللہ جل جلالہ کے سپاہی بنو اور اپنا اسلامی غیرت ظاہر کرو!”

سلطان نے اپنی ڈھال اٹھائی، تلوار نکالی، گھوڑے سے اتر کر دشمن کی طرف بڑھے۔ فوجی بھی ان کے پیچھے ہو لیے، جنگ کی اور دشمن کو شکست دی۔ یہ جنگ صبح سے شروع ہوئی اور دوپہر تک جاری رہی۔ عثمانیوں نے بوغدان کی فوج کو شکست دی، اسٹیفن فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، اور مسلمانوں نے بہت سارا مال غنیمت حاصل کیا۔

*3: علم و دانشمندی*
سلطان محمد فاتح کی دانشمندی کا واضح ثبوت وہ منصوبہ تھا جو انہوں نے قسطنطنیہ کے محاصرے کے دوران بنایا۔ انہوں نے اپنے بحری جہاز بشکطاش سے زرین شاخ تک خشکی کے راستے منتقل کیے۔ یہ ایک مشکل راستہ تھا جس میں بلند پہاڑ اور گہری کھائیاں تھیں، لیکن سلطان نے فیصلہ کیا اور کام شروع کیا۔

راستے پر لکڑیاں بچھائی گئیں، ان پر تیل اور چکنائی ڈالی گئی تاکہ جہاز آسانی سے پھسل سکیں۔ بہت کم وقت میں یہ عظیم کارنامہ مکمل ہوا۔ یہ ان کے گہرے تدبر، تیز ذہن اور مضبوط تدبیر کی عکاسی کرتا ہے۔

*4: عزم و ہمت*
سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کے بادشاہ قسطنطین کو خط لکھا اور مطالبہ کیا کہ وہ شہر بغیر خونریزی کے حوالے کر دے۔ انہوں نے لکھا:

"اگر تم شہر ہمارے حوالے کر دو تو کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ جو رہنا چاہے وہ آزاد ہے، اور جو جانا چاہے اسے روکا نہیں جائے گا۔”

لیکن قسطنطین نے شہر حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ سلطان نے پختہ عزم کے ساتھ کہا: "ٹھیک ہے! قریب ہے کہ یا تو میرا تخت قسطنطنیہ میں ہوگا، یا میری قبر اس میں!”

جب لکڑیوں سے بنا حرکت پذیر قلعہ بازنطینیوں نے جلا دیا تو سلطان نے ہمت نہیں ہاری اور کہا: "کل ہم اس جیسے چار اور قلعے بنائیں گے!”

یہ بات ان کے مضبوط عزم، ہمت اور اپنے ہدف کی طرف نہ تھکنے والے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔

Exit mobile version